افغانستان کا منفی رویہ

پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔۔۔


Editorial January 14, 2017
پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے - فوٹو: فائل

ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور نہ ہی مخالفانہ بیان بازی کے سلسلے کا حصہ بنے گا اورہم دوسروں سے بھی ایسی ہی توقعات رکھتے ہیں۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ہم دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے تعاون کی پالیسی پر گامزن ہیں، ہم افغانستان میں امن و اعتدال چاہتے ہیں اور بہتر بارڈر مینجمنٹ میں مصروف ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر ہمارے فوجی آپریشن کے نتائج کو دیکھا جا سکتا ہے، امریکی کمانڈروں اور پارلیمینٹرینز نے ہماری ان کاوشوں کی تعریف کی ہے لیکن افغانستان میں قیام امن کے لیے ہماری سنجیدہ کوششوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بہت سی دہشت گرد تنظیموں نے متاثر کررکھا ہے 'عدم استحکام نے وہاں حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان، داعش، جماعت الاحرار اور القاعدہ کو جگہ دی اور چند غیرملکی عناصر اس تمام تر صورتحال کا فائدہ اٹھار رہے ہیں اور افغان سرزمین کو پاکستان سمیت خطے بھر کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

پاکستان کو را اور افغان خفیہ ایجنسی کے گٹھ جوڑ اور سرگرمیوں پر تحفظات ہیں، دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے دعوے صرف بیانات ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ کابل میں پاکستانی سفارتخانے پردھاوابول دیاگیا۔

افغانستان کی حکومت بڑے تسلسل سے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہی ہے حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کی حکومت اور افغان نیشنل آرمی کا کردار معمولی نوعیت کا ہے۔ افغانستان کی حکومت کی کمزوری کے باعث ہی وہاں مختلف قسم کے دہشت گرد گروہ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں' اگر کوئی جنگجو افغانستان کے اندر برسرپیکار ہے تو اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں افغانستان میں کئی دھماکے ہوئے۔ ان میں کابل میں افغان پارلیمنٹ دھماکا بھی شامل ہے۔ اس دھماکے کی پاکستان نے مذمت بھی کی۔ افغانستان میں اس کے خلاف احتجاج کیا گیا،اس احتجاج میں شامل شر پسند جتھے نے پاکستانی سفارت خانے میں گھسنے اور توڑ پھوڑ کی کوشش کی،اخباری اطلاعات کے مطابق احتجاجی مظاہرے کی قیادت افغان خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے سابق چیف امراللہ کررہے تھے، مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینر اٹھارکھے تھے جن پر پاکستان مخالف نعرے درج تھے۔

افغان پارلیمنٹ کے قریب خود کش حملے اور قندھار میں دھماکوں کے نتیجے میں 39 افراد مارے گئے تھے جب کہ متحدہ عرب امارات کے سفیر سمیت 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ افغانستان کی حکومت کو سب سے پہلے اس دھماکے کی تحقیقات کرنی چاہئیں تھیں ' جب تک تحقیقات نہیں کی جاتیں افغانستان کی حکومت کو کسی جانب انگلی نہیں اٹھانی چاہیے۔

پاکستان میں سفارتخانے میں مظاہرین کا گھسنا ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے بلکہ مظاہرین کو ہلہ شیری دی۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے افغان حکام سے سفارت کاروں اورسفارت خانے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ بالکل جائز اور درست ہے،پاکستان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ افغانستان کی صورتحال کا ذمے دار کسی دوسرے ملک کو ٹھہرانا مناسب نہیں ہے بلکہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے 'لیکن افغانستان میں پاکستان کے اس کردار کو کبھی مثبت انداز میں نہیں لیا۔ پاکستان اگر پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی اقدام کرتا ہے تو افغانستان اس کی بھی مخالفت کرتا ہے حالانکہ سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی آمد کو روکنے کے لیے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان دہشت گردی کرنے والے گروہ افغانستان میں پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔

افغانستان نے ان گروہوں کے خاتمے کے لیے کبھی کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ اس کے برعکس افغانستان میں بھارت کے خفیہ ادارے سرگرم ہیں۔ افغان حکومت نے اس حوالے سے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ اگر پاکستان افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی بات کرتا ہے تو افغان حکومت اس پر بھی تیار نہیں ہوتی۔ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے' اس کا ذمے دار افغانستان خود ہے یا وہاں موجود اتحادی افواج کے کرتا دھرتا۔

افغانستان کے اندر اگر طالبان لڑ رہے ہیں تو ان کے ساتھ لڑنا یا معاملات طے کرنا افغانستان کی حکومت کا کام ہے' پاکستان اس سلسلے میں اتنا کچھ ہی کر سکتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔لہٰذا افغانستان کو اپنے اندرونی حالات کا ذمے دار کسی دوسرے ملک کو ٹھہرانے کی پالیسی ترک کرنی چاہیے اور پاکستان کے خلاف کے ساتھ دشمنی کا رویہ ترک کرنا چاہیے۔