کراچی میں فائرنگپیش امام سمیت 5 افراد ہلاک8 زخمی

مقتول قاری رفیق کالعدم سپاہ صحابہ کے کراچی کے صدر تھے، ترجمان اہلسنت والجماعت


Staff Reporter December 31, 2012
مقتول قاری رفیق کالعدم سپاہ صحابہ کے کراچی کے صدر تھے، ترجمان اہلسنت والجماعت۔ فوٹو: فائل

شہر میں فائرنگ کے واقعات میں جامع مسجد عالمگیر کے پیش امام سمیت5 افراد ہلاک اور8افراد زخمی ہوگئے ۔

فیروزآباد تھانے کی حدود شہید ملت روڈ پر واقع ہل پارک کے قریب2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے کار نمبرCK-5055 پر اندھا دھند فائرنگ کردی اور موقع پر سے فرار ہوگئے ، مسلح ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں جامع مسجد عالمگیر بہادر آباد کے پیش امام 60 سالہ قاری رفیق الخلیل ولد سجاول موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کا ڈرائیور غلام رسول فائرنگ سے محفوظ رہا ، قاری محمد رفیق کی میت پہلے لیاقت نیشنل اسپتال پہنچائی گئی بعدازاں میت پولیس کارروائی کے لیے جناح اسپتال لائی گئی۔

ایس ایچ او فیروز آباد ہمایوخان نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول قاری رفیق کو سینے پر 5 گولیاں لگیں ملزمان نے واردات میں 9 ایم ایم پستول سے استعمال کیا ہے، مقتول قاری رفیق کے بیٹے فاروق رفیق نے بتایا کہ ان کے والد گزشتہ 32 سال سے جامع مسجد عالمگیر بہادر آباد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے ان کا آبائی تعلق کبیر والا سے تھا ، وہ 7 بھائی بہن ہیں، ان کے والد پر ایک بار پہلے بھی قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اس وقت ان کے والد کی گردن میں گولی لگی تھی ، بعدازاں قاری رفیق کی میت جامع مسجد عالمگیر پہنچائی گئی،اہلسنت والجماعت کے ترجمان مولانا قاری سعید نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول قاری رفیق ادارۃ الفرقان کے مہتمم تھے اور کالعدم سپاہ صحابہ کے کراچی کے صدر تھے۔

گارڈن کے علاقے شو مارکیٹ نشتر روڈ پر فاطمہ جناح کالج کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے25 سالہ ذاکر حسین ولد وزیر حسین زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر سول اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ، پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں مقتول کا دوست محمد عادل ولد محمد احمد بلوچ بھی 4 گولیاں لگنے سے زخمی ہواجسے لیاری جنرل اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ، سول اسپتال کے ایم ایل او آفتاب چنڑ نے بتایا کہ متوفی کی جیب میں ایرانی مٹھائی شیلاج تھی لوگ سمجھے کے مقتول کی جیب میں دستی بم ہے اور اس وجہ سے ایمرجنسی میں بھگدڑ مچ گئی، گارڈن تھانہ پولیس کے مطابق مقتول ملیر 15کے علاقے آنسو گوٹھ کا رہائشی ہے اور مقتول کی آنسو گوٹھ میں سنیٹری کی دکان ہے ۔

11

بلدیہ ٹائون کے علاقے گلشن غازی جدہ ہزار کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 30 سالہ شیر خان ولد حبیب الرحمن ہلاک ہو گیا جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال پہنچائی گئی ، موچکو پولیس کے مطابق مقتول کا آبائی تعلق ہزارہ سے ہے واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ نیو ٹائون کے علاقے پرانی سبزی منڈی قریب اے ون سینٹر میں واقع بسمہ اللہ ورکشاپ پر 2 سائیکل سوار ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ورکشاپ کے مالک 25 سالہ شہادت سمیت 5 افراد 25 سالہ نسیم ولد 22 سالہ سعد اللہ خان ، 20 سالہ وسیم احمد اور ندیم منشی نامی زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا ، ڈی ایس پی نیوٹائون ناصر لودھی نے بتایا کہ زخمی ہونے ورکشاپ کے مالک کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے۔

الفلاح تھانے کی حدودملیر ملت ٹائون ٹی این ٹی رائونڈ کے قریب ڈکیتی میںمزاحمت پر25 سالہ عاقب جاوید ولد محمد یوسف زخمی ہو گیا جسے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔ نارتھ کراچی میں فائرنگ سے30 سالہ شفیق ولد عزیز الرحمٰن زخمی ہو گیا جیسے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ۔ملیر15مسلم آباد چٹائی گراؤنڈ کے قریب مکان نمبرM/255 میں واقع شیخ کریانہ اسٹور میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے50 سالہ شیخ صفدر ولد شیخ افضل زخمی ہو گیا جسے اس کا بھائی شیخ سرور اسپتال لے جا رہا تھا کہ راستے میں خون زیادہ بہہ جانے کے باعث وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ شارع نورجہاں تھانے کی حدود کٹی پہاری کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شبیر ولد ناظم اور اسی علاقے میں عبد اﷲ کالج کے قریب فائرنگ سے28سالہ ساجد زخمی ہو گیا۔

کلری کے علاقے لیاری مرزا آدم خان روڈ آگرہ تاج کالونی نورانی مسجد کے قریب شادی کے تقریب میں فائرنگ سے مسلم لیگ (ن) کا سینئر کارکن شاہد رانا ولد سلیم رانا زخمی ہو گیا۔ سائٹ کے علاقے میٹروول قبرستان کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 25 سالہ امیر حمزہ ولد میر زمان خان زخمی ہو گیا۔ نیو کراچی کے علاقے حسین آباد مل ایریا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 35 سالہ نور افضل ولد شاہ ولی خان زخمی ہو گیا۔صدر تھانے کی حدود شارع فیصل آئشہ باوانی کالج کے قریب بزرٹہ لائن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے48 سالہ عبد الستار زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ، مقتول کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے بتایا جاتاہے ۔