بھارت کے لیے چشم کشا انتباہ

پاکستان در حقیقت عالمی برادری کو خطے کے امن و استحکام کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے۔۔۔


Editorial January 17, 2017
پاکستان در حقیقت عالمی برادری کو خطے کے امن و استحکام کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے ۔ فوٹو:فائل

سینیٹ نے بھارتی وزیراعظم مودی کے پاکستان مخالف بیان کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی جب کہ سینیٹر سحر کامران نے قرارداد پیش کی کہ '' یہ ایوان بھارت میں حالیہ منعقد ہونے والی برکس کانفرنس کے دوران جس میں مودی نے دہشتگردی کو پاکستان سے منسوب کیا ، بھارت اور اسرائیل کے درمیان یکسانیت پیدا کی اور کشمیر و فلسطین کے درمیان مشابہت کی طرف اشارہ کیا، کی مذمت کرتا ہے اور ایوان اس بے بنیاد پروپیگنڈا پر بین الاقوامی برادری کے ردعمل کو سراہتا ہے۔

بھارت کو اس کے سرجیکل اسٹرائیک کا مزہ چکھانے کا برجستہ جواب وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے خوب دیا ہے ، انھوں نے کہا کہ ارکان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے حکومت کے بھی یہی خیالات ہیں، ہماری افواج نے جس طرح دہشتگردی کا خاتمہ کیا ہے اس کو عالمی برادری بھی سراہتی ہے، بھارت مسئلہ کشمیر اور آپریشن ضرب عضب میں پاکستان کی کامیابیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت کشیدگی برقرار رکھنا چاہتا ہے' اسی لیے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اور سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے رچا رہا ہے' لیکن اگر واقعی اصل میں ایسی کوئی کوشش کی گئی تو بھارت کو ایسا جواب دیں گے کہ وہ جعلی اسٹرائیک کا بھی نہیں سوچے گا۔

المیہ یہ ہے کہ کشمیر اور دیگر اہم دیرینہ ایشوز پر بات چیت کے بجائے مودی حکومت نے جارحانہ اور جنگجویانہ طرز عمل کو وتیرہ بنا لیا ہے جس پر پاکستان سے زیادہ خود بھارتی میڈیا اور اس کے سنجیدہ دانشوروں کو تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ ''ہندوستان ٹائمز'' نے اپنے اداریے میں مودی سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے، اخبار نے انڈین فورسز میں پائی جانے والی بے چینی اور فوجی افسروں کے غیر انسانی رویے اور سپاہیوں سے روا رکھے جانے والے غذائی سلوک ، فوجی افسران کی بیگمات کے حکم پر جوتے پالش کرنے اور تختہ مشق بنانے کی سنگین شکایات کے مودی تک پہنچ جانے کا سختی سے نوٹس لیا اور مسلح افواج کے نوآبادیاتی حفظ مراتب کے بطن سے اٹھنے والے اضطراب کی روک تھام کی نشاندہی کی، ادھر بھارتی قلم کار اور کانگریس کمیٹی اور نیشنلسٹ میڈیا پینلسٹ کی چیف ترجمان شرمستا مکرجی نے مودی کی آمد کے حوالہ سے کہا کہ 20 مئی2014 تاریخی دن تھا جب بطور وزیراعظم مودی نے ازراہ تقدس واحترام پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر پیشانی جھکائی اور پارلیمان کو جمہوریت کا مندر قراردیا مگر اپنے اڑھائی سال کے دور حکومت میں اسی مندر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یہ تبصرہ گھر کی ایک بھیدی کا ہے۔

سینیٹ میں کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پربھارت کی مسلسل خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کی تحریک پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، سسی پلیجو، کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی اورمحسن عزیز نے کہا کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام کا خواہاں ہے اورمسئلہ کشمیرسے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے، اقوام متحدہ ملٹری آبزرور گروپ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کسی صورت بھی خطے میں بھارت کی حکمرانی کو برداشت نہیں کریگا ۔

ادھر اقوام متحدہ نے سال رواں میں ہندوستان میں بے روزگاری کی شرح میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے اور سماجی عدم مساوات کی صورت حال کے خراب ہونے سے خبردار کیا ہے جب کہ بھارتی رویے سے بیزار چین نے کہا ہے نیوکلیئر سپلائر گروپ کی ممبرشپ کوئی الوداعی تحفہ نہیں جو امریکا بھارت کو دے ۔یہ اس بھارتی حکومت کے لیے انتباہ اور چشم کشا حقائق ہیں جن سے بھارتی حکام غفلت برت رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائی کی ہے جس کے تحت ضلع اسلام آباد کے علاقے پہلگام میں مزید 3کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں مزید تین بے گناہ نوجوانوں کو شہید کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ایک بیان میں اقوام متحدہ اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی خونریزی بند کرائے۔پاکستان در حقیقت عالمی برادری کو خطے کے امن و استحکام کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے تاہم عالمی قوتوں کو برصغیر کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال اور بھارت امریکا تعلقات کے تھیٹر میں آیندہ مودی، ٹرمپ شو پر بھی دینی چاہیے، بھارت کو مودی کی شکل میں ایک ٹرمپ پہلے ہی ملا ہے جو بھارت کو داخلی خلفشار میں گھسیٹ چکا ہے اور خارجی سیاق و سباق میں جنگی مہم جوئی، آبی جارحیت، مداخلت اور دہشتگردی و تخریب کاری کی آڑ میں پاکستان مخالف ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے جب کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو صدارت کا حلف اٹھا رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مودی ، ٹرمپ دوستی کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔