شرح سود میں تاریخی کمی کے باوجود سرکاری بینک کے قرضے مہنگے

مالی سال کی پہلی سہ ماہی کےاختتام پربینکوں ومالیاتی اداروں کی ہاؤس فنانسنگ پر اوسط مارک اپ 0.9فیصدکمی سے9.8فیصد رہ گیا


Business Reporter January 24, 2017
سرکاری بینکوں کی شرح سود 1.4فیصد بڑھ کر10.6 فیصد ہوگئی، ایس بی پی۔ فوٹو: فائل

شرح سود میں تاریخی کمی کے باوجود سرکاری بینک عوام کو مکانات کی تعمیر، رہائش اور مرمت کے لیے سب سے مہنگے قرضے جاری کررہے ہیں، 1سال کے عرصے میں نجی و اسلامی بینکوں اور ایچ بی ایف سی کے مارک اپ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس پبلک سیکٹر بینکوں کے مارک اپ میں اضافہ عمل میں آیا ہے، شرح سود میں تاریخی کمی کے بعد مکانات کی خریداری، تعمیر اور مرمت کے لیے جاری کردہ قرضوں (ہاؤسنگ فنانس) پر شرح سود میں بھی کمی ہورہی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر2016کو سہ ماہی کے اختتام پر بینکوں، مالیاتی اداروں، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی ہاؤسنگ فنانس پر اوسط مارک اپ 9.8فیصد کی سطح پر آ گیا ہے، ہاؤسنگ فنانس کی اوسط شرح سود میں ستمبر 2015کے مقابلے میں 900بیسس پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔ ستمبر 2015 میں ہاؤسنگ فنانس پر اوسط شرح سود 10.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں پبلک سیکٹر بینک اب بھی نجی اور اسلامی بینکوں اور ایچ بی ایف سی سے زیادہ مارک اپ پر ہاؤسنگ فنانس جاری کررہے ہیں، ستمبر 2016کے اختتام پر پبلک سیکٹر بینکوں کی شرح سود 10.6 فیصد رہی، حیرت انگیز طور پر ستمبر 2015سے ستمبر 2016کے دوران نجی اور اسلامی بینکوں اور ایچ بی ایف سی کی شرح سود میں بالترتیب 900بیسس پوائنٹس، اسلامی بینکوں اور ایچ بی ایف سی کے اوسط مارک اپ ریٹ میں 1.1فیصد کی کمی ہوئی تاہم پبلک سیکٹر بینکس کے مارک اپ میں1.4فیصد اضافہ ہوا۔ ستمبر 2015میں پبلک سیکٹر کے بینکوں کا ہاؤسنگ فنانس پر مارک اپ ریٹ 9.2فیصد تھا جو ستمبر 2016تک بڑھ کر 10.6فیصد پر آ گیا، نجی بینکوں کا مارک اپ ریٹ ستمبر 2015میں 9.4فیصد تھا جو ستمبر 2016میں کم ہوکر 8.5فیصد کی سطح پر آگیا، اسلامی بینک ستمبر 2015میں 11.6 فیصد مارک اپ پر ہاؤسنگ فنانس جاری کررہے تھے جو ستمبر 2016میں کم ہوکر 10.5فیصد کی سطح پر آگیا ہے، ایچ بی ایف سی کے قرضوں پر شرح سود 11فیصد سے کم ہوکر 9.9فیصد پر آ چکی ہے۔

مقبول خبریں