آئی گاٹ اٹ

شیطان ہمیشہ جوتوں کے اندر رہائش پذیر ہوتا ہے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq January 25, 2017
[email protected]

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے، ہمارے دوستوں کو خوشی اور دشمنوں کو بہت دکھ ہو گا کہ ہماری کھوپڑی کے اندربقول ''منا بھائی'' جو ایک ''کیمیکل لوچا'' پیدا ہوا تھا اور روز بروز سوئس بینکوں میں پاکستانی لیڈروں کے اکاؤنٹس کی طرح بڑھ رہا تھا وہ بالکل ہی مٹ گیا ،لیڈروں کی زبان اور سرکاری افسروں کے ضمیر کی طرح اس کانشان بھی باقی نہیں رہا ہے۔

ہماری کھوپڑی کے اندر کیمیکل لوچا یہ تھا کہ آخر یہ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی جب ملک کے اندرہوتے ہیں تو کام بالکل بھی نہیں کرتے، ڈھونڈ ڈھونڈ کر بلکہ اکثر تو زرکثیر صرف کر کے اور سیاسی لیڈروںکے مخالفانہ تعاون سے ایسی نوکریاں حاصل کرتے ہیں جن میں کام نہ کرنے کو بہترین کارکردگی مانا جاتا ہے اور کام کو کمی کمین لوگوں کا کام سمجھ کر دس فٹ ڈنڈے سے چھونے کا روا دار بھی نہیں ہوتا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تقریباً سارے محکمے اور ادارے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خسارے میں جارہے ہیں بلکہ ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ جس وزیر کا محکمہ ابھی تک شرف خسارہ حاصل نہیں کر سکا ہے یا خسارے میں پیچھے ہے اسے طعنے دیے جاتے ہیں کہ تم کیسے وزیر یا افسر اعلیٰ یا انچارج ہو کہ ابھی تک ایک بھی محکمے اور ادارے کو ''شرف خسارہ'' نہیں دلا سکے، ہمیں دیکھو چند ہی مہینے میں ہم نے اپنے محکموں میں اپنے نااہل ووٹر یا نوٹر ڈال کرخسارے میں ڈال لیا ہے بلکہ ان میں زیادہ تر وزیروں کوخسارے کا چیمپئن کہا جاتا ہے۔

سنا ہے ایک وزیر نے عذر پیش کرتے ہوئے اپنے ایک سینئر کو بتایا کہ میں کروں بھی تو کیا کروں کہ جتنے میرے نااہل رشتہ دار پھر ان رشتے داروں کے رشتہ دار اور پھر ان کے رشتہ دار تھے وہ تو سب میں نے اپنے محکمے میں کھپا دیے لیکن میرا یہ کم بخت محکمہ ہے کہ خسارے میں جاتا ہی نہیں اس پر سینئر نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ اگر ووٹر ختم ہو گئے تو ''نوٹروں'' کو پکڑو اور اس نے فوراً ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ہے، مطلب کہنے کا یہ ہے کہ آخر یہ وجہ کیا ہے کہ جب کوئی پاکستان میں ہوتا ہے تو کام نہ کرنے والی نوکری ڈھونڈتا ہے کہ جناب میرا یہ لڑکا ہے اسے کوئی پوسٹ دے دیجیے لیکن ایسا ہو کہ زیادہ کام نہ کرنا پڑے، لیکن یہی پاکستانی جب کسی باہر کے ملک میں جاتے ہیں تو اتنا کام کرتے ہیں اتنا کام کرتے ہیں کہ سارے ملکوں کے لوگ حیران ہو جاتے ہیں، خود ہمارے اپنے سامنے ایسے کئی واقعات ہیں کہ لوگ اپنے نکمے نکھٹو بیٹوں سے تنگ آئے ہوئے تھے۔

جگہ جگہ رکھوایا طرح طرح کے کاروبار کرائے لیکن وہ کسی بھی جگہ فٹ نہیں ہو پائے اور پھر جب ان کو ویزہ دلا کر کسی عرب یا دوسرے دیش بھجوایا تو کچھ ہی عرصے میں دولت کے ڈھیر لگا دیے، حتیٰ کہ انتہائی لوفر نشئی اور بدمعاش لوگ بھی وہاں جا کر سیدھے ہو گئے اور جو بھی کام ملا جی جان لگا کر کیا، اسی بات نے ہمارے دماغ میں ایک کیمیکل لوچا ڈال دیا تھا، قریب تھا کہ یہ کیمیکل لوچا ہماری کھوپڑی کوڈز کر کے پھاڑ دیتا کہ ایک سالک اور دانائے راز سے ہماری ملاقات ہوئی اور اس نے ہمیں یہ رازدارانہ بات بتائی کہ اصل میں ہر ایک جگہ اور ہر چیز کے اپنے اپنے سعد یا منحوس اثرات ہوتے ہیں جو آدمی پر مسلسل نظر انداز ہوتے ہیں، مثال کے طور پر آپ کو ''جوتے'' صرف جوتے نظر آتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ پہننے کے کام آتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ لیڈروں کو مارنے اور دکھانے کا کام بھی ان سے لے لیا جاتا ہے ۔

کبھی کبھی پرانے زمانے میں جوتوں کے اندر دال بھی بٹتی تھی لیکن آج کل دال مہنگی ہونے کی وجہ سے ان میں ''مرغ''بٹتے ہیں لیکن ان معمولی کاموں کے علاوہ جوتوں میں ایک بہت بڑا کمال یہ ہے کہ یہ شیطان کی رہائش گاہ کے طورپرکام آتی ہیں، شیطان ہمیشہ جوتوں کے اندر رہائش پذیر ہوتا ہے چنانچہ جب لوگ مسجد میں جا کر جوتے اتارتے ہیں تو شیطان تو مسجد کے اندر جا نہیں سکتا اس لیے جوتوں ہی میں دبک کربیٹھ جاتا ہے، جوتوں کا مالک جب تک مسجد کے اندریعنی جوتوں کے بغیر ہوتا ہے بالکل سچا مسلمان ہوتا ہے اور خدا کو حاضر ناظر بھی جان لیتا ہے لیکن جیسے ہی باہر نکل کرجوتے پہنتا ہے، اس موڑ پر لا کر اس دانائے راز نے ہمیں بتایا کہ پاکستان کی آب و ہوا میں بھی کوئی ایسا ہی کیمیکل لوچا معلوم ہوتا ہے کہ جب تک اس ہوا میں سانس لیتا ہے کام کو گالی سمجھتا ہے لیکن جیسے باہر جاتا ہے یعنی اس آب و ہوا سے کٹ جاتا ہے ایسے کام پرلگ جاتا ہے جیسے کسی جادو طلسم سے آزاد ہو گیا ہو، مزید مثالیں اور دلائل دے کراس نے ہمیں یہ راز کی بتائی کہ مقامی آب و ہوا کے ان زہریلے بلکہ نکمے اثرات کا پتہ اکثرحکمرانوں اور اعلیٰ افسروں کو بھی ہے۔

اس لیے وہ موقع نکال نکال اکثرباہر جاتے ہیں تاکہ آزاد اور جادوئی اثرات سے پاک ہوا میں سانس لے لیتے ہیں کیوں کہ ان کے ذمے تو بڑے بڑے کام ہوتے ہیں جو ''دکھانا'' ہوتے ہیں بلکہ کام دکھانے ہی کے لیے تو وہ آئے ہوتے ہیں، خزانے اور ملکی دولت خاص طور پر باہر سے آئے ہوئے سرمائے کو ٹھکانے لگانا ان ہی بے چاروں کے ذمے ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ جب بات آب وہوا کے زہریلے پن تک پہنچی تو ہم نے یہ بھی تو پوچھنا ضرور تھا کہ آخر اس ملک کی ہوا میں یہ زہریلے اثرات آئے کہاں سے؟ ہمارا اپنا خیال تو یہ تھا کہ یقیناًاس میں یہود و ہنود کا ہاتھ ضرور ہو گا اور یہ ان کا کوئی خفیہ ہاتھ ہو گا جو ہماری ہوا میں نکمے پن کا زہر چھوڑ رہا ہے، لیکن اس دانائے راز نے ہماری بات سے اتفاق نہیں کیا ، بولا سرکاری بیان تو یہی ہو گا کیوں کہ یہود و ہنود لوگ آج کل بالکل ہی فارغ بیٹھے ہوئے ہیں اور صرف یہی کر رہے ہیں لیکن اس زہریلی نکمی ہوا کا مرکز کوئی اور ہے، اور اس مرکز کا پتہ اس نے ہمیں بتا بھی دیا لیکن ہم بوجوہ زہریلی ہوا کے ان منابع کوبند نہیں کر سکتے کیوں کہ اس کام پرجو اخراجات کا تخمینہ ہے۔

وہ ہمارے تصور سے بھی زیادہ ہے، آخراتنی گولیاں، اتنی کلاشنکوف اور اتنے چلانے والے ہم کہاں سے لائیں گے کیوں کہ کم از کم تین سو تو پاکستان میں پارٹیاں ہوں گی اور پھر ہرپارٹی میں نہ جانے کتنے منہ ہوں گے لہٰذا یہ گراں بہا کام کم از کم ہم تو نہیں کر پائیں گے البتہ اگر کوئی اللہ کا بندہ اور ثواب دارین کا شوقین کوئی اور اس نیک کام کا بیڑا اٹھانا چاہیے تو ہم اس کی مدد کرنے کوتیار ہیں کم از کم ٹارگٹ بتانے کا کام تو ہم کر ہی سکتے ہیں، اب دیکھتے ہیں کوئی پاکستان کی آب و ہوا کو صاف و شفاف کرنے کے لیے سامنے آتا ہے یا نہیں۔