حصص مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 100 کھرب روپے سے تجاوز

غیرملکی سرمایہ کاروں کی بھی خریداری، انڈیکس میں436پوائنٹس اضافہ۔


Business Reporter January 27, 2017
پہلی باربیرونی انویسٹرزکے بجائے مقامی شعبے مارکیٹ سمت کاتعین کررہے ہیں، ڈھیڈی۔ فوٹو : اے ایف پی/فائل

KHAR: سرمایہ کاری کے مقامی شعبوں کے علاوہ غیرملکیوں کی طویل دورانیے بعد تازہ سرمایہ کاری کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو اتارچڑھاؤ کے باوجود ایک بارپھر تیزی رونما ہوئی اور شدید مزاحمت کے بعد انڈیکس 50000 پوائنٹس کی سطح عبور کر پہلی بار برقرار رکھنے میں بھی کامیاب ہوگیا جبکہ مارکیٹ سرمائے کی مجموعی مالیت بھی پہلی بار100 کھرب روپے سے تجاوز کرگئی۔

انڈیکس میں تیزی کے باعث54.23 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں 51 ارب97 کروڑ93 لاکھ9 ہزار 530 روپے کا اضافہ ہوگیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن کی مجموعی مالیت 100 کھرب 3 ارب90 کروڑ80 لاکھ295 روپے کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ اس ضمن میں اے کے ڈی گروپ کے سربراہ عقیل کریم ڈھیڈی نے بتایا کہ دنیا بھر کی مارکیٹوں کی نسبت پاکستان اسٹاک ایکس چینج انویسٹرز کے لیے منافع بخش سرمایہ کاری کا مرکزبن گئی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارسرمایہ کاری کے مقامی شعبے کیپٹل مارکیٹ میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں جورجحان تبدیل ہونے کی عکاسی ہے۔

عقیل کریم ڈھیڈھی نے بتایا کہ ماضی میں مقامی سرمایہ کارغیرملکی سرمایہ کاروں کے رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کاروباری ترجیحات کا تعین کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جب غیرملکی مارکیٹ میں متحرک ہوتے تو مارکیٹ میں تیزی رونما ہوتی تھی لیکن حالیہ چند سیشنز میں مقامی سرمایہ کاروں کی کاروبارمیں زیادہ دلچسپی کی نئی روایت قائم ہوئی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شرح سود میں کمی کی وجہ سے مقامی سرمایہ کار بینکوں ودیگر شعبوں کے بجائے کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کوزیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر جمعرات کو کاروبار کے دوران ایک موقع پر88.02 پوائنٹس کی مندی بھی ہوئی لیکن غیرملکیوں اور مقامی انفرادی سرمایہ کاروں کی مجموعی طور پر6 ملین ڈالر کی تازہ سرمایہ کاری نے مندی کو تیزی میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 435.59 پوائنٹس کے اضافے سے 50192.36 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 322.19 پوائنٹس بڑھ کر 26977.61 ، کے ایم آئی30 انڈیکس401.50 پوائنٹس کے اضافے سے 86359.20 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 74.36 پوائنٹس بڑھ کر 24062.28 ہو گیا، کاروباری حجم بدھ کی نسبت2.11 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر44 کروڑ97 لاکھ17 ہزار570 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار437 کمپنیوں کے حصص تک وسیع ہوا جن میں237 کے بھاؤ میں اضافہ، 184 کے داموں میں کمی اور16 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

علاوہ ازیں جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں باٹا پاکستان کے بھاؤ37.41 روپے بڑھ کر 4090 روپے اور تھل انڈسٹری کارپوریشن کے بھاؤ 24 روپے بڑھ کر509 روپے ہوگئے جبکہ رفحان میظ کے بھاؤ 350 روپے کم ہوکر7800 روپے اورہینوپاک موٹرز کے بھاؤ85.47 روپے کم ہوکر1714.53 روپے ہو گئے۔

مقبول خبریں