الیکشن میں پانامہ کا شہباز شریف کے کام سے مقابلہ ہو گا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ دراصل عدالت عظمیٰ میں جاری سماعت کا ہی عکاس ہے


مزمل سہروردی January 28, 2017
[email protected]

قومی اسمبلی میں ہنگامہ دراصل عدالت عظمیٰ میں جاری سماعت کا ہی عکاس ہے۔ جس جس طرح عدالت اپنی سماعت مکمل کر رہی ہے، اسی طرح فریقین کے لہجوں رویوں اور اعصاب پر بڑھتا تناؤ نظر آرہا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں جانے کی تیاری کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ تحریک انصاف نے ایک بڑی نامور سروے کرنے والی کمپنی کو تمام سیٹوںپر جیتنے والے امیدواران کا سروے کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔تا کہ اس بار تحریک انصاف صرف جیتنے والے ا میدواران کو ہی ٹکٹ دے۔

تحریک انصاف کے پاس کئی سیٹوں پر ایک سے زائد امیدوار ہیں اور وہ ان میں سے بہترین امیدوار کو ہی ٹکٹ دینا چاہتی ہے۔ اسی لیے اس بڑی کمپنی کو سروے کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اسی کمپنی کی رپورٹ پر ٹکٹ دیے جائیں گے۔ کیونکہ تحریک انصاف اس بار انتخابات ہارنے کا کوئی رسک نہیں لینا چاہتی۔کیونکہ کہیں نہ کہیں تحریک انصاف کے اندر یہ احساس موجود ہے کہ پچھلی بار غلط ٹکٹیں دی گئیں جس کی وجہ سے ان کی سیٹوں کی تعداد کم ہو گئی۔

تحریک انصاف پانامہ کے نعرہ پر انتخابات میں جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی حکمت عملی میں انتخابات میں پانامہ ان کا سب سے بڑا نعرہ ہو گا۔ اگر پانامہ کا فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آگیا تب بھی پانامہ ہی بڑا نعرہ ہو گا۔ لیکن اگر فیصلہ پی ٹی آئی کی توقعات کے مطابق نہ بھی آیا تب بھی پانامہ ہی انتخابات کا سب سے بڑا نعرہ ہو گا۔ اس لیے پی ٹی آئی بس پانامہ پر ہی انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی لیے وہ باقاعدہ حکمت عملی کے تحت ہی پانامہ پر درجہ حرارت بڑھا رہی ہے۔

پیپلزپارٹی نے پنجاب میں چند سیٹون پر فوکس کرنے اور سندھ کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں چند جیتنے والے گھوڑوں کے سر پر چند سیٹیں جیتنا چاہتی ہے۔ سندھ کو برقرار رکھا چاہتی ہے۔ اس طرح ان کا گیم پلان یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موجودہ سیاسی و پارلیمانی پوزیشن کو برقرار رکھ لیتی ہے یا اس میں چند سیٹو ں کی بہتری کر لیتی ہے تو کسی Hung پارلیمنٹ کے شکل میں ان کی وزارت عظمیٰ کی لاٹری نکل سکتی ہے۔اسی لیے کسی ہنگ پارلیمنٹ میں آصف زرداری خود ہی وزیر اعظم کے امیدوار ہیں۔ اور انھوں نے اگلے انتخابات کے لیے خود ہی بلاول کا پتہ کاٹ دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی انتخابی حکمت عملی کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے تھنک ٹینکس کے خیال میں مسلم لیگ (ن) کا پانامہ کے جال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کو سامنے لائے۔ اگر مسلم لیگ (ن) عوام کو اپنی کارکردگی سے مطمئن کر لیتی ہے تب ہی پانامہ کا جال اتار کر پھینک سکتی ہے۔ اس حوالہ سے مسلم لیگ (ن) کے لیے اگلے انتخابات میں جیت کے لیے پنجاب بنیاد ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پانچ سال وفاق میں حکومت کرنے کے بعد پنجاب اور وفاقی حکومت کے درمیان بھی کارکردگی کا ایک موازنہ ہونا چاہیے۔گزشتہ انتخاب کے موقع پر مسلم لیگ (ن) نے صرف پنجاب میں پانچ سال حکومت کی ہوئی تھی جب کہ مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ لیکن اس بار تو وفاق اور پنجاب دونوں جگہ ن لیگ کی حکومت ہے۔ اس لیے ان دونوں حکومتوں کا موازنہ بھی ضروری ہے۔ شاید اسی موازنہ سے کہیں نہ کہیں پانامہ سے نکلنے کا حل بھی نکل آئے۔

مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کے لیے لوڈ شیدنگ سب سے بڑا چیلنج تھا اور ہے۔ اگر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو پھر مسلم لیگ (ن) کی کوئی الیکشن گیم نہیں۔ پھر چھٹی پکی۔ لیکن اگر لوڈ شیڈنگ کا ہی موازنہ کیا جائے تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ وفاقی حکومت لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی میاں شہباز شریف کے پنجاب میں لگائے جانے والے بجلی کے منصوبوں کے ہی مرہون منت ہے۔ اگر حکومت پنجاب اپنے حوصلہ پر بجلی کا یہ منصوبہ نہ لگاتی تو آج مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کی طرح لوڈشیڈنگ کی دلدل میں پھنسی ہوتی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ شہباز شریف کی کارکردگی نے مرکز کی حکومت کو بچا لیا ہے۔

ورنہ وفاقی حکومت کا کوئی قابل ذکر منصوبہ تکمیل کے قریب نظر نہیں آرہا۔ اگر موجودہ حکومت اگلے انتخابات میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے ساتھ جا رہی ہے تو اس کا کریڈٹ پنجاب کو ہے۔ گیس کے منصوبے بھی پنجاب نے لگائے ہیں۔ کوئلہ کا منصوبہ بھی پنجاب میں ہی مکمل ہوا ہے۔ سولر بھی پنجاب میں ہی ہے۔ بلکہ جس دن قومی اسمبلی میں پانامہ پر جنگ عظیم ہو رہی تھی تب بھی وزیر اعلیٰ پنجاب پا نامہ سے بے نیاز ترکی کی ایک کمپنی کے ساتھ سولر سے بجلی بنانے کے ایک منصوبہ پر ہی دستخط کر رہے تھے۔

اسی طرح ترقیاتی منصوبے بھی پنجاب میں ہی نظر آرہے ہیں۔گڈ گورننس کی اصلاحات بھی پنجاب میں ہی نظر آرہی ہیں۔ حتیٰ کے امن و امان کو بہتر بنانے میں بھی پنجاب کی کارکردگی باقی صوبوں سے بہتر رہی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر باقی صوبوں میں عملدرآمد نہیں کروا سکی ہے۔ نیکٹا پر کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ بلوچستان میں بھی امن وامان کے مسائل ہیں۔ کے پی کے میں بھی امن نہیں ہے۔ اور سندھ کراچی کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔ ایسے میں پنجاب کے امن کا کریڈٹ آپ کو پنجاب کی حکومت کو دینا ہوگا۔ اس دوران پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کے نعرہ کی آڑ میں بھی پنجاب پر حملہ کیا گی تاکہ پنجاب میںامن و امان کی بہتر صورتحال کا کریڈٹ ختم کیا جا سکے۔ لیکن جہاں ان سازشوں کو ناکام بنا یا گیا ۔ وہاں پنجاب مین قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردی سے نبٹ کر بھی دکھایا ہے۔ جو دوسرے صوبوں میں نظر نہیں آتا۔

سی پیک کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن)کی موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔ لیکن سی پیک کی بھی اگر کوئی عملی شکل ہے تو یہ پنجاب میں ہی نظر آتی ہے۔ خود چین کی حکومت بھی یہ بات تسلیم کر رہی ہے۔ کہ سی پیک پر حقیقی کام صرف پنجاب میں ہو رہا ہے۔ وہ پنجاب میں کام کی اسپیڈ کے بھی معترف ہو گئے ہیں۔اسی لیے انھوں نے پنجاب میں تیزی سے مکمل ہونے والے منصوبوں کی رفتار کو پنجاب اسپیڈ کا لقب دیا ہے۔ سی پیک کا کریڈٹ بھی ابھی پورے پاکستان میں لینا مشکل لگ رہا ہے۔ کیونکہ ابھی تک ہم مشرقی و مغربی روٹ کے تنازعہ سے ہی باہر نہیں آئے۔ ایسے میں سی پیک میں بھی شہباز شریف کی کارکردگی نمایاں نظر آرہی ہے۔

اس لیے مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ انتخابات بھی شہباز شریف کی کارکردگی پر ہی جیتے تھے۔اور مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اگلا انتخاب بھی شہباز شریف کی کارکردگی پر ہی لڑنا ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر شہباز شریف کو اس کا مکمل سیاسی کریڈٹ نہیں ملتا۔ پانامہ کی اس یلغار کو شہباز شریف کا کام ہی شکست دے سکتا ہے۔ کیونکہ ابھی تک اس پر کرپشن کا کوئی براہ راست الزام بھی نہیں۔ اس کے مخالفین بھی اس کے خلاف کوئی سکینڈل نہیں لا سکے۔ لیکن سیاست میں کریڈٹ ہی ڈس کریڈٹ بھی ہوتا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے۔

مقبول خبریں