سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے ساڑھے 4 ہزار مکانات گرانے کا فیصلہ

پہلے قابضین کو نوٹسز دیے جائیں گے، منصوبے کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی


Staff Reporter January 28, 2017
صوبائی حکومت سرکلر ریلوے سمیت ٹرانسپورٹ کے دیگر منصوبے بھی جلد مکمل کریگی، ناصرحسین شاہ۔ فوٹو : فائل

حکومت سندھ نے سرکلر ریلوے کی بحالی کیلیے ریلوے کی زمین سے تجاوزات کے خاتمے کا فیصلہ کرلیا، ریلوے کی زمین پر تعمیر ساڑھے 4 ہزار مکانات کو گرایا جائے گا، اس سے قبل قابضین کو نوٹسز دیے جائیں گے، منصوبے کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

حکومت سندھ پارٹی قیادت کے ویژن پر عمل درآمد کرے گی اور صوبائی حکومت سرکلر ریلوے سمیت ٹرانسپورٹ کے دیگر منصوبے بھی جلد مکمل کرے گی، اس بات کا فیصلہ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصرحسین شاہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں کمشنر کراچی اور تمام ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناصرحسین شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کے عوام کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اس لیے ضروری ہے کہ پہلے قابضین کو جگہ خالی کرنے کے لیے نوٹسز جاری کیے جائیں اور اس کے بعد تجاوازت کے خاتمے کے منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کا یہ عزم ہے کہ سرکلر ریلوے کی اراضی پر ناجائز طور پر قابض افراد کو بے دخل کرکے سرکاری اراضی سے ہر قسم کا قبضہ ختم کرایا جائے گا کیونکہ حکومت سندھ نے سرکلر ریلوے کے منصوبے کو مکمل کرنے کا تہیہ کررکھا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ کے یہ واضح احکامات ہیںکہ اس منصوبے کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قائدین آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت ہے کہ شہریوں کو ٹریفک جام کے مسائل سے نجات دلائی جائے اور حکومت سندھ پارٹی قیادت کے ویژن پر عمل درآمد کرے گی اور صوبائی حکومت سرکلر ریلوے سمیت ٹرانسپورٹ کے دیگر منصوبے بھی جلد مکمل کرے گی۔

واضح رہے کہ سرکولر ریلوے 1964 میں چلائی گئی تھی اور یہ ٹرین ٹرانسپورٹ مافیاکے دباؤ پر 1998 میں بند کردی گئی تھی، چند سال قبل جاپان کی کمپنی جائیکا نے سرکولر ریلوے کی بحالی میں دلچسی ظاہر کی تھی، اس سلسلے میں جائیکا اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے جس میں مذکورہ کمپنی نے منصوبے کے بارے میں بتایا تھاکہ سرکولر ریلوے کی بحالی پر پچاس ارب روپے لاگت آئے گی، سرکولر ریلوے کیلیے ڈبل ٹریک بچھائے جائیں گے اور ریلوے میں جدید ترین بوگیاں لگائی جائیں گی تاہم جائیکا اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کو ٹرانسپورٹ مافیا نے ناکام بنادیا تھا، سرکولر ریلوے 70 کی دھائی کی کامیاب ترین ٹرین تھی تاہم 80 کی دھائی میں کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا انتہائی مضبوط ہوگئی تھی اور اس نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے نہ صرف سرکولر ریلوے کو بند کرادیا تھا بلکہ سٹی اسٹیشن قائدآباد تک مین لائن پر چلنے والی لوکل ٹرینوں کو بھی بند کرادیا تھا۔

یاد رہے کہ سرکولر ٹرین سٹی اسٹیشن سے روانہ ہوتی تھی اور وزیرمینشن، بلدیہ، سائٹ، ناظم آباد، لیاقت آباد، گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ، گلستان جوہر سے ہوتی ہوئی ڈرگ کالونی پہنچی تھی اور پھر ڈرگ کالونی سے ائیرپورٹ، ملیر، قائدآباد تک جاتی تھی، اس کا ایک ٹریک کھوکھراپار، سعودآباد تک بھی بچھا ہوا تھا، یہ ٹرین کھوکھراپار، ملیرہالٹ، سعودآباد بھی جاتی تھی، اس کا ایک ٹریک ڈرگ روڈ سے کارساز تک بھی نکلتا تھا، ڈرگ روڈ سے یہ ٹرین کارساز، چنیسر ہالٹ سے ہوتی ہوئی کینٹ اور بعدازاں دوبارہ سٹی اسٹیشن پر آجاتی تھی، اب سرکولر ریلوے کو سی پیک کے منصوبے میں شامل کرلیا گیا ہے۔

دریں اثناء شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکولر ٹرین کے ٹریک کو اورنگی ٹاؤن ، سرجانی ٹاؤن، کیماڑی سمیت مختلف علاقوں تک توسیع دی جائے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہوسکیں۔