تاریخ میں ایک غوطہ

آج ہمارا جی چاہتا ہے کہ تھوڑی سی غوطہ خوری تاریخ میں بھی کی جائے


Saad Ulllah Jaan Baraq February 02, 2017
[email protected]

PESHAWAR: آج ہمارا جی چاہتا ہے کہ تھوڑی سی غوطہ خوری تاریخ میں بھی کی جائے کیوں کہ جغرافیے میں تو اب کچھ بھی نہیں رکھا ہے صرف سی پیک ہی ''سی پیک'' ہے۔ تاریخ کے سلسلے میں فلپ حتی نے تاریخ شام میں ایک عجیب و غریب بات بتائی ہے جو کسی افسانے سے کم نہیں ہے اس نے دنیا کے دو مقامات کے بارے میں بتایا ہے کہ یہاں سے ہر ایک ہزار سال بعد انسانوں کی یلغاریں ہوتی رہی ہیں ایک مقام تو صحرائے عرب ہے جہاں سے پانچ ہزار سال میں پوری پانچ یلغاریں نکلی ہیں اور ہر یلغار کے درمیان ایک ہزار یا ملینیم کا وقفہ تھا، پہلی یلغار عکادیوں کی تھی، دوسری بت نبطی اقوام کی، تیسری عادو و ثمود کی، چوتھی اصوریوں اور پانچویں یلغار اسلام کی شکل میں تھی، دوسرا مقام وسطی ایشیاء ہے جہاں سے پہلی یلغار یا خروج سومیریوں کی نکلی تھی، دوسری ہتھین کی تیسری آریاؤں کی چوتھی ہوئے جی لوگوں کی اور پانچویں چنگیز کی قیادت میں منگولوں کی اور ان تمام یلغاروں کے درمیان حیرت انگیز طور پر ایک ہزار سال کا وقفہ رہا ہے پھر وہ اس کی وجہ بھی بتاتا ہے جو بڑی دل چسپ، چشم کشا اور فطری ہے۔

خاص طور پر وسطی ایشیاء سے نکلنے والی یلغاروں کے بارے میں اس نے بتایا کہ علمائے بشریات اور عمرانیات نے وسطی ایشیاء کی سرزمینوں، سطوح مرتفع پامیر اور آس پاس کے پہاڑی سلسلوں کوجوف الارض یا رحم مادرکہا ہے اور جس طرح رحم مادر میں بچہ نو دس مہینے خاموشی سے پلتا ہے، نشوونما پاتا ہے اور پھر ایک خاص وقت ظہور پذیر ہو جاتا ہے اس طرح اس جوف الارض میں بھی اقوام پلتی ہیں، بڑھتی ہیں اور پھر ایک دن نکل پڑتی ہیں، دونوں کی وجوہات بھی ایک ہیں جب ماں کی کوکھ بچے کی غذائی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتی تو لامحالہ اپنی ضرورتوں کے لیے اسے نکلنا پڑتا ہے، اس جوف الارض سے جب یلغاریں نکلتی تھیں تو باقی ماندہ غذائی ضروریات پیچھے رہنے والوں کے لیے آہستہ آہستہ کم ہوتی چلی جاتیں اور آبادی بڑھتی چلی جاتیں چنانچہ ایک کثرت آبادی اور قلت خوراک کے باعث کچھ قبائل اور اقوام کو خروج کر کے دوسری زمینوں میں نکلنا اور پھیلنا پڑتا ہے۔

یہ تو فلپ کے حتی کا نظریہ بلکہ ایک سچا تجزیہ تھا جس پر تاریخ کی مہر ثبت ہے۔ واقعی ایسا ہی ہوتا رہا ہے ہمیں اس میں تھوڑی سی کمی بیشی کر کے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان دونوں کاموں یعنی ماں کے پیٹ اور زمین کے اس جوف کے خروج کا وقفہ نو اور دس کے درمیان ہوتا ہے، بچے کے دنیا میں آنے کا عرصہ نو یا ساڑھے نومہینے ہوتا ہے تو جوف الارض سے اقوام کے خروج کا عرصہ بھی نو اور دس صدیاں ہو گا گویا ماں کے پیٹ اور رحم الارض کا معاملہ تقریباً یکساں ہے وہاں اتنے مہینے میں اور یہاں اتنے ہی سال میں، وجہ وہی ''بچے'' کی بڑھوتری اور غذا کی کمی ہوتی ہے۔ تاریخ پر نظر رکھنے والوں کو پتہ ہے کہ وسطی ایشیاء سے وحشیوں کو روکنے کے لیے ایک دیوار ذوالقرنین یا سائرش نے بنوائی تھی جو بحیرہ کیسپیئن کے قریب دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان درے کو بند کرنے کے لیے تھی، دوسری دیوار چین والوں نے بنائی تھی جو سب کو معلوم ہے ۔اس زمانے میں ان آنے والے قبائل کو یاجوج ماجوج یعنی گاگ می گاگ کا نام دیا گیا تھا پھر اس یاجوج ماجوج کو افسانہ بنا کر طرح طرح کے طومار باندھے گئے جن سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن یاجوج ماجوج سے ضرور لینا دینا ہے۔

یہ لفظ عربی اور عبرانی میں جا کر یاجوج ماجوج ہو گیا ہے اور انگریزی میں گاگ می گاگ ہے لیکن اصل میں یاجوج وہی لوگ ہیں جن کو تاریخ میں ہوچی یا ہوئے چی کہا گیا ہے جب کہ ماجوج دراصل منگول یا مغول ہیں۔اب مسئلہ ہمارے سامنے یہ ہے کہ چنگیز خان اور ہلاکو خان کی منگلوں یلغار کو لگ بھگ ایک ہزار سال ہونے والے ہیں گویا وقت ایک نئی یلغار کا ہو چلا ہے، دیواروں کا زمانہ تو اب رہا ہی نہیں ہے ویسے ان دیواروں اور یاجوج ماجوج کی دیواروں کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دیواروں خاص طور پر ذوالقرنین والی دیوار کو یہ یاجوج ماجوج اپنی زبانوں سے چاٹ چاٹ کر ختم کرنے میں لگے ہوں گے، شام تک یہ اس دیوارکو چاٹ چاٹ کر تقریباً ختم کرتے ہیں صرف ایک پیاز کی جھلی جتنی باقی ہے کہ یہ لوگ تھک کر واپس جاتے ہیں کہ صبح آکر یہ بقایا دیوار بھی چاٹ جائیں گے۔

کہانی بنانے والوں نے اس میں دینی اور ماورائی ٹچ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یاجوج ماجوج واپس جاتے ہوئے یہ تو کہتے ہیں کہ کل آکر دیوار کو ڈھا دیں گے لیکن ''انشاء اللہ'' نہیں کہتے ہیں اس لیے صبح آنے پر دیوار پہلے جتنی ہو چکی ہوتی ہے اور جس دن یاجوج ماجوج نے انشاء اللہ کہہ دیا دیوار ختم ہو جائے گی لیکن ہمیں ان مباحث میں نہیں پڑنا کیوں کہ یہ طول طویل کہانیاں ہیں کیوں کہ اس کے ساتھ دجال اور مہدی کا قصہ بھی ہے، ہم تو سیدھے سادے طریقے پرفلپ حتی کی بتائی ہوئی بات پر سوچ رہے ہیں کہ اس نے جو بتایا ہے وہ تو ایک حقیقت ہے یعنی ایک ہزار یا کم و بیش میں کثرت آبادی اور قلت خوراک کی وجہ سے ایک نئی یلغار اور خروج ... جب کہ آخری یلغار کو اتنا ہی عرصہ ہو چکا ہے تو پھر اگلی یلغار کس کی ہو گی کیسے ہو گی کب ہو گی اور کہاں ہو گی کیوں کہ اب تو پہاڑوں دیواروں اور راستوں کا مسئلہ بھی نہیں رہا ہے اور ہتھیار بھی بدل چلے ہیں، دور جدید کا سب سے موثر تباہ کن اور دور مار ہتھیار نہ تلوار ہے نہ بندوق نہ توپ نہ ٹینک نہ بم نہ میزائل ... تو پھر کیا ہے؟ یہ آپ بھی پتا لگانے کی کوشش کریں اور ہم بھی کرتے ہیں صرف اتنا کلیو دیتے ہیں کہ ہتھیار جسم کے بجائے دماغ پر وار کرتا ہے۔