بگ تھری کی گرتی دیوار پاکستانی بھی دھکا دینے کے لیے تیار

آئی سی سی منافع کی تقسیم کے متنازع فارمولے کو ختم کرنے میں کوئی آئینی رکاوٹ حائل نہیں، چیئرمین پی سی بی


Saleem Khaliq February 03, 2017
سب کویکساں حقوق دیے جائیں ہمارا موقف واضح ہے، کرکٹ کی واپسی میں مدد مل سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

بگ تھری کی گرتی دیوار کو پاکستان بھی دھکا دینے کیلیے تیار ہے۔

2014میں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا نے انٹرنیشنل کونسل کے زیادہ منافع پر قبضے کیلیے بگ تھری کو بنایا جسے دیگر نے بھی قبول کر لیا تھا، مگر ششانک منوہر نے آئی سی سی چیئرمین بننے کے بعد اسے غلط قرار دیتے ہوئے تبدیلی کیلیے اقدامات شروع کیے، 2015 سے 2023 کے بگ تھری فارمولے کے تحت بھارت کو آئی سی سی آمدنی میں سے سب سے زیادہ571.5 ملین ڈالر ملنے تھے، اس کے مقابلے میں پاکستان کے ہاتھ صرف 93.75 ملین ڈالر ہی آتے، اس کا متبادل نظام لانے کیلیے کچھ عرصے قبل ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی،اب اس کی سفارشات پر تبادلہ خیال ہو گا، اتفاق رائے ہونے پر جون کے اجلاس میں حتمی منظوری دے دی جائے گی۔

اس بارے میں شہریارخان نے کہا کہ آئی سی سی نے '' بگ تھری'' کو آئینی طور پر تبدیل کرنے کا فارمولہ تیار کر لیا ہے، اس حوالے سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، البتہ بھارت کی جانب سے اعتراض سامنے آ سکتا ہے، میرے خیال میں وہ لوگ یہ کہیں گے کہ چند روز قبل ہی بورڈ کے معاملات چلانے کیلیے کمیٹی قائم ہوئی ہے لہذا وقت دیا جائے، ہمارا موقف یہ ہے کہ سب کے یکساں حقوق ہونے چاہئیں، موجودہ نظام متنازع اور اس میں منافع کا بڑا حصہ بگ تھری خصوصاً بھارت کو مل جاتا ہے، یہ سسٹم اب تبدیل ہو جائے گا، جس سے پاکستان کو بھی زیادہ فائدہ ہوگا۔

شہریار خان نے کہا کہ آئی سی سی میٹنگ میں جائلز کلارک کے دورئہ پاکستان کی سیکیورٹی رپورٹ بھی پیش ہو گی، اس کی بنیاد پر ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس لانے کا منصوبہ بنایا جا سکے گا، ہم بھی یہ کہیں گے کہ 8 سال سے دنیا کے مہنگے ترین شہر دبئی میں اپنے ہوم میچز کھیل رہے ہیں،اخراجات حد سے زیادہ بڑھ چکے۔ امید ہے کہ ہمارا موقف تسلیم اور ہمیں فائدہ ہو گا۔

ادھر چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کا لاہور میں انعقاد ملکی کرکٹ کیلیے بیحد اہم ہے، آئی سی سی کے تمام ڈائریکٹرز، سینئر ارکان سمیت ٹاسک فورس چیف جائلز کلارک اور ان کی ٹیم کو بھی پی سی بی میچ دیکھنے کیلیے آنے کی دعوت دے گا، اس سے ہمیں ان پر اپنا موقف ثابت کرنے میں مدد ملے گی کہ پاکستان اب انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلیے تیار ہو چکا۔

شہریارخان نے ایک سوال پر کہاکہ سیریز سے متواتر انکار پر بھارت کیخلاف مقدمے کی گورننگ بورڈ منطوری دے چکا، مگر ہم اب انتظار کر رہے ہیں کہ وہاں جو نئی باڈی آئی ہے وہ باقاعدہ کام شروع کر دے۔ ہماری انوراگ ٹھاکر وغیرہ سے بات چیت ہوتی رہی مگر عدالت نے ان سب کو فارغ کر دیا، اب جو نئے لوگ آئے ہیں ان سے گفتگو کرنا ہوگی، پھر دیکھیں گے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے، شہریارخان نے اعتراف کیا کہ موجودہ سیاسی حالات کے سبب مستقبل قریب میں بھی پاک بھارت سیریز کا کوئی امکان نہیں، البتہ دونوں ممالک کے تعلقات میں تبدیلی جلدی جلدی آتی ہے، جیسے ہی بہتری آئی باہمی کرکٹ سیریز پر بھی بات کریں گے۔

یاد رہے کہ لودھا کمیشن کی سفارشات پر عمل نہ کرنے پر بھارتی سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی حکام کو فارغ کرتے ہوئے چار ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر کیا ہے۔