بیلجیئم کے ریسٹورینٹ نے امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا

ویب ڈیسک  جمعـء 3 فروری 2017
ریسٹورینٹ مالکان کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ کے 7 مسلم ممالک پر سفری پابندی کے فیصلے کے خلاف احتجاجی طور پر کیا گیا ہے۔
فوٹو: بشکریہ اوڈٹی سینٹرل

ریسٹورینٹ مالکان کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ کے 7 مسلم ممالک پر سفری پابندی کے فیصلے کے خلاف احتجاجی طور پر کیا گیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ اوڈٹی سینٹرل

آنٹ ورپ: بیلجیئم کے ایک مشہور ریسٹورینٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے 7 مسلمان ممالک کے مسافروں پر عارضی پابندی کے متنازعہ اعلان کے بعد اپنے مینو سے تمام امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا۔

ریسٹورینٹ کے مالک نے چند روز قبل اپنے تمام ملازمین کو طلب کرکے انہیں اس فیصلے سے آگاہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک معاشی بائیکاٹ ہی وہ راستہ ہے جو ٹرمپ کی سمجھ میں آسکتا ہے جب کہ ریسٹورینٹ کے مالک کا کہنا ہےکہ امریکی اشیائے خوردونوش پر اس وقت تک پابندی عائد رہے گی جب تک ٹرمپ اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے۔

ریسٹورینٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں آنے والے صارفین ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہیں اور کئی صارفین نے احتجاجاً امریکی کولا اور مشروبات پینے سے انکار کردیا ہے جس کے بعد ریسٹورینٹ میں امریکی سگریٹ، چپس، چاکلیٹ، بسکٹ اور دیگر کھانے سمیت مشروبات کا بھی بائیکاٹ کردیا گیا ہے۔

اس اقدام سے ریسٹورینٹ کو کچھ نقصان بھی ہوا ہے لیکن مالکان کے بقول یہ ایک اصولی فیصلہ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس چھوٹے سے فیصلے کا ٹرمپ پرکوئی اثر تو نہ ہوگا لیکن یہ ان کو ذہنی اور قلبی سکون فراہم کررہا ہے جس کے ذریعے وہ ٹرمپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ریسٹورینٹ امریکی صدرکی پالیسی سے متفق نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔