امریکا میں ورلڈ حجاب ڈے مہم میں غیرمسلم خواتین بھی شامل

ویب ڈیسک  جمعـء 3 فروری 2017
ریلی کا مقصد ملک میں تیزی سے پھیلتے مذہبی عدم برداشت کا خاتمہ اور مسلم و غیر مسلم خواتین کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے،ریلی کی منتظمہ ناظمہ خان فوٹو: ڈیلی میل

ریلی کا مقصد ملک میں تیزی سے پھیلتے مذہبی عدم برداشت کا خاتمہ اور مسلم و غیر مسلم خواتین کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے،ریلی کی منتظمہ ناظمہ خان فوٹو: ڈیلی میل

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پالیسیاں اختیار کئے جانے کے بعد مسیحی برادری بھی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے میدان میں کود پڑی جب کہ سوشل میڈیا پر ورلڈ حجاب ڈے کے نام سے چلائی جانے والی مہم میں خواتین اپنی حجاب میں تصاویر شیئر کر کے ٹرمپ کی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کر رہی ہیں۔

نیویارک کی مسلم خواتین کی جانب سے ورلڈ حجاب ڈے کی پانچویں سالانہ تقریب کے سلسلے میں بدھ کے روز سٹی ہال سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں مسلم و غیر مسلم خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی جب کہ امریکی غیر مسلم شہریوں نے بھی  ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنائی گئی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا جس کے اظہار کے لئے خواتین نے  ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف نعرے بلند کئے بلکہ پلے کارڈز پر لکھا کہ ” ہم سب مسلمان ہیں” ۔

ریلی کی منتظم ناظمہ خان کا کہنا تھا کہ ریلی کا مقصد ملک میں تیزی سے پھیلتے مذہبی عدم برداشت کا خاتمہ اور مسلم و غیر مسلم خواتین کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ نیویارک کے سٹی ہال سے نکالی گئی ریلی نے دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر مہم کی صورت اختیار کرلی جس میں غیرمسلم خواتین بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

ناظمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ 11 سال کی تھیں جب بنگلادیش سے نیویارک منتقل ہوئیں جس کے بعد انہیں حجاب پہننے پر اسکول میں بیٹ مین اور ننجا پکارا جاتا تھا جب کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں کے بعد انہیں یونیورسٹی میں اسامہ بن لادن اور دہشت گرد کے نام سے پکارا جانے لگا جو بہت تکلیف دہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے تعصب کا خاتمہ اسی وقت کیا جاسکتا ہے کہ جب ہم اپنی غیر مسلم بہنوں کو کہیں کہ وہ ایک مرتبہ حجاب پہن کر دیکھیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اور فیس بک پر “ورلڈ حجاب ڈے” اور ” آئی اسٹینڈ ود حجاب” کے ہیش ٹیگ سے مہم زوروں پر ہے جس میں نہ صرف مسلم خواتین امریکا کے پرچم کا حجاب پہن پر اپنی تصاویر شیئر کررہی ہیں بلکہ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے غیرمسلم خواتین بھی حجاب اوڑھ کر اپنی تصاویر شیئر کرا رہی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔