پاکستان کا ڈونلڈ ٹرمپ کون

اگرہم پاکستان میں بھی ڈونلڈٹرمپ دیکھناچاہتےہیں توہمیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لانی ہو گی۔


مزمل سہروردی February 04, 2017
[email protected]

KARACHI: یہ ایک خوبصورت سوال ہے کہ عمران خان پاکستان کے ڈ ونلڈ ٹرمپ ہیں کہ نہیں۔ ویسے تو اس حوالہ سے مسلم لیگ (ن) میں بھی اختلاف ہے رانا ثناء اللہ بضد ہیں کہ عمران خان پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ اور خواجہ آصف رانا ثناء اللہ کی اس منطق کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ یہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ابھی تک عمران خان نے خود کو پاکستان کا ڈونلڈ ٹرمپ قرار نہیں دیا۔ اور نہ ہی اس حساس موضوع پر ٹوئٹ کیا ہے اور نہ ہی کوئی بیان داغا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ اگر ٹرمپ پاکستانیوں کے لیے بھی امریکا کے ویزے بند کر دیں تو انھیں بہت خوشی ہو گی۔

روس کے گر جانے کے بعد جب دنیا میں امریکا واحد سپر پاور رہ گیا تو امریکا نے دنیا میں ایک نیو ورلڈ آرڈر متعارف کروایا۔ امریکا کی خواہش تھی کہ پوری دنیا اس کے اس نئے ورلڈ آرڈر کے تا بع آجائے۔ پاکستان میں تب جماعت اسلامی امریکا کے خلاف نعرہ لگاتی اور نیو ورلڈ آرڈر کی مخالفت کرتی نظر آتی تھی۔ اس وقت قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے امیر تھے۔

امریکی اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں جب قاضی حسین احمد نے نیو ورلڈر آرڈر کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا عالمی سطح پر اپنے لیے محبت کے بجائے نفرت پیدا کر رہا ہے تو امریکی اہلکاروں نے کہا کہ امریکی سفارتخانوں میں امریکی ویزہ کے لیے لاکھوں نہیں کروڑوں درخواستیں دنیا کی امریکا سے محبت کا ثبوت ہیں، امریکا کو اس سے زیادہ کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔

یہ ورلڈ آرڈر کتنا کامیاب رہا کتنا ناکام اس پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔لیکن امریکی سفارتخانوں میں ویزوں کی درخواستوں کی تعداد میں امریکا کی کسی بھی پالیسی کے نتیجے میں کبھی بھی کوئی کمی نہیں ہو ئی ہے۔ ہمارے حکمران بیو رو کریٹ صنعتکار، صحافی سمیت سب ہی ہر وقت امریکی ویزہ اور امریکی دورہ کے خواہش مند رہتے ہیں۔

گو کہ امریکی سفارتخانہ نے وضاحت کی ہے کہ امریکا فی الحال پاکستانیوں پر کسی بھی قسم کی ویزہ پابندیاں لگانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔اب میں کنفیوژ ہوں کہ یہ خبر ہمارے لیے اچھی ہے یا بری۔ اگر عمران خان کی مان لوں تو یہ ایک بری خبر ہے۔

عمران خان کی تھیوری تو یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر پاکستان پر امریکی ویزوں کی پابندی لگا دیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بہتر فیصلہ ہو گا۔ اس سے پاکستان ترقی کرے گا۔ تا ہم دوسری طرف ن لیگ کی حکومت ہر طرح سے ٹرمپ کو پاکستانیوں پر کسی بھی قسم کی پابندی لگانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کی یہ کوشش کامیاب ہو گی کہ نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان کا ڈوونلڈ ٹرمپ کون ہے۔ یہ کوئی برا سوال نہیںہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی ایک کامیاب کاروباری شخصیت اور کامیاب سیاستدان ہیں۔جو سیاست میں آئے اور چھا گئے۔ کیا پاکستان میں ایسا کوئی شخص ہے جو کامیاب کاروباری شخص ہو اور سیاست میں آئے اور چھا جائے۔ عمران خان اس معیار پر اس لیے پورا نہیں اترتے کہ ایک تو عمران خان کوئی کامیاب کاروباری شخص نہیں ہیں اور نہ وہ سیاست میں آئے اور چھا گئے ہیں ان کی ایک طویل سیاسی جدو جہد ہے۔ انھیں اپنی سیاست کو یہاں تک پہنچانے میں کئی سال لگے ہیں۔ جیت اور کامیابی سے پہلے انھوں کئی نا کامیوں کا منہ دیکھا ہے۔ اس لیے عمران خان کی موجودہ کامیابی نہ تو مکمل ہے کہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے ہم پلہ قرار دیا جا سکا ہے۔ ویسے تو حکمران جماعت کو یہ کہتے ہوئے ڈرنا چاہیے کہ عمران خان پاکستان کے ڈونلڈ ٹر مپ ہیں کیونکہ اگر عمران خان کو اگلے انتخابات میں ڈ ونلڈ ٹرمپ جیسی کامیابی مل گئی تو پھر حکمران جماعت کی تو چھٹی پکی۔

اگر حکمران جماعت کے سکھ اور چین کے لیے یہ مان لیا جائے کہ عمران خان پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں تو پھر پاکستان کا ڈونلڈ ٹرمپ کون ہو سکتا ہے۔ میاں نواز شریف تو کسی بھی طرح ڈ ونلڈ ٹرمپ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ تین دفعہ وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ اس لیے وہ تو اس مقابلہ سے باہر ہیں۔ مریم بی بی بھی اس مقابلہ میں شامل نہیں ہو سکتیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا باپ امریکا کا تین دفعہ وزیراعظم نہیں رہا۔

بلاول بھٹو بھی اس مقابلہ سے باہر ہیں کیونکہ بلاول کے والد ملک کے صدر رہے ہیں، ماں ملک کی دو دفعہ وزیر اعظم رہی ہیں۔ اور نانا بھی ملک کے پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، صدر اور وزیر اعظم رہے ہیں۔ جب کہ ٹرمپ کا خاندان اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اب رہ گئی چھوٹی جماعتوں کی قیادت تو وہ تو اس گیم سے ویسے ہی باہر ہیں۔

پاکستان میں کوئی بھی شخص ڈ ونلڈ ٹرمپ کی طرح ملک کی سیاست میں آ کر چھا نہیں سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ ایک ہی ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہے۔ یہاں کوئی شخص کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں تب تک اوپر نہیں آسکتا جب تک اس کو اس سیاسی جماعت کی قیادت کی آشیر باد حاصل نہ ہو۔ جب کہ امریکا میں اگر آپ مقبول ہیں تو آپ سیاسی جماعت کی قیادت چھین سکتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ امریکا کے عوام سے پہلے ڈونلد ٹرمپ نے ری پبلکن جماعت کی ٹکٹ حاصل کی تھی اور یہ ٹکٹ ان کو ری پبلکن کی قیادت کے آشیر باد سے نہیں بلکہ سیاسی کارکنوں کے ووٹ سے ملی تھی۔ حالانکہ ری پبلکن کی بڑی سیاسی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تھی۔ لیکن کارکن ٹرمپ کے ساتھ تھے۔ اور وقت نے کارکنان کا فیصلہ درست ثابت کیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی جدو جہد کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی اپنے اندر آمریت رکھتی ہیں۔

دکھ کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان بار بار اعلان کرنے کے باوجود بھی اپنی جماعت میں جمہوریت نہیں لا سکے ہیں۔ اور آیندہ آنے و الے الیکشن میں بھی عمران خان ٹکٹ کارکنان کی خواہش اور ووٹ پر نہیں بلکہ ایک سروے کرنے والی کمپنی کی رپورٹ پر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ن لیگ میں بھی ٹکٹ شاہی فرمان سے ہی ملتے ہیں۔ باقی جماعتوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ صرف جماعت اسلامی کی صورتحال مختلف ہے۔ لیکن اس کی اندرونی جمہوریت اسے ووٹ دلوانے کے لیے کافی نہیں۔

اگر ہم پاکستان میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ توہمیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لانی ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کوئی نئی جماعت نہیں بنائی۔ بلکہ انھوں نے ایک بڑی جماعت کا ٹکٹ حاصل کیا ہے۔ پاکستان میں ہر کوئی سیاست میں داخل ہونے کے لیے نئی سیاسی جماعت بناتا ہے۔ کیونکہ اس کو علم ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں میں اس کے اوپر آنے کا کوئی چانس نہیں۔ یقینا یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ اور زیادہ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اس کو بدلنے کا فی الحال کوئی راستہ نہیں۔

یہ الیکشن کمیشن کی نا کامی ہے کہ وہ پاکستان میں انتخاب لڑنے کی خواہاں سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت قائم نہیں کر سکا۔ سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات ایک ڈرامہ ہیں۔ اور الیکشن کمیشن ان ڈراموں کو تحفظ دیتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کی سیاست میں کوئی ڈونلڈ ٹرمپ پیدا نہیں ہو سکتا۔ جس دن پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں حقیقی جمہوریت قائم ہو جائے گی صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی نہیں اوباما بھی پیدا ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں