مقبوضہ کشمیرمیں مسلح شورش کاخدشہ ہےعمرفاروق

پاکستان اوربھارت کواس سے قبل تنازع حل کرنا ہوگاورنہ طالبان مقبوضہ وادی پہنچ سکتے ہیں


INP January 04, 2013
اندرونی انتشار کی وجہ سے فی الوقت مسئلہ کشمیرپاکستان کی ترجیحات میں نہیں، انٹرویو۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے کہاہے کہ دورہ پاکستان کے دوران محسوس ہواہے کہ 2014تک پاکستان اوربھارت نے تنازع کشمیرپرمفاہمت نہ کی تو مقبوضہ وادی میں مسلح شورش کی نئی اورخطرناک لہرشروع ہوسکتی ہے۔

پاکستان میں اندرونی انتشارکی وجہ سے فی الوقت مسئلہ کشمیر پاکستانی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست نہیں،بھارتی سربراہوں سے ملاقاتوں کے باعث سیدعلی گیلانی مجھ پرتنقید کرتے ہیں،جہاں سے بھی سفارتی مددملی حاصل کریں گے ،حریت وفد جلدچین کادورہ کرے گا،کشمیری بھارتی حکومت سے مایوس ہیں،مسلح شدت پسندی کا یہ دائرہ بھارت کوبھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے،امریکاکے افغانستان سے نکلنے کے بعدکشمیر واحدمیدان جنگ بچتا ہے اور طالبان دوسری شدت پسندقوتیں یہاں آ سکتی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں انھوں نے کہاکہ اگربھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے بارے میں روایتی ہٹ دھرمی چھوڑ دے تووہ لوگ (عسکری گروپس) بھی لچک کامظاہرہ کریں گے ،بھارتی پولیس اور فوج کشمیری نوجوانوں کو ہراساں کرکے انہیں تشددکی طرف دھکیل رہی ہے۔ایک سوال کہ اگر طالبان نے کشمیر کا رْخ کیاتو بات چیت اور امن عمل کی حامی حریت کانفرنس ان کی حمایت کرے گی؟

06

اس کے جواب میں میرواعظ نے کہا کہ اگر انتہاپسند قوتیں غالب آگئیں تو امن عمل اور اس میں یقین رکھنے والے حلقے غیرمتعلق ہوجائیںگے،پھر یہ سوال نہیں ہوگا کہ ہم ان کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں، وہ توبھارتی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔میرواعظ نے کہاکہ بھارت کشمیرمیں ہونے والے انتخابات کوعالمی سطح پرحق خود ارادیت کے متبادل کے طوراستعمال کرتا رہا ہے لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔