تالاب اور گندی مچھلیاں

قانون وغیرہ کے بارے میں تو کچھ زیادہ نہیں جانتے اگر جانتے تو اب تک قلم گھسانے کے بجائے رقم گن رہے ہوتے


Saad Ulllah Jaan Baraq February 07, 2017
[email protected]

قانون وغیرہ کے بارے میں تو کچھ زیادہ نہیں جانتے اگر جانتے تو اب تک قلم گھسانے کے بجائے رقم گن رہے ہوتے، مطلب یہ کہ قانون سے واقف ہوتے تو اس کے ساتھ ''بے تکلف'' ہوتے اور بے تکلفی میں ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ملاقات اور ''مکالات'' بھی ہو جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی ایسی بات آجاتی ہے جو ہماری طبیعت کے منافی ہوتی ہے لیکن ہم چپ رہتے ہیں یا صرف ہنس دیتے ہیں کہ چلو قانون ایک دریائے علم ہے، یہ بھی کہیں ہو گا اس میں، اب مثال کے طور پر یہ جو بعض لوگوں کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگ جاتی ہے یہ معاملہ بالکل ہمارے سر کے اوپر سے اڑرہا ہے کیونکہ ہمارے خیال میں تو ناپسندیدگی کا سب سے اچھا طریقہ تو یہ ہے کہ اس ناپسندید شخص کو دھکے دے کر محفل سے، گاؤں سے شہر سے یا ملک سے باہر نکالا جائے اور پہلے زمانوں میں ایسا ہوتا بھی تھا، ناپسندیدہ عناصر کو لوگ باہر نکال دیا کرتے تھے جیسے انگریزوں کے زمانے میں تھڑی پار، ضلع بدر، تحصیل بدر یا شہر بدر کہا کرتے تھے، اس سلسلے میں بڑا ہی دل چسپ واقعہ باچا خان کا ہے۔

انگریزی دور میں انھیں چارسدہ بدر کر دیا گیا تو انھوں نے ایک ایسے گاؤں میں ڈیرہ جما لیا جو چارسدہ اور مردان کی عین سرحد پر تھا بلکہ اس گاؤں میں ایک نہری نالہ بہتا تھا جو دونوں ضلعوں ان دنوں چارسدہ ضلع پشاور کی ایک تحصیل ہوا کرتا تھا جو دونوں میں حد فاصل تھا، باچاخان حکومت کے سخت مخالف ہونے کے قانون کی خلاف وزی کبھی نہیں کرتے تھے چنانچہ ان کے لیے ایک چارپائی اس نالے کے اوپر بچھا دی جاتی تھی جس کے دو پائے نالے کی ایک طرف اور دو پائے دوسری طرف ہوتے تھے۔ باچا خان چارپائی میں بیٹھ کر دونوں اطراف سے آئے ہوئے لوگوں سے بات چیت کرتے تھے بلکہ جلسہ کی حالت ہوتی تھی۔ چارسدہ یا پشاور کی پولیس چیک کرنے آتی تو وہ چارپائی کے پائنتے ہو جاتے تھے اور مردان کی پولیس آنکلتی تو وہ سرک کر سرہانے بیٹھ جاتے تھے۔ خیر یہ تو درمیان میں ایک واقعہ یاد آگیا۔

مطلب یہ کہ اگلے زمانوں میں یہی ضلع بدری شہر بدری صوبہ بدری کا دستور تھا، لیکن آج کل سنتے ہیں تو فلاں کے باہر جانے پر پابندی اورای سی ایل کی خبریں آتی رہتی ہیں ، کیا اس سے بہتر یہ نہیں ہو گا کہ ناپسندیدہ عناصر کو روکنے کے بجائے ''بدر'' کر دیا، ٹھیک ہے اگر ایان علی جیسی شخصیات کو روکا بھی جائے تو کچھ نہ کچھ جواز تو بنتا ہے، اچھی چیزوں کو باہر پھینکنا بھی نادانی ہے لیکن بعض تو ایسی شخصیات ہوتی ہیں جن کو دفع دور کرنا ہی بہتر ہوتا ہے، اس کے لیے ''تالاب اور مچھلی'' کا استعارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن کسی مچھلی کو تالاب ہی میں روکنا اور اسے کسی صورت باہر نہ نکلنے دینا ... یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا بلکہ اس کے جو الٹا عمل ہے کہ مگس کو باغ میں جانے نہ دینا، وہ بھی ٹھیک ہے ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ کسی نقصان دہ اور خطرناک چیز کو ملک یا باغ کے اندر نہ آنے دے کہ وہ یہاں اپنی غیر پسندیدہ سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

مطلب یہ کہ تمام حالات و واقعات، شواہد و دلائل اور وکیلوں کی بحث سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ناپسندیدہ عناصر کو دفع دور کیا جائے چہ جائیکہ انھیں روکنے رکھنا۔ ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ کچھ زیادہ قانونی جانکاری نہیں رکھتے اگر سیدھا سیدھا سوچا جائے کہ ان عناصر کو اگر دفع دور کرنے میں یہ امر مانع ہے کہ کہیں بھاگ نہ جائیں اور اپنے جرائم کی وجہ سے فرار کا راستہ اختیار نہ کریں ۔ تو یہ اتنی اونچی اونچی جیلوں کی دیواریں کس لیے ہیں، جب ان میں ہزاروں بے گناہ ''ملزموں'' کو ضمانت سے محروم کر کے سرکاری مہمان بنایا جا سکتا ہے تو ان ناپسندیدہ عناصر کو بھی وہیں پر آرام سے رکھا جائے، ہم نے ایسے ایسے ملزم دیکھے ہیں بلکہ اب بھی ہزاروں کی تعداد میں جیلوں کے اندر ہیں جو کسی بھی طرح ملک سے باہر جانے کی استطاعت نہیں رکھتے، بہت چھوٹے چھوٹے بلکہ جھوٹے جھوٹے الزامات میں بھی ان کو ضمانت پر نہیں چھوڑا جاتا یہاں تک جیلیں بھی ان کے لیے ناکافی ہو رہی ہیں، ان بے چاروں کا جرم یہ ہے کہ نہ تو بڑے بڑے اور بہت سارے وکیل رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں اور نہ ''کچھ اور'' رکھتے ہیں۔

ان کی جگہ اگر ان ایگزٹ والوں کو مہمان بنا کر رکھا جائے تو کیا مضائقہ مال عرب ہش عرب بھی رہے گا اور باہر جانے بھی نہ پائیں گے، ویسے ہمارے خیال میں تو پہلی وہ پرانی والی صورت بہتر ہے کہ ایسی مچھلیوں کو تالاب سے جتنی جلدی ہو سکے نکال کر باہرپھینکا جائے ہاں اگر ایسی چیزوں کی کچھ افادیت بھی ہو تو پھر ٹھیک ہے جیسا کہ ... خیر چھوڑیئے وہ تو سب کو پتہ ہے، لیکن یہ تو ایک معمولی سا یعنی ہم جیسا قانون سے نابلد بھی جانتا ہے کہ اگرکوئی چیز بری ہے تو وہ بری ہے اور اسے پھینک ہی دینا چاہیے، جہاں تک متوقع مقدمات کا تعلق ہے تو کل کس نے دیکھا ہے کتنے بڑے بڑے مجرم کبھی مجرم تھے اور پھر محترم ہو گئے، اور کتنے محترم ہیں جو پلک جھپکتے ہی مجرم ہو جاتے ہیں۔