حیات محمد خان شیر پاؤ … ایک شعلہ جوالہ
بانگ حرم ماسٹر خان گل تن تنہا چلاتے تھے
ABUJA:
آج سے کوئی چالیس پنتالیس برس پہلے کی بات ہے ہم پشاور کے ایک مقامی اخبار بانگ حرم میں بیٹھے اداریہ لکھ رہے تھے کہ دو نوجوان داخل ہوئے ان میں ایک تو مناسب قدو قامت کا خوب صورت نوجوان تھا اور ایک لمبے تڑنگے قدو قامت کا گرانڈیل ذرا پختہ عمر کا جوان تھا، دونوں سے تعارف ہوا تو ایک کا نام حیات محمد شیر پاؤ اور دوسرے کا حق نواز گنڈا پور تھا، نام ان دونوں کا ہم نے سنا ہوا تھا جو بھٹو کی نوخیز پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ ایوب خان کا دور حکومت تھا لیکن مسلم لیگی ممتاز رہنماء اس کا نام اپنے بیانات وغیرہ میں کم ہی لیتے تھے اور اکثر اس کی صفات عالیہ کو ''ولولہ انگیز'' قیادت کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ایک عورت کے شوہر کا نام رحمت اللہ تھا تو وہ نماز کے بعد جب سلام پھیرتی تھی تو السلام علیکم و رحمت اللہ کے بجائے السلام علیکم نٹو کے ابا ۔۔۔ السلام علیکم نٹو کے ابا کہا کرتی تھی کیوں کہ اس زمانے میں عورتیں اپنے شوہروں کا نام مارے ادب کے نہیں لیا کرتی تھیں۔
ایوب خان کا درجہ بھی ممتاز مسلم لیگیوں کے اس درجہ قابل احترام ہو گیا کہ وہ نام کی گستاخی نہ کرتے ہوئے اسے ہماری ولولہ انگیز قیادت، پاکستان کی ولولہ انگیز قیادت، ولولہ انگیز ولولہ انگیز ... یہ نام اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ ایک دن ہمارا ایک کاتب جب دفتر میں آیا تو بولا ... کچھ سنا ہے؟
ولولہ انگیز قیادت بیمار ہو گئی ہے، چونکہ ہمارا چھوٹا سا مقامی اخبار ولولہ انگیز قیادت کے خلاف تھا اور اس وجہ سے جب اسٹال پر پہنچتا تھا تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا جب کہ ٹرسٹ اور دوسرے اخبارات نہایت مزین اور موٹے ہونے کے باوجود اسٹال پر پڑے رہ جاتے تھے، ہر طرف سے مانگ ہی مانگ تھی لیکن کاغذ پر سرکاری کنٹرول ہونے کے باعث بہت کم تعداد میں چھپتا تھا، ایک نوائے وقت اور ایک بانگ حرم اس وقت مقبول ترین اور فیورٹ اخبار ہوا کرتے تھے۔
بانگ حرم ماسٹر خان گل تن تنہا چلاتے تھے، اشتہارات بند تھے سرکولیشن میں کاغذ کا مسئلہ تھا اس لیے ہماری تنخواہیں بھی صرف چھوٹے چھوٹے نجی یا سینما کے اشتہارات سے بندھی ہوئی تھیں اور قسطوں میں ادا کی جاتی تھیں چنانچہ ہم بھی کالم اور اداریئے کے ساتھ ساتھ دن کے شفٹ انچارج بھی تھے رپورٹر بھی تھے اور نمایندہ خصوصی بھی۔
حیات محمد شیر پاؤ نے بڑی مسکینی سے کہا کہ دوسرے اخبارات ہمارے بیان پہلے تو شایع نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو کاٹ کوٹ کر ... صرف بانگ حرم ہماری ترجمانی کر رہا ہے آپ ایسا کریں کہ ہم نے نیپ کی شراکت میں ایک دورے کا پروگرام بنایا ہے مختلف مقامات پر جلسے منعقد کرنے کا، آپ مہربانی کر کے اپنا ایک رپورٹر ان جلسوں کو رپورٹ کرنے کے لیے دے دیں، رپورٹر ہمارے پاس تھا ہی کون؟
چنانچہ ہم خود ساتھ ہو لیے، کل سات مقامات پر سات جلسے ہوئے جو بڑے شہروں کے بجائے چھوٹے مرکزی مقامات پر تھے، ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن ایک جلسہ ہونا تھا، ابتداء شبقدر سے ہوئی پھر تنگی پھر تخت بھائی ... پھر صوابی پھر جہانگیرہ، پھر اکوڑہ خٹک اور اختتام پبی پر ہوا، ان جلسوں میں نیپ کے مقامی لیڈروں کے ساتھ حیات محمد خان شیر پاؤ اور حق نواز گنڈا پور تقریریں کرتے تھے، حیات محمد خان پیشہ ور مقرر نہیں تھے اس لیے تقریری کمالات نہیں دکھاتے تھے لیکن جو بھی یہ جوان کہتا تھا وہ عوام کے دلوں کی بات ہوتی تھی گویا
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا
حق نواز گنڈا پور کی زبان جنوب کی ہوتی تھی جو شمال میں ذرا کم سمجھی جاتی تھی لیکن اس شخص کے اندر کی آگ اس کے منہ سے نکلتی، بڑا دبنگ آدمی تھا بڑے بڑے بال بڑھی ہوئی شیو بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ ایک بڑا لمبا اوور کوٹ بھی پہنے ہوئے ہوتا تھا اگر بے وقت نہ مرتا تو بہت بڑا لیڈر بن سکتا تھا، لیکن یہی جوانا مرگی تو حیات محمد خان شیر پاؤ کو لے گئی ورنہ وہ بھی ایک شعلہ جوالہ تھا اور اگر زندہ رہتا تو پورے الاؤ میں تبدیل ہو سکتا تھا لیکن یہ غنچہ بن کھلے مرجھا گیا۔
آج تو پیپلز پارٹی روٹی کپڑا مکان کو بھول کر روٹی کپڑا مکان چھیننے والوں میں شامل ہو چکی ہے اس لیے اسے شاید اپنے اس پہلے شہید کا خیال بھی نہ آتا ہو کیوں کہ سیاست میں عقیدت اور حقیقت دونوں کی گنجائش نہیں ہوتی صرف مفادات دیکھے جاتے ہیں، پشتو کا ایک ٹپہ ہے کہ
د لیونی حجت پورہ شو
پہ لارہ می پہ کانڑو اولی زیارتونہ
یعنی ''دیوانی'' کی حاجت پوری ہو گئی اب وہ راہ چلتے ہوئے ان ''مزاروں'' کو پتھر مارتی ہے جن پر کبھی منتیں مانگا کرتی تھی ۔ بہرحال حیات محمد شیر پاؤ ایک پشتون تشخیص کا علمبردار تھا اور اس محروم مظلوم اور معتوب خطے کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا اور اگر زندہ رہتا تو یقیناً کر بھی جاتا لیکن شاید یہی ''جرم'' اس کی شہادت کا باعث بن گیا تھا نوجوان تھا جوشیلا تھا جذباتی تھا، سیاسی منافقت اسے آتی نہیں تھی اور ایسے لوگ سیاست میں زیادہ دیر تک اور زیادہ دور تک نہیں چل پاتے اور نہیں چل پایا ۔ کاش چل پاتا کاش اس نے جذبات کو سیاست کی سیاہ چادرمیں چھپایا ہوتا تو نہ جان سے جاتا ورنہ اس بدنصیب خطے اور قوم کے لیے کچھ کر بھی جاتا۔