حافظ سعید کو سیاست میں کون لا رہا ہے
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر نے چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کر دیا ہے
KARACHI:
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر نے چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ لیکن مزہ کی بات تو یہی ہے کہ طوفان چائے کی پیالی میں ہی خوبصورت لگتا ہے جب یہ چائے کی پیالی سے باہر آجاتا ہے تو اس کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے اور یہ بد نما اور بدتمیز بن جاتا ہے۔ یہ بات اہم نہیں ہے کہ خواجہ آصف نے جو کہا ہے کہ وہ اہم ہے کہ نہیں۔بات یہ ہے کہ اصل حقائق کیا ہیں اور درپیش معاملات سے نمٹنے کے لیے کیا بہترین پالیسی اختیار کی جائے۔
ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ اس وقت معاملہ تو افغانستان کے ساتھ چل رہا ہے اور بیان حافظ سعید کے خلاف دیے جا رہے ہیں۔ کیا ہمارے وزراء کرام کو اس موقع پر افغانستان پر بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ حافظ سعید کا معاملہ اہم ہے یا افغانستان کا، اس سلسلے میں حکومتی ترجیحات کا تعین ہونا چاہیے تاکہ قوم جو اس وقت گومگو کی کیفیت میں ہے اس سے باہر نکل سکے،سب سے اہم بات یہ کہ ملکی سلامتی اور بقا پر کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونا چاہیے۔
میں نے جواب میں کہا کہ آپ درست فرما رہے ہیں،اگر ہمارے وزراء سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ آہستہ آہستہ سمجھ جائیں گے۔ میرے دوست کو شاید میرا جواب پسند نہیں آیا اور وہ مجھ سے ناراض ہو گیا کہ میں اس کے ساتھ غیر سنجیدہ بات کر رہا ہوں۔ وہ کہنے لگا کہ موجودہ وزراء تو اس حکومت کے قیام کے پہلے دن سے اس کے ساتھ ہیں،انھیں معاملات اب تک سمجھ لینے چاہیے تھے اور آپ کہہ رہا ہیں کہ وہ سمجھ جائیں گے۔
میرے دوست کا دوسرا سوال یہ ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ایک طرف حافظ سعید کو پاکستانی معاشرہ کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف کلبھوش یادیو کے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بھی پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کیا ہے۔ کیا دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جا رہا ہے،کیا ایسا غلط نہیں کیا جا رہا، میرا دوست جذباتی انداز میں خطرے کی ریڈ لائن پار کر رہا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اہم قومی حساس موضوعات پر اس طرح کے غیر اہم سوال نہیں کرتے۔ لیکن میرا دوست نہ تو موضوع بدلنے کے لیے تیار تھا اور نہ ہی میری جان چھوڑنے کے لیے تیار تھا۔
میری مکمل خاموشی کے سامنے بھی وہ سرنڈر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔اس کا خیال تھا کہ حکومت غلط کھیل رہی ہے۔ کہنے لگا کہ اچھا یہ بتا دیں کہ ریاست اور حکومت میں کیا فرق ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایک فیصلہ حکومت نے کیا ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ ایک فیصلہ ریاست نے کیا ہے، اس میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا ویسے تو ناسمجھوں کے لیے ایک ہی بات کہنے کے دو مختلف طریقے ہیں تاہم سمجھداروں کے لیے ان میں بہت فرق ہے لہٰذا سمجھ دار اس فرق کو بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔
جہاں تک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے کا تعلق ہے تو یہ درست ہے کہ بھارت نہیں چاہتا کہ ہم عالمی سطح پر اس معاملہ کا زیادہ ذکر کریں کیونکہ اس سے اس کی سبکی ہوتی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان میں بھی معاملات سست روی کا شکار رہے ہیں۔ ہمیں کلبھوشن کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہیے۔
عالمی مبصرین کو اس مقدمہ کی کارروائی دیکھنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ کلبھوشن بھی اپنے انجام تک پہنچ سکے اور دنیا کو بھی علم ہو سکے کہ ہم نے انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ اس ضمن میں یہ بیان خوش آیند ہے کہ کلبھوشن کے معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اس کا منطقی انجام عدالت میں ٹرائل ہی ہے۔ میری اس ضمن میں یہ بھی رائے ہے کہ یہ ٹرائل ایک کھلی عدالت میں ہونا چاہیے۔
حافظ سعید کے خلاف بیان نے حافظ سعید اور ان کی جماعت کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود چاہتی ہے کہ حافظ سعید سیاسی طور پر زندہ رہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے تحت حافظ سعید کو سیاست میں لا رہی ہے۔ حافظ سعید کی سیاسی لانچنگ کا ٹھیکہ حکومتی وزرا کے پاس ہے۔
ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ حافظ سعید کو ٹرمپ کے خوف اور ٹرمپ مودی دوستی کے خوف سے نظر بند کیا گیا ہے۔ حکومت ریاست کو سمجھا رہی ہے کہ اس طرح ٹرمپ کو پاکستان مخالف اقدامات سے روکا جا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست نے حافظ سعید کی نظر بندی کی اجازت دیکر حکومت کو ٹرمپ سے معاملات طے کرنے کی کھلی چھٹی دی ہے تا کہ کل کو حکومت ریاست کو ذمے دار نہ ٹھہرا دے۔ اس تناظر میں حافظ سعید کو بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ وسیع تر قومی مفا د میں قربانی دے رہے ہیں۔
اگر بغیر کسی قصور کے بھی وسیع تر قومی مفاد میں قربانی دینا پڑے تو یہ بھی کسی اعزاز سے کم نہیں۔حالانکہ سفارتکاری کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خوف کے سائے میں کوئی بھی سفارتکاری نہ تو کامیاب ہو سکتی ہے اور نہ ہی مثبت نتائج دے سکتی ہے۔ سفارتکاری برابری اور اصولوں پر رہتے ہوئے دلیل سے اپنی بات منوانے کا کام ہے۔
کیا کوئی سوال کر سکتا ہے کہ جب حکومت نے حافظ سعید کو نظر بند کر ہی دیا ہے ، اور حکومت واقعی انھیں پاکستانی معاشرہ کے لیے خطرہ سمجھتی ہے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیوں نہیں کرتی۔ کیا صرف حافظ سعید کے خلاف بیان دینے سے وہ مجرم ثابت ہو جائیں گے۔ حکومت کو علم ہے کہ وہ ایک لمبے عرصہ تک حافظ سعید کو نظر بند نہیں کر سکتی۔ اس طرح تو حافظ سعید عدالتوں سے سرخرو ہو کر رہا ہو جائیں گے۔ لیکن شاید حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ حافظ سعید سرخرو ہو جائیں اور ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز کر سکیں۔ کیا حکومتی وزرا اپنے بیانات سے حافظ سعید کو سیاسی میدان میں نہیں دھکیل رہے۔
ایک طرف حافظ سعید کو پاکستانی معاشرہ کے لیے خطرہ قراردیا جا رہا ہے اور دوسری طرف لاہور میں خود کش حملہ کے بعد حافظ سعید کی تنظیم زخمیوں کی مدد میں سب سے آگے نظر آرہی تھی، زخمیوں کو خون مہیا کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اس تنظیم نے پاکستان سے محبت کی عظیم داستان رقم کی ہے۔ اس کی قربانیوں سے کون انکار کر سکتا ہے۔
میرا دوست کافی دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولا کہ یہ حکومت حافظ سعید کو سیاست میں کیوں لانا چاہتی ہے۔ کیوں حا فظ سعید کو ایسی بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں سے صرف سیاست ہی واحد آپشن رہ جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ مانیں یا نہ مانیں حافظ سعید بھی سیاست پر قائل ہو رہے ہیں۔ وہ بھی اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ اب زندہ رہنے کے لیے سیاست ہی واحد آپشن ہے۔ اور اب تو وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس سیاسی جماعت کے خدوخال اور اہداف کیا ہوں گے۔
آپ مانیں یا نہ مانیں ایسے سیاستدانوں نے حافظ سعید سے رابطے شروع کر دیے ہیں جو حافظ سعید کے ذریعے اپنی سیاسی بحالی کی امید رکھتے ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی چاہتے ہیں کہ حافظ سعید سیاست میں آجائیں۔ان کے آنے سے مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا خواب بھی پورا ہو سکتا ہے۔ کیا حافظ سعید ایک نئی متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں ۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ وہ فارمولہ ہے جو حافظ سعید کے دوست ان کو دے رہے ہیں۔ کیونکہ حکومت بھی حافظ سعید کو ایسے موڑ پر لے کر جا رہی ہے جہاں انھیں سیاست میں ہی اپنی بقا نظر آرہی ہے۔