کرپشن کی جڑ اور کھدائی
درخت اپنی بڑھوتری کے لیے اپنی جڑیں زمین میں اتار کر خوراک حاصل کرتے ہیں
ایک بڑی ہی دل دھڑکا دینے والی خبر آئی ہے کسی اور کے لیے شاید نہ ہو لیکن ہمارے لیے تو یقیناً ہے کیوں کہ آپ کو تو معلوم ہے کہ ہم نے اس معصوم، مظلوم اور معلوم اور بے یارو مددگار ''کرپشن'' کی طرف داری کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے' دراصل ہم سے پاکستانیوں اور خاص طور پر خاص الخاص پاکستانیوں کی یہ محسن کشی برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ یہ لوگ اتنے تابعدار، ملنسار اور خدمت کار محسن کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جائیں کہ جسے دیکھو اس بے چاری کو کوس رہا ہے چنانچہ ہم نے بھی سخن فہمی کو ٹاٹا بائے بائے کہہ کر اس کی طرفداری پہ کمر باندھ لی، لیکن اب کے جو نیا نقطہ آیا ہے' اس نے ہمیں تھوڑا سا مشوش کر دیا ہے کہ ''کرپشن کو ''جڑ'' سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں''اگرچہ بات ابھی ''پرعزم''کے مرحلے میں ہے اور ابھی آگے' مقامات ''چنیں و چناں''بہت ہیں لیکن پھر بھی ہمارے دل میں اندیشہ ہائے دور دراز تو پیدا ہو رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے، پہلے تو ہم اپنی موکلہ یعنی کرپشن سلمہ کو تسلی دینا چاہتے ہیں کہ ڈرنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہنوز دلی دور است، ''پرعزم'' کے مرحلے سے بات ''جڑ'' تک پہنچے گی تو اس میں کئی ہفت خواں آئیں گے اور ہفت خواں سر کرنے کے لیے ''رستم'' کی ضرورت ہو گی جو شاید ملے نہ ملے
حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسد
پہلے دل گراختہ پیدا کرے کوئی
اس کے بعد یہ بات بھی خاصی تحقیق طلب ہے کہ کرپشن کی جڑ ہے کہاں؟ کیوں کہ ابھی تک تو اس کا ٹھیک ٹھیک پتہ نہیں چلایا جا سکا ہے کوئی ایک جگہ بتاتا ہے تو کوئی دوسری جگہ پرانگلی رکھتا ہے پہلے تو جڑ کی نشان دہی بڑی مشکل ہے کیوں کہ ماہرین کسی خاص اور یقینی جگہ کا تعین نہیں کر پا رہے ہیں اور اگر بالفرض جس کا کوئی امکان نہیں ہے جڑ کی نشاندہی ہو بھی گئی تو کھدائی کرنے میں کئی مسائل پیش آ سکتے ہیں کیوں کہ کرپشن کے ستر سالہ شجر سایہ دار کی جڑیں لاتعداد بھی ہوں گی اور کافی زیادہ موٹی بھی ہوں گی کیوں کہ زمین نہایت ہی نرم زرخیز اور اپجاؤ ہے۔
کھدائی کرنے والے زیادہ سے زیادہ بیلچہ کدال اور کلہاڑی سے کام لیں گے کیوں کہ نازک مقام ہے، یہاں وہاں آبادی بلکہ سرکاری عمارات ہیں جن میں کچھ تو شاید حساس بھی ہوں اور اس لیے مشینری یعنی فوک لائن یا بلڈوز وغیرہ تو استعمال کیے ہی نہیں جا سکتے ، روایتی مزدور روایتی آلات استعمال کریں گے مطلب یہ کہ وقت کی کوئی لمٹ تو دی نہیں جا سکتی، لیکن اصل مسئلہ یہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ اس شجر کرپشن کی جڑیں کہاں ہوں گی کیوں کہ روایتی معنوں میں یہ ''شجر'' نہیں ہے بلکہ چلتی پھرتی جاندار ہیں اور چلتے پھرتے جانداروں کی جڑیں زمین کے بجائے ان کے پیٹ میں ہوتی ہیں جیسا کہ انسانوں اور حیوانوں کی جڑیں معدہ وامعا یعنی انتڑیوں کی شکل میں ہوتی ہیں۔
درخت اپنی بڑھوتری کے لیے اپنی جڑیں زمین میں اتار کر خوراک حاصل کرتے ہیں لیکن چلتے پھرتے حیوان ان جڑوں کو اپنے اندر رکھ کر ان کے ذریعے خوراک حاصل کرتے ہیں اور ان جڑوں کو نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور بیان میں ''اکھاڑ پھینکنے'' کی بات کہی گئی، ذرا سوچیے اگر کرپشن کی جڑیں یا انتڑیاں اکھاڑ کر پھینک دی گئیں تو کیا کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ہماری تو سوچ کر تھرتھری چھوٹ جاتی ہے، پوری بات سمجھنے کے لیے وہ مشہور و معروف کہانی یاد کیجیے جو بچپن میں آپ نے یقیناً سنی ہو گی، کہ ایک مرتبہ جسم فرض کر لیجیے وہ جسم کرپشن کا تھا اس جسم کے سارے اعضا نے آپس میں مسکوٹ کی کہ کام ہم کرتے ہیں اور یہ پیٹ مفت میں کچھ کیے بغیر کھاتا رہتا ہے چنانچہ سب نے ہڑتال کا فیصلہ کر دیا۔
آنکھوں نے دیکھنے، کانوں نے سننے، ناک نے سونگھنے، پیروں نے چلنے اور ہاتھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تاکہ اس پاپی اور مفت خور پیٹ کو لگ پتہ جائے، لیکن وہ لگ پتہ الٹا ہو گیا، پیٹ بے چارا اور تو کچھ کر نہیں سکتا تھا چنانچہ وہ بھی بھوکا پڑا رہا، ہڑتال کنندہ اعضاء نے وہ مارا کا نعرہ بلند کیا اور لگے ناچنے گانے لیکن پھر اچانک ان سب نے محسوس کیا کہ وہ کمزور پڑتے جا رہے ہیں اور یہ کمزوری مسلسل بڑھتی رہی کسی نے خبر دی کہ پیٹ نے طاقت کی سپلائی لائن منقطع کر دی۔
سارے اعضاء نے سوچا یہ ''گلِ دیگر شگفت'' ساری طاقت کا منبع تو یہ پیٹ کم بخت نکلا، تب انھوں نے آخری مسکوٹ کر کے ہڑتال توڑ دی، ہمارا خیال ہے کہ کہیں کرپشن کی جڑیں بھی ایسی نہ ہوں کہ ان کے اکھاڑ پھینکنے سے سارا نظام ہی مفلوج ہو جائے اور معاملہ یقیناً ایسا ہی نکلے گا کہ بات چلتے چلتے عین مرکزی مقام ''شکم'' اور انتڑیوں تک جائے گی یعنی بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی، اور یہ کون نہیں جانتا کہ جانداروں کے اس مرکزی مقام کو اتنا محفوظ اور سات پردوں میں ملفوف کیوں بنایا گیا ہے اس لیے ہمارا مشورہ ان بہاف آف کرپشن یہ ہے کہ
خدا کے واسطے پردہ نہ کعبے سے اٹھا ظالم
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
امید ہے اب ہماری موکلہ کرپشن سلمہ کی تسلی ہوگئی ہو گی کہ ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں، راوی کیا جناب جہلم بیاس ستلج بلکہ سندھ بھی چین ہی لکھ رہا ہے منا بھائی بن کر لگے رہیے اور اہل پاکستان کی خدمت یعنی ''قرض اتارو ملک سنوارو'' کی طرح کرتے رہیے... عرفی تو میندیش ... کم نہ کند رزق گدارا۔