لاڑکانہ کی 136 یونین کونسلز کا ریکارڈ جل جانے کا انکشاف

وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری اور میئر لاڑکانہ کو لیٹر لکھا جائے، چیئرمین سلیم جلبانی کی ہدایت


Staff Reporter February 24, 2017
ہمارے پاس اکاؤنٹنٹ ہے نہ انجینئر، میونسپل کمشنر کی سندھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR: لاڑکانہ کے میونسپل کمشنر نے جمعرات کوسندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیاہے کہ وہ لاڑکانہ میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کرسکتے کیونکہ لاڑکانہ میونسپل کمیٹی کے پاس لاڑکانہ کی136یونین کونسلوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، سال 2012 سے 2013-14 کا ریکارڈ جل گیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میںچیئرمین سلیم رضا جلبانی کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں لاڑکانہ کے چیف میونسپل آفیسر انیس الرحمن نے بتایا کہ اجلاس میں اکاؤنٹنٹ کو آنا تھا لیکن لاڑکانہ میونسپل کمیٹی کے پاس اکاؤنٹنٹ ہے نہ انجینئر اورنہ ہی کوئی ٹیکنیشن مقرر ہوا ہے، انھیں وہاں آئے ہوئے ڈیڑھ ماہ ہوا ہے۔

ڈی جی لوکل آڈٹ ناصرہ پروین نے کہاکہ یہ ممکن نہیںکہ تمام یونین کونسلوں کا ریکارڈ میسر نہ ہو، حیرت کی بات ہے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سلیم رضا جلبانی نے حکم دیاکہ حسابات کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری اور میئر لاڑکانہ کو لیٹر لکھا جائے اور میونسپل کمیٹی کو 15 روزکے اندر حساب پیش کرنے کا پابند کیا جائے، یہ کیسے ممکن ہے کہ 136 یونین کونسلوں کا ریکارڈ جل گیا ہو، احتساب کے اداروں سے تحقیقات کرائیں گے۔ کسی نے مخصوص مقاصد کے تحت آگ لگائی ہوگی، اس کے باوجود ریکارڈ ایک نہیں کئی جگہ ہوتا ہے۔