خام مال کی درآمد پر ٹیکس استثنیٰ لینے والوں کے آڈٹ کی ہدایت

ٹیکس ریٹرنزمیں ایگزمشن سرٹیفکیٹس ظاہرکرنے والوں سے خام مال کی کھپت، پیداواراورفروخت کے ریکارڈکی جانچ کویقینی بنایاجائے


Irshad Ansari March 02, 2017
عدم تعاون اورمطمئن نہ کرنے پرواجبات جرمانے وسرچارج سمیت لیے جائیں، ایف بی آر کا آر ٹی اوز اورایل ٹی یوز چیف کمشنرزکو خط فوٹو: فائل

ایف بی آر نے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی و ٹیکسوں سے چھوٹ حاصل کرنے والے تمام ٹیکس دہندگان کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آرکی جانب سے تمام ریجنل ٹیکس آفسزاور لارج ٹیکس پیئر پونٹس کے چیف کمشنرز اور دیگر ماتحت اداروں کے سربراہان کو خطوط ارسال کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی و ٹیکسوں سے چھوٹ لینے کیلیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی شق 159 اور شق148 کے تحت ایگزمشن سرٹیفکیٹس حاصل کیے گئے ہیں۔

ان کے آڈٹ کیے جائیں۔ لیٹر کے مطابق فنانس ایکٹ 2016کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے دوسرے شیڈول کے پارٹ فور کی کلاز 72 بی میں ترمیم کے ذریعے ایگزمشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے ٹیکس دہندگان کی جانب سے ڈیوٹی و ٹیکس فری درآمد کیے جانے والے خام مال کی کھپت، اس خام مال سے ہونے والی پیداوار اور آخری سال کی سیل کے آڈٹ کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے کیونکہ ایگزمشن سرٹیفکیٹ کے تحت ڈیوٹی و ٹیکس فری خام مال درآمد کرنے والوں کا آڈٹ لازمی قرار دیا گیا تھا لیکن پتہ چلا ہے کہ فنانس ایکٹ 2016کی مذکورشق پر مکمل عملدرآمد نہیں ہورہا لہٰذا تمام ماتحت اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ فنانس ایکٹ کی مذکورہ ترمیمی کلاز کے تحت ایگزمشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے ٹیکس دہندگان کا ٹیکس ایئر کے حساب سے آڈٹ کیا جائے۔

لیٹر میں کہا گیا کہ جن ٹیکس دہندگان نے اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں درآمدی خام مال پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے چھوٹ کے حوالے سے ایگزمشن سرٹیفکیٹ ظاہر کر رکھے ہیں انہیں انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 214 سی کے تحت آڈٹ کیلیے منتخب کرکے تفصیلات طلب کی جائیں۔ دستاویز کے مطابق آڈٹ کے دوران ٹیکس دہندگان کو اپنے موجودہ اکاؤنٹس سمیت دیگر تمام مطلوبہ ریکارڈ و دستاویزات فراہم کرنا ہونگی اور اگر کوئی ٹیکس دہندہ موجودہ اکاؤنٹ اور دیگر دستاویزات پیش نہیں کرتا اور آڈٹ میں ٹیکس اتھارٹیز کو مطمئن نہیں کرتا تو ڈیوٹی و ٹیکسوںکی قم بمعہ جرمانہ و سرچارج ریکور کی جائے۔