قتل کا خدشہ پولیس افسرکو تحفظ فراہم سرکاری وکیل نظرانداز

گرفتارملزمان نے سرکاری وکیل اورانسپکٹرکے قتل کی منصوبہ بندی کاانکشاف کیاتھا.


Staff Reporter January 09, 2013
محکمہ پولیس نے وکیل عبدالمعروف کو صرف ایک اہلکاردیا جو اکثر غیر حاضر رہتا ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں امتیازی سلوک کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

ایک ہی گروہ کی جانب سے ملنے والی دھمکیوںکے نتیجے میں پولیس اہلکار کو تحفظ فراہم کردیاگیا جبکہ وکیل کو تاحال مناسب تحفظ فراہم نہیںکیا گیا، تفصیلات کے مطابق سی آئی ڈی کی جانب سے گذشتہ سال اکتوبر میں محکمہ پولیس کو اطلاع دی گئی تھی کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ،لشکر جھنگوی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں فرائض انجام دینے والے سرکاری وکیل عبدالمعروف اور انسپکٹر سرورخان عرف سرور کمانڈو کے قتل کی منصوبہ بندی کررہی ہے ،اس لیے ان کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔

 

اس اطلاع کی بنیاد پر آئی جی سندھ نے دسمبر میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے رجسٹرار کو ایک جیسے خطوط ارسا ل کیے گئے اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو بھی اس سلسلے میں مزید ہدایات جاری کی گئیں ، عبدالمعروف انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 03میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور صحافی ولی بابر قتل کیس سمیت دہشت گردی کے اہم مقدمات کی پیروی کررہے ہیں جن میں بیشتر کا تعلق کالعدم تنظیموں کے ملزمان سے ہے۔

09

واضح رہے کہ ایک مقدمہ قتل کی تفتیش کے دوران کالعدم لشکرجھنگوی سندھ کے صدر حافظ قاسم رشید نے سی آئی ڈی کے افسران کے روبرو انکشاف کیاتھا کہ انکی تنظیم جن افراد کے قتل کی منصوبہ بندی کررہی ہے ان میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف سرفہرست ہیں ، اس انکشاف کے بعد پولیس انسپکٹر کو مناسب تحفظ فراہم کیا گیا لیکن سرکاری وکیل کو صرف ایک محافظ فراہم کیا گیا جو کہ اکثرغیرحاضر رہتا ہے۔