مصباح ریٹائر کیوں نہیں ہو رہے
پی ایس ایل میں مصباح کی ٹیم اسلام آباد یونائٹیڈ ٹائٹل گنوا بیٹھی اور وہ خود 9میچز میں صرف 158 رنز ہی بنا سکے
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کو چھوڑ چکے۔ فوٹو : فائل
کرکٹ میں ٹائمنگ کی اہمیت ایک کرکٹر سے زیادہ کون جان سکتا ہے، ڈرائیو کرتے ہوئے ذرا بیٹ پہلے گھمایا تو آؤٹ ورنہ چوکا،اس کے باوجود ہمارے ملک میں بڑے کھلاڑیوں پر جب زوال آیا تو وہ یہ بات بھول گئے، انھیں اسٹارڈم کی اتنی عادت ہو گئی کہ ازخود جانے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا، آخرکار بورڈ نے کسی کو خود نکالا تو کسی کورقم کی لالچ دے کر بھیجا گیا، میں کسی کا نام کیا لوں، ایسی انگنت مثالیں موجود ہیں، پاکستان میں عزت سے ریٹائر ہونے کا رواج موجود نہیں، اسی طرح ہم لوگوں کی یادداشت بھی بہت کمزور ہے، بہت جلد کارنامے بھلا کر چند ناکامیوں کو ہی یاد رکھتے ہیں۔
پہلے بھی لکھ چکا کہ یہاں باپ خون پسینے کی کمائی سے اولاد کو پال پوس کر بڑا کرتا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ '' آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا'' ایسے میں کرکٹ تو بڑی معمولی چیز ہے، زیادہ نہیں شاید 6 ماہ پرانی بات ہے پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی بار ورلڈ نمبر ون بنا، ٹیم کی شان میں زمین آسمان ایک کیے جا رہے تھے، مصباح الحق اس وقت ملکی کرکٹ کی سب سے طاقتور شخصیت تھے، کوئی ان کو نہیں ہلا سکتا تھا۔
چیئرمین بورڈ شہریارخان نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ '' مصباح مزید 2،3 سال کھیلیں، ہمارے پاس ان کا متبادل موجود نہیں، پھر جب وہ ریٹائر ہوں گے تو بورڈ میں ملازمت تیار ہے''مگر جیسے ہر عروج کو زوال ہے ویسا ہی مصباح کے ساتھ ہوا، اعدادوشمار کے لحاظ سے پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان کو اب وہ دن دیکھنا پڑا جب بورڈ ان سے خود باعزت طریقے سے ریٹائر ہونے کی درخواست کر رہا ہے۔
وہ انضمام الحق جنھوں نے ٹیم کو چھوڑنے کیلیے کئی برس قبل ایک کروڑ روپے نقد پی سی بی سے لیے تھے اب چاہتے ہیں کہ مصباح چلے جائیں تاکہ تینوں طرز میں کسی ایک کھلاڑی یعنی سرفراز احمد کو ذمہ داری سونپی جا سکے،ایسی نوبت کیوں آئی شاید اس کے ذمہ دار بھی مصباح خود ہیں، انھیں بہت اچھا موقع ملا تھا ورلڈ نمبر ون بننے پر ریٹائر ہو جاتے تو ہمیشہ اچھی یادوں میں رہتے، لوگ ان کی مثالیں دیا کرتے، مگر ہر کامیاب انسان کے گرد خوشامدیوں کا ٹولہ جمع ہو جاتا ہے۔
جدید دور میں سوشل میڈیا پر بھی ایسے لوگوں کی بھرمار ہے، وہ انھیں خیالی دنیا میں رکھتے اور احساس دلاتے ہیں کہ ان جیسا کوئی نہیں، یہ کامیابیاں یہ شان وشوکت ہمیشہ برقرار رہے گی، مگر ایسا ہوتا نہیں، یہ دنیا فانی ہے، زندگی میں تبدیلیاں بہت جلدی جلدی آتی ہیں، ایسے میں آپ پر منحصر ہے کہ کیسے فیصلے کرتے ہیں، مصباح سے بس یہی غلطی ہو گئی، انھوں نے عروج پر ٹیم کو نہیں چھوڑا،پھر وہ وقت آ گیا جب پاکستان کے ناقابل تسخیر قلعے یو اے ای میں ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم نے اسے ہرا دیا، نیوزی لینڈ میں تھوڑی امیدیں تھیں کہ ہم میزبان کو زیر کر لیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا، دونوں میچز میں شکست ہو گئی، پابندی اور نجی مسائل کی وجہ سے مصباح ایک میچ نہیں کھیل سکے۔
پھر کرکٹ کے خود ساختہ ماہرین نے ایسا ماحول بنا دیا جیسے آسٹریلوی ٹیم بچوں کی ہے، اسے ہرانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، اب اس کے پاس سپراسٹارز موجود نہیں، پاکستان تو آسانی سے زیر کر لے گا، مگر ہم یہ بات بھول گئے کہ ہماری روایت ہے کہ ہر سیریز میں حریف کو چند نئے اسٹارز کا تحفہ دیتے ہیں، گھر پرتو بکری بھی شیر ہوتی ہے۔
سب سے بڑی بات آسٹریلیا میں ہمارا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا، اگر اس کے پاس بڑے نام نہیں تو ہم کون سا ڈان بریڈ مین جیسے پلیئرز وہاں لے کر گئے تھے، ایسے میں تینوں ٹیسٹ میں شکست ہو گئی، اس وقت مصباح نے دوران سیریز جذبات میں آ کر ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا مگر نجانے کیا سوچ کر رک گئے، ٹیم مسلسل 6 ٹیسٹ ہار کر اب چھٹے نمبر پر پہنچ چکی،خود مصباح 9 اننگز سے نصف سنچری بھی نہیں بنا سکے،43 سال کا ہونے پر اب بڑھتی عمر کے اثرات ان پر نمایاں ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کو چھوڑ چکے مگر مستقبل کا فیصلہ ٹی 20 پاکستان سپر لیگ میں کارکردگی کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا،اب وہ وقت آ گیا کہ چیئرمین بورڈ نے خود انھیں بلا کر کہا کہ ''ہم اظہر علی کو ون ڈے کپتانی سے ہٹا رہے ہیںآپ بھی فیصلہ کرلیں'' مگر انھوں نے مزید وقت لے لیا۔
گذشتہ چند روز میں ہی شہریارخان مصباح کو مستقبل کے اعلان کی یاد دلا چکے مگر وہ واضح جواب نہیں دے رہے، اب انھوں نے وطن واپسی پر چیئرمین سے ملاقات کے بعد فیصلہ کرنے کا کہا ہے، مگر حالیہ بیانات دیکھ کر واضح ہے کہ وہ کنفیوژ ہیں، بھاری میچ فیس، فیملی کے ساتھ ٹورز، پروٹوکول ، ماہانہ سینٹرل کنٹریکٹ و دیگر تشہیری معاہدے کھلاڑی کو آسانی سے ریٹائر نہیں ہونے دیتے، ہمارے ملک میں تو ویسے ہی ریٹائرمنٹ کے بعد بڑے بڑے کرکٹرز کو کوئی نہیں پوچھتا،مصباح کے کیس میں مجھے ایک بات وقار کی بھی لگتی ہے۔
انھوں نے اسپاٹ فکسنگ کیس کے دور میں ٹیم کو سنبھالا اور اہم فتوحات بھی دلائیں، یقیناً وہ نہیں چاہتے ہوں گے کہ شکستوںکا بوجھ لیے واپس جائیں، لوگ اب ویسٹ انڈیز کو کمزور قرار دے کر ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ ''اسے آسانی سے ہرا دیں گے ضرور ٹور کریں، پھر عزت سے ریٹائر ہوں''۔ مگر ہوم گراؤنڈ پر اسے بھی قابو کرنا آسان نہ ہو گا، مصباح نے اب یہاں تک کہہ دیا کہ سرفراز کی کپتانی میں بطور عام کھلاڑی کھیلنے کو تیار ہیں مگر سلیکٹرز انھیں اب منتخب نہیں کرنا چاہتے، شاید سرفراز بھی ان کی موجودگی میں قیادت کرتے ہوئے اطمینان محسوس نہ کریں۔
پی ایس ایل میں مصباح کی ٹیم اسلام آباد یونائٹیڈ ٹائٹل گنوا بیٹھی اور وہ خود 9میچز میں صرف 158 رنز ہی بنا سکے، ان کیلیے اب ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنا ہی مناسب لگتا ہے،مصباح کی قومی کرکٹ ٹیم کیلیے بڑی خدمات ہیں،لاہور میں فائنل کے دوران ہوم کراؤڈ کے سامنے ان کو شایان شان انداز میں خراج تحسین ادا کرنا چاہیے،اسی طرح ایک عظیم کھلاڑی کو رخصت کیا جا سکے گا لیکن اگر انھوں نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو شاید پھر دوبارہ اس انداز میں کھیل کو خیرباد نہیں کہہ سکیں گے۔