لانگ مارچ سے حکومت جانیوالی نہیں صدر زرداری طاہر القادری سے مذاکرات کیلیے کمیٹی قائم

لانگ مارچ کو ریڈ زون میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،کسی کو مہم جوئی نہیں کرنے دینگے،کور کمیٹی کا فیصلہ


Staff Reporter January 10, 2013
صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں طاہر القادری کی جانب سے 14 جنوری کو اعلان کردہ لانگ مارچ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ فوٹو: پی پی آئی

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات آئین میں دی گئی مقررہ مدت میں ہوں گے اور ان میں ایک دن کی تاخیر کی بھی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

ملک میں کسی کو مہم جوئی نہیں کرنے دی جائے گی اور انتخابات ملتوی کرانے کی ہر کوشش ناکام بنا دی جائے گی۔ پیپلز پارٹی نے انتخابات کے بروقت،آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے سیاسی قوتوں اور پنجاب حکومت سے بات چیت کرنے کی غرض سے4 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی میں وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ، سینیٹر فاروق نائیک، نذر محمد گوندل اور میاں رضا ربانی شامل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلا س بدھ کو بلاول ہائوس میں صدر زرداری اور وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں بلاول بھٹو، یوسف رضا گیلانی، امین فہیم، نذر گوندل، رانا فاروق،نوید قمر شاہ، قمر زمان کائرہ رحمن ملک ، منظور وٹو،ہزار خان بجارانی، خورشید شاہ، مخدوم شہاب، رضا ربانی، جہانگیر بدر، احمد مختار، سردار علی خان، فاروق نائیک، شیری رحمن، رخسانہ بنگش، فوزیہ حبیب، چوہدری امتیاز صفدر ورائچ اور سینیٹر فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق اجلاس2 گھنٹے جاری رہا جس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ بعض عناصر انتخابی عمل میں گڑبڑ اور انتخابات ملتوی کرانا چاہتے ہیں، لیکن اجلاس میں حکومت اور پیپلز پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیاکہ انتخابات ملتوی کرانے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سے ملاقات اور پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سینئر رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ لانگ مارچ یا غیر جمہوری طریقے سے حکومت جانے والی نہیں۔ لانگ مارچ کرنا ہے تو جمہوری انداز میں کیا جائے، کسی کو انفرادی طور پر قانون سازی کا اختیار نہیں، قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، اگر کسی جماعت کو آئین میں ترامیم کرانی ہیں تو وہ جمہوری طریقے سے انتخابات میں حصہ لے اور پارلیمنٹ میں آئے۔

02

ذرائع کے مطابق صدر نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے ووٹوں سے برسر اقتدار آئی ہے اور حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، غیر جمہو ری انداز میں جمہوریت کوغیر مستحکم کرنے کی ہر سازش کو عوام کے تعاون سے ناکام بنا دیں گے، صدر نے کہا کہ اگر کسی کو الیکشن قوانین سمیت نظام میں اصلاحات کے حوالے سے تجاویز دینی ہے تو وہ براہ راست حکومت سے بات کرے، ہم ان تجاویز پر تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کریں گے جس کے بعد ان تجاویز پر اگر کچھ ترامیم کی ضرورت ہوئی تو وہ پارلیمنٹ کرے گی۔

ذرائع کے مطابق صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں طاہر القادری کی جانب سے 14 جنوری کو اعلان کردہ لانگ مارچ پر تفصیلی غور کیا گیا اور طے کیا گیا کہ حکومت کسی کو جمہوری انداز میں احتجاج سے نہیں روکے گی، لانگ مارچ کے شرکا کو اسلام آباد آنے کی اجازت ہوگی تاہم ان کو ریڈ زون میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،یہ بھی طے کیا گیا کہ لانگ مارچ کے شرکا کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ اگر ڈاکٹر طاہر القادری حکومت سے بات کرتے ہیں تو ان سے مذاکرات کے لیے ایک3 رکنی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس کمیٹی میں سید خورشید شاہ، رحمٰن ملک اور جہانگیر بدر شامل ہوں گے۔ قبل ازیں وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے صدر آصف علی زرداری سے بلاول ہائوس سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماء شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں یہ بات واضح کردی گئی کہ انتخابات کے انعقاد میں ایک دن کی تاخیر کی بھی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں اس رائے کا بھی اظہار کیا گیا کہ اگر جنگ سے تباہ حال افغانستان اور عراق میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں انتخابات وقت پر نہ ہونے کا کوئی جواز نہیں ۔

اجلاس میں تشکیل دی جانے والی چار رکنی کمیٹی ملک کی موجودہ صورتحال پر سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت سے بھی بات کرے گی تاکہ شفاف، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات بروقت ہوسکیں ، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ امن و امان ہر صورت میں برقرار رکھا جائے گا اورکسی مہم جوئی کی صورت میں شہریوں کی جان و مال کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ دریں اثناء باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ آئندہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی بھرپور طریقے سے حصہ لے گی اور پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی نگرانی بلاول بھٹو زرداری کریں گے ان کی معاونت کے لیے سینئر رہنمائوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔

کمیٹی میں جہانگیر بدر، امین فہیم، سید یوسف رضا گیلانی، خورشید احمد شاہ، قائم علی شاہ، انور سیف اللہ، صادق عمرانی اور منظور وٹو شامل ہونگے ۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ عام انتخابات میں میڈیا سے متعلق معاملات کی نگرانی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ کریں گے۔ نگراں حکومتوں کے قیام سے متعلق سیاسی قوتوں سے مشاورت وزیر اعظم کریں گے اور ان کی معاونت جہانگیر بدر، سید خورشید احمد شاہ ، فاروق ایچ نائیک اور دیگر رہنماء کریں گے۔ اجلاس میں بھی طے کیا گیا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے تمام اتحادی اور سیاسی جماعتوں سے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔

اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان، 14جنوری کو ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے کیے جانے والے لانگ مارچ اور ایم کیو ایم کی جانب سے اس کی حمایت، وزیر اعظم کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہونے والی مشاورت، آئندہ عام انتخابات، نگراں حکومتوں کے قیام، پیپلز پارٹی کی انتخابی رابطہ مہم سمیت توانائی کے بحران پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اجلاس میں گذشتہ دنوں مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی اور اتحادی جماعتوں سے ہونے والی مشاورت سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام کا تسلسل جاری رہنا چاہیے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے طاہر القادری سے ہونے والے مذاکرات اور سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے بریفنگ دی۔دریں اثناصدر آصف علی زرداری نے حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا ایک اہم اجلاس جمعرات کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہاؤس میں طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، فاٹا سے منتخب اراکین قومی اسمبلی اور دیگر شرکت کریںگے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی بدھ کو کراچی پہنچ گئے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین آج پہنچیں گے۔ ایم کیو ایم کے ترجمان اور رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے میڈیا کو بتایا کہ ایم کیو ایم صدر زرداری کی زیرصدارت اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کرے گی۔