ہیپاٹائٹس سے بچائو حجام کی دکانوں اور بیوٹی پارلرز کو ضابطہ قانون میں لانے پر غور

ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں ہوسکتی ہیں،حجاموںکے استعمال شدہ بلیڈ کے استعمال سے بیماریاں منتقل ہوسکتی ہیں، ماہرین طب


Staff Reporter July 30, 2012
ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں ہوسکتی ہیں،حجاموںکے استعمال شدہ بلیڈ کے استعمال سے بیماریاں منتقل ہوسکتی ہیں، ماہرین طب. فوٹو فائل

KABUL: کراچی میں حجام اور بیوٹی پارلرزکوضابطہ قانون میں لانے اور ان کی رجسٹریشن کرنے پرغور شروع کردیاگیا ہے اور اس سلسلے میں ماہرین طب سے رائے طلب کرلی ہے جس میں ماہرین نے کہاکہ حجام اور بیوٹی پارلرزکی شاپس میں خواتین کے چہروں میں نکھار اور خوبصورتی لانے کیلیے مختلف اقسام کے سرجیکل آلات استعمال کیے جارہے ہیں۔

ان آلات کو قواعد کے مطابق اسٹرلائزڈ نہیں کیا جاتا اور یہ استعمال شدہ آلات دوسری خواتین کے چہروں پر بھی استعمال کیے جارہے ہیں جس سے ہیپاٹائٹس بی سی سمیت دیگرخون کے امراض جنم لے رہے ہیں، ہیپاٹائٹس کا وائرس خون سے ایک دوسرے کو منتقل ہوتا ہے، یہ وائرس استعمال کیے جانے والے بلیڈ، قینچی اور دیگر سرجیکل آلات میں لگ جاتا ہے جس کے بعد بلیڈ اور دیگر سرجیکل آلات سے یہ وائرس دوسری صحت مندخواتین میں منتقل ہوسکتا ہے، ماہرین طب نے کہاکہ اسی طرح حجام کے دکانوں پر بھی آلودہ استرے اور استعمال شدہ بلیڈ کھلے عام استعمال کیے جارہے ہیں جس سے ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی ایڈز سمیت خون کے دیگر امراض پھیل رہے ہیں۔

ان ماہرین نے صوبائی محکمہ صحت کی توجہ ان شاپس کی جانب مبذول کرائی جس کے بعد محکمے نے بیوٹی پارلرز اور حجام کی دکانوںکوضابطہ قانون میں لانے اورکراچی میں ان کی رجسٹریشن کرنے پر غور شروع کردیا ہے، دوسری جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت کراچی میں بیوٹیشن کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کیلیے عیدکے بعد ویکسنیشن شروع کی جائیگی، دوسری جانب ڈپٹی کمشنرضلع وسطی ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے ہیپاٹائٹس وائرس کے حوالے سے ایکسپریس کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے وسطی میں موجود حجام اور بیوٹی پارلرز کی رجسٹریشن پر غور شروع کردیا ہے اور ان کی رجسڑیشن کیلیے عید بعد کارروائی شروع کی جائیگی۔

انھوں نے بتایا کہ ضلع وسطی میں سیکڑوں حجام اور بیوٹی پارلرز کی دکانیں موجود ہیں جہاںپر غیرتربیت یافتہ عملہ کام کررہاہے جو بلیڈ و دیگر استعمال شدہ سرجیکل آلات دوسرے گاہکوں پر بھی کر رہا ہے، ان آلودہ آلات کی اسٹرلائزیشن نہ ہونے اور بار بار ایک ہی سامان استعمال کرنے کی وجہ سے عوام میں ہیپاٹائٹس کا مرض منتقل ہورہا ہے، انھوںنے کہاکہ عیدالفطر کے فوری بعد ہی حجام اور بیوٹی پارلرز کی رجسٹریشن اور ان کو تربیت فراہم کرنے کا سلسلہ شرو ع کردیا جائے گاتاکہ مرض پر قابو پایا جاسکے۔ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام سندھ کے سربراہ ڈاکٹر مجید چھٹو نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کراچی کے60لاکھ بچوںکی ہیپاٹائٹس سے بچائو کی ویکسینشن کا عمل مکمل کرلیاگیا۔