کرپشن کے لیے سال اچھا ہے

کرپشن پاکستان میں کم ہو گئی


Saad Ulllah Jaan Baraq March 13, 2017
[email protected]

ایسا لگتا ہے کہ نیا سال جو اکیسویں صدی کا 17واں سال ہے اور عام طور پر سولہ سترہ کو جوانی اور بلوغت کا دور کہا جاتا ہے۔

برس سولہ کہ سترہ کا سن

جوانی کی راتیں،امنگوں کے دن

ہمیں لگتا ہے کہ یہ سترھواں سال ہمارے لیے اچھا خاصا شبھ، مبارک اور سعد ہونے والا ہے کیونکہ اس کی ابتدا ہی بڑی اچھی ہوئی ہے۔ پریانکا چوپڑا کو ایوارڈ ملا، دپیکا پاڈوکون بالی وڈ سے ہالی وڈ تک پہنچ گئی، ڈینس ولیمز نے سٹفنی گراف کا ریکارڈ توڑ دیا اوریہ کہ ہمارے یا ہماری موکل یا موکلہ ''کرپشن'' کے بھی اچھے دن شروع ہوگئے۔

اگر آپ کو یاد ہوگا... ارے معاف کیجیے عادت سی ہوگئی ورنہ آپ اور ''یاد ہونا'' امپاسیبل'' ناممکن سمجھو،اگر آپ کے پاس حافظہ ہوتا تو محافظ اتنی اچھی طرح آپ کی حفاظت کیسے کرتے۔خیر آپ کو یاد ہونہ ہو لیکن ہم نے پچھلے سال یعنی 2016ء میں کرپشن نامی مظلومہ، معصومہ اور محرومہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور نیا سال شروع ہوتے ہی ''کرپشن'' میں پاکستان کا رتبہ گھٹ گیا۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے تو ہماری موکلہ کا رتبہ بھی گھٹ گیا، اور ہم اپنی حمایت کوکرپشن کے لیے ''سعد'' قرار دے رہے ہیں۔ یہی تو معاملے میں اصل ''ٹوسٹ'' ہے یہ طریقہ ہم ہی نے کرپشن کو سمجھایا تھا کہ ترقی کرو بے شک پہلے ہی کی طرح دن دونی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے''فتوحات'' حاصل کرو، جھنڈے گاڑو، لیکن بتاؤ مت، ظاہر مت کرو کیونکہ یہ دنیا بڑی بدچشم بلکہ یک چشم بد چشم ہے تمہاری طرف ہی گھور رہی ہے اس لیے کچھ ''چشم بددور'' کا سلسلہ چلاؤ اور اس نے چلا دیا۔

کرپشن پاکستان میں کم ہو گئی، اگلے پڑاؤ میں مزید کم اور پھر کم ہوتے ہوئے بالکل ہی ختم ہو جائے جیسا کہ ہمارے صوبے میں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے کم از کم بازار میں تو اس کا نام و نشان تک نہیں رہا۔ کوئی کتنا ہی ضرورت مند کیوں نہ ہو اور تمام حکیموں، ڈاکٹروں اور معالجوں نے بچاؤ کے لیے صرف کرپشن ہی کیوں نہ لکھی ہو لیکن اسے ''مردہ'' ہی سمجھ لیجیے کہ بازار میں یہ ''دوا'' دستیاب ہی نہیں ہے۔

مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

جب تک یہ معصومہ، مظلومہ، عابدہ و ناہدہ ''کرپشن'' ہماری موکلہ نہیں بنی تھی ایک دنیا اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑی ہوئی تھی لیکن ہمارا بتایا ہوا نسخہ استعمال کرتے ہی اسے فائدہ ہونا شروع ہوگیا ہے۔ دراصل ہم نے یہ آئیڈیا سرکاری ایوارڈ اور اعزازات سے لیا تھا کہ اس کے لیے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے صرف ''رابطہ'' کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے گاؤں میں ''شکم داروں'' کا ایک خاندان تھا اس کی اسٹرٹیجی یہ ہوتی تھی کہ شادی بیاہ یا برسی، چہلم میں اپنے آدمی ''انتظامیہ'' کے درمیان داخل، پھر جب کھانے کی نوبت آتی تھی تو سارا مرغن، چرغن مال اسی خاندان والوں کو پہنچ جاتا تھا۔ یہ اگرچہ بہت پرانا طریقہ ہے لیکن نہایت ہی...ہے۔ تقسیم کرنے والوں میں اپنے آدمی بٹھا دو یا تقسیم کرنے والوں میں کسی کو گانٹھ لو بس پھر عیش ہی عیش۔

سہرا تیار کرنے والی بین الاقوامی کمپنی کے ایک کرتا دھرتا کی وزیراعظم، سیکریٹریٹ اور پھر سفارتکاری کے لقمہ تر نے کام دکھایا اور سہرا اڑتے اڑتے اسی سر پر پہنچا جس کے لیے تیار ہوا تھا۔ آپ ہی بتائیں کہ کرپشن کی اس بے خطا حکمت عملی کا سہرا ہم اپنے سر کیوں نہ باندھیں، مانا کہ کیا سب کچھ اس نے خود، لیکن نسخہ تو ہم نے بتایا تھا۔ نہ سینگ نہ ٹھپگڑی اور بیٹھے بٹھائے ''کرپشن'' کی واہ واہ ہو گئی اور آپ سے زیادہ اور کون جانتا ہے کہ پاکستانیوں کا ''رخ'' ہے جس طرف ہو گیا۔

پہلے کرپشن کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور اب اس میں زبردست کمی آ جائے گی اور ایک نہ ایک دن یہ خبر بھی آ جائے گی کہ پاکستان کرپشن سے بالکل پاک ہو گیا کسی کو کیا پتہ کہ اس ''پاکی'' کے لیے کونسا ڈیٹرجنٹ استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ سال ہمارے لیے مبارک ثابت ہوا کہ عوام کے لیے بھی ایسا ہی سمجھ لیجیے، مثلاً ''کرپشن'' کی سطح اگر گھٹ گئی ہے کم از کم عوام کو اس بات سے دل خوش کرنے دیجیے تو اس کا مطلب ہے کہ اب بھگنے سے ٹھنگنے آدمی کے لیے بھی اس تک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔

اس لیے ہم اس سال کو شبھ مان رہے ہیں اس کم بخت دو ہزار سولہ نے تو ہمیں صدمے ہی صدمے دیے تھے کنڈو لیزا کے پیر میں موج آ گئی تھی، انجلینا جولی کو اتنے صدمے پہنچے کہ اس نے براڈپٹ پر تین حرف بھیج دیے، پریانکا چوپڑا کی ناک تلے ہونٹ کے اوپر پھنسی نکل آئی تھی، ایان علی، قندیل بلوچ، میرا لیکن چھوڑئیے وہ تو آپ کو سب پتہ ہے، مختصر طور پر یوں کہیئے کہ پچھلا سال بہت ہی منحوس تھا کم از کم ہمارے لیے، لیکن یہ سترھواں سال ابتداء ہی سے اچھی خبریں دے رہا ہے، ہمارے لیے بھی اور ہماری تمام موکلات اور موکلین کے لیے بھی، خصوصاً نئی موکلہ کرپشن کے بارے میں تو ہم وثوق سے یہ پشتو ٹپہ کہہ سکتے ہیں کہ، ٹہنی آج کل ہی میں پھول ہو جائے کیونکہ ہم نے اس میں ''کلیاں'' دیکھی ہیں گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ :

دیکھیئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برھمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے