سینٹرلائزیشن کی عفریت

ایک ہی شہر میں اتنے سارے بڑے بڑے اسپتال جمع کرنے کی کیا تک ہے مثلاً پشاور میں اس وقت تین بڑے سرکاری اسپتال ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq March 16, 2017
[email protected]

چلیے آج ہم بھی عوام کے پرزور اصرار پر اپنے پڑھنے والوں کے اظہار پر اور مسلسل آنے والی خبروں کے آدھار پر سنجیدہ ہوجاتے ہیں اگرچہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے کتنے بے شمار لوگ روزانہ سنجیدہ ......بن کر مسائل پر اپنی دانش بکھیرتے ہیں کسی نے سنا، کچھ ہوا؟ وہ ایک پشتو ٹپہ ہے کہ

جانان بہ غگ راتہ اونہ کڑی
کہ پہ تمبو پورے ولاڑہ اوچہ شمہ

یعنی جانان کبھی مجھ سے کچھ نہیں بولے گا چاہے میں دروازے سے ٹیک لگائے لگائے سوکھ ہی کیوں نہ جاؤں۔ بلکہ یہ اسی جانان، کا کیا دھرا اور انتقام ہے کہ لوگ بولتے رہیں شور مچاتے رہیں نقارخانہ بناتے رہیں اس طرح آپس میں مشغول اور مصروف بھی رہیں گے اور ہم اپنا کام بھی کرتے رہیں گے یعنی:

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

لیکن چلو ہم بھی سنجیدہ ہو کر اس شور میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں آپ نے بھی پڑھا ہوگا بلکہ پڑھتے رہتے ہوں کیونکہ یہ اب روز کا کام ہوچکا ہے کہ فلاں علاقہ فلاں فلاح بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ، پانی نہیں ہے، اسپتال نہیں ہے اسکول نہیں ہے یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے،ابھی کل کی خبر ہے کہ بٹ خیلہ اسپتال کی ترقی چار سال سے تاخیر کا شکار، ایسا اور بھی بہت کچھ تاخیر اور فنڈز کی کمی کا شکار ہوتا رہتا ہے بلکہ مستقل اور مشتعل شکار ہوتا ہے کیوں؟ اورشاید اس ''کیوں'' کا جواب کوئی بھی پسند نہیں کرے گا لیکن ہم نے تو''کیوں کیوں'' پر اب کمرباندھ لی ہے اور کیوں کیوں کیے بغیر نہیں رہیں گے۔

چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

اس بت کافر کا جدی پشتی سرکاری درباری نام ہے''سینٹرلائزیشن'' مرکزیت ارتکاز،کہ سب کچھ بڑے شہروں میں جمع کر دو اور ایسا ستر سال سے مسلسل ہورہا ہے۔ اب تو بات تقریباً اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ شاید آیندہ کچھ سالوں میں ''ہوا'' کو بھی سینٹرلائز کیا جائے، لوگ سانس لینے کے لیے ہوا بڑے شہروں سے گیس سلنڈروں کی طرح بھر کرلے جائیں گے اور بڑے شہر اسلام آباد کے مرکزی ''ہوا گھر یا آکسیجن ٹینک سے پائپ لائن کے ذریعے لاکر دور دور سے آئے ہوئے سلنڈروں میں بھر کر لے جایا کریں گے۔ پھر اس قسم کی خبریں بھی آنا شروع ہوجائیں کہ فلاں مقام پر آکسیجن سلنڈروں کی شدید شارٹیج،پشاور کے آکسیجن گھر میں آکسیجن کی شدید کمی،لوگ قطاروں میں کھڑے بیٹھے یا لیٹے ہوئے بلیک میں حاصل کردہ آکسیجن خریدنے پر مجبور۔ فلاں علاقے میں آکسیجن کی کمی سے اتنے ہندسے تفریق، ہندسے آپس جمع تفریق اور ضرب وتقسیم میں مصروف۔نواز شریف نے اپنے کسی پچھلے دور میں شہری محصول چنگیوں کوختم کیا تو بڑی واہ واہ ہوئی، لیکن یہ کسی نے نہیں سوچا کہ وہ محصول چنگی ختم نہیں ہوئی بلکہ جاکر جنرل ٹیکس میں دوگنی تگنی ہوکر جلوہ گر ہوگئی۔ پہلے تو صرف تاجر لوگ محصول چنگی ادا کرتے تھے جو اسی شہر میں خرچ ہوجاتا لیکن اب چترال کی وادی ...... میں بیٹھا ہوا مزدور بھی جنرل ٹیکس کی صورت میں یہی محصول چنگی ادا کرے گا اور پھر اپنی ضرورت کے لیے اسلام آباد سے بھیک مانگے گا۔

ان پیسوں سے جو دیر،سوات، چترال، بنوں، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان والوں سے زبردستی وصول کیے جائیں گے اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں اسپتال کھولے جائیں، یہ بڑے بڑے اسپتال اور سہولتوں سے مزین جن میں علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لیے لوگ سیکڑوں ہزاروں میل دور سے ''مریض'' لا کرفائدہ حاصل کریں گے۔ کہیں گدھا گاڑیوں میں کہیں دوسری گاڑیوں میں، اور جب تک مریض بڑے شہر کے بڑے اسپتال پہنچے گا حضرت عزرائیل کو ریفر کیا جاچکا ہوگا۔ جو مریض کسی نہ کسی طرح ان شہروں میں پہنچ جائیں گے وہ پہلے کرائے پر اپنی اور اپنے لواحقین کے لیے رہائش کا انتظام کریں گے کیونکہ بڑے شہروں کے بڑے اسپتالوں میں پہنچنا دنوں کا نہیں بلکہ ہفتوں کا کام ہوتا ہے۔

ایک ہی شہر میں اتنے سارے بڑے بڑے اسپتال جمع کرنے کی کیا تک ہے مثلاً پشاور میں اس وقت تین بڑے سرکاری اسپتال ہیں ان میں سے ایک اگر بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم کیا جاتا اوردوسرا مردان یا بٹ خیلہ میں بنایا جاتا تو کیا کفر ہوجاتا ،ان بڑے شہروں پر رش بھی کم ہوجاتا اور بے پناہ رش سے پیدا ہونے والے مسائل بھی پیدا نہ ہوتے۔اسی طرح درسگاہ میں انتقامی دفاتر ہیں جب کہ بڑے مزے کی بات ہے کہ بڑے شہروں کا یہ سارا نام جام انھی پیسوں سے ہے جو اطراف کے محروم مظلوم بے مقسوم خداماروں سے وصول کیے جاتے ہیں۔ شہر والے تو ایک پیسہ کما کر نہیں دیتے بلکہ وہ بھی اسی پرچلتے ہیں۔ نظریہ پاکستان کے فرزند ارجمند'' مضبوط مرکز کو اگر ایک طرف کردیا جائے تو سینٹرلائزیشن کا یہ عفریت ختم ہوسکتا ہے جس نے دیہاتی علاقوں اور شہروالوں دونوں کی جان سولی پر لٹکائی ہوئی ہے۔