ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں سے شہری خوف اور نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا

انجانے وسوسے، خدشات اور اندیشے ہر وقت آنکھوں کے سامنے منڈلاتے رہتے ہیں،شہری اب اپنے سائے سے بھی خوف کھانے لگے.


Staff Reporter January 12, 2013
ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی ، شہری حلقے۔ فوٹو:اے ایف پی/فائل

شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کو شدید خوف اور نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا کر دیا ہے۔

حالات و واقعات نے شہریوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، انجانے وسوسے ، خدشات اور اندیشے ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے منڈلاتے رہتے ، شہری اب اپنے سائے سے بھی خوف کھانے لگے ہیں، تفصیلات کے مطابق شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں جہاں ہدف بننے والا شخص اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے وہیں پر ٹارگٹ کلرز کی فائرنگ سے زد میں آنے کے خوف نے شہریوں کو نئی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں سے جان نہیں چھوٹی تھی کہ اب ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انھیں سڑکوں پر سفر کرنے کے دوران اس انجانے وسوسے ، خدشات اور اندیشوں میں مبتلا کیا ہوا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ چلنے والی کار یا موٹر سائیکل پر سوار شخص کسی ٹارگٹ کلرز کا ہدف تو نہیں اور اگر ان پر فائرنگ کی گئی تو کہیں وہ اس کی زد میں آکر اپنی جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔



شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے سڑک پر یا کسی سگنل پر کھڑے ہونے کے دوران اگر کوئی موٹر سائیکل یا کار قریب آکر رکتی تھی تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس میں سوار افراد اسٹریٹ کرمنلز نہ ہوں جو اسلحے کے زور پر ان سے نقدی اور دیگر قیمتی اشیا چھین کر فرار ہوجائیں گے تاہم شہری ابھی اس خوف کے عالم میں ہی شاہراہوں پر انجانہ خوف دل میں لیے سفر کر رہے تھے کہ ٹارگٹ کلرز کی جانب سے کاروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار افراد کو دن دیہاڑھے نشانہ بنانے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں کہ ٹارگٹ کلرز اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب تو ضرور ہوگئے تاہم ان کی فائرنگ کی زد میں آکر ایسے شہری بھی زخمی ہوئے ہیں جو ان کا ہدف نہیں تھے۔

سر راہ بے بسی سے بے موت مارے جانے کے خوف نے شہریوں کو نہ صرف انتہائی اذیت سے دوچار بلکہ نفسیاتی الجھنوں کا بھی شکار بھی بنا دیا ہے اور دوران سفر وہ اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہیں کسی واردات میں وہ نشانہ نہ بن جائیں، اسی طرح ٹارگٹ کلرز کی جانب سے دکان پر بیٹھے ہوئے افراد کو بھی نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اس دوران دیگر خریداروں کو بھی یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ کہیں وہ ٹارگٹ کلرز کی گولیوں کی زد میں آکر زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری سیاسی اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے کوئی ٹھوس حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے شہر میں ایک بے یقینی کی فضا قائم ہے اور گھروں سے اپنے کام کاج پر نکلنے والوں اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے جانے والوں کے اہلخانہ ان کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں اور جب وہ گھروں کو واپس پہنچ جاتے ہیں تو اہلخانہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کے پیارے زندہ سلامت آگئے ۔