کراچی انسانی حقوق کے مسائل
کراچی میں صفائی کا مسئلہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے
کراچی میں صفائی کا مسئلہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ منتخب میئرکے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صوبائی حکومت نہ تو بلدیاتی اداروں کواختیارات دینے کوتیار ہے اور نہ ہی بلدیاتی نظام کو بہترکرنے کے لیے کچھ ہوا ہے۔ صرف کراچی میں ہی نہیں بلکہ حیدرآباد، نواب شاہ، میرپورخاص، سکھراورلاڑکانہ میں بھی بلدیاتی عمل معطل ہے۔ موئن جودڑو میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کو کور کرنے کے لیے جانے والے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے ایک رپورٹر نے لاڑکانہ کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ زیادہ پسماندہ ہے یا موئن جودڑو اب اس بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
سپریم کورٹ نے سندھ میں پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے بارے میں تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ججوں پرکمیشن بنایا تو یہ انکشاف ہوا کہ کراچی سمیت مختلف شہروں کو فراہم کیے جانے والے پانی کے نمونے جب لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے تو یہ رپورٹیں آئیں کہ شہروں میں فراہم کیے جانے والے پانی کے نمونوں کو انسانی استعمال کے لیے مضر صحت قراردیا گیا۔اسی طرح منچھرجھیل اوردیگرجھیلوں کے پانی میں خطرناک کیمیکلزکی آلودگی کا انکشاف ہوا۔ کراچی شہر میں سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اورگندے پانی کی نکاسی کے نظام سے حادثات اور بیماریوں کا پھیلاؤ ہوا ہے۔
سندھ کے لیے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی شہر کی سڑکوں کی مرمت اور دوبارہ تعمیرکے لیے فنڈز جاری کیے، یوں شہر کی اہم شاہراہوں شاہراہِ فیصل، طارق روڈ اور یونیورسٹی روڈ کی تعمیر شروع ہوئی۔ ان تینوں سڑکوں کو ٹریفک کے لیے معطل کیا گیا اورسڑکوں کا متبادل راستہ بنائے بغیر تعمیری کام شروع ہوا۔ متبادل راستے تعمیر نہ ہونے کی بناء پر حادثات کی شرح بڑھ گئی۔ صرف یونیورسٹی روڈ پر سڑک کی تعمیرکی بناء پرجاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 5 کے قریب ہے جن میں سے 4 طالبات ہیں۔
ایک طرف تو شہر کی زبوں حالی اور دوسری طرف ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم رہنما جب بھی بلدیاتی اداروں کے اختیارات کی بات کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی والے زمینوں پر قبضے، اداروں میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اوردہشت گردی کے الزامات لگانے شروع کردیتے ہیں۔ ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان فاصلے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس چلانا مشکل ہورہا ہے۔ پیپلزپارٹی کی اپنی اکثریت کی بناء پرایم کیو ایم کے اراکین کی تحریک التواء ،پوائنٹ آف آرڈر اور توجہ دلاؤ نوٹس کوکچل رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کو برطرف کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کراچی اورحیدرآباد کے شہری علاقوں کے مکینوں کو سرکاری ملازمتوں میں جگہ دینے کو تیار نہیں ہے۔
اگرچہ کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے میرٹ پر ملازمتیں دینے کا اعلان کیا تھا مگر بیرونی دباؤ اور شفافیت نہ ہونے کی بناء پر شہری علاقوںکے نوجوانوں کو میرٹ پر ملازمتیں نہ مل سکیں۔ نوجوانوں کے لیے اضطراب کے سوا کچھ اور ہاتھ میں نہ آیا۔ یہ اضطرابیت صرف معاشی ہی نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آتے جارہے ہیں۔ کراچی میں دو سال سے زائد عرصے سے جاری رہنے والے آپریشن کے مختلف نوعیت کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ شہری علاقوں کی نمایندگی کرنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن اس آپریشن کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔
ایم کیوایم کی قومی اسمبلی کی رکن کشور زہراکا کہنا ہے کہ اس وقت 135 کارکن اورہمدرد لاپتہ ہیں اور ایک ہزار سے زائد کارکنوں اور ہمدردوں پر مختلف نوعیت کے 321 مقدمات درج ہوچکے ہیں جب کہ ایک ہزارکے قریب کارکن گرفتار ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر جیلوں میں ہیں۔ ایم کیو ایم کے 135 کارکنوں اورہمدردوں کے لاپتہ ہونے کا معاملہ خاصا اہم ہے۔لیاری میں بیروزگاری کے باعث صورتحال سنگین ہے۔نوجوان سرکاری دفتروں کے دھکے کھا رہے ہیں، ملازمتوں پر سے پابندی اٹھنے کا نام نہیں لے رہی۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرکرداں غیر سرکاری تنظیم (N.G.O) انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (H.R.C.P) سندھ کے وائس چیئرپرسن اسد اقبال بٹ مختلف کارکنوں کے لواحقین کی دادرسی میں مصروف رہتے ہیں اور ان لواحقین کی کراچی پریس کلب میں ہونے والی پریس کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے کچھ کارکنوں کا 2 برسوں سے،کچھ کا گزشتہ 6 ماہ سے کوئی پتہ نہیں۔ ان میں سے بیشترکی بازیابی کے لیے مقدمات سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔
پولیس ،صوبائی حکومت اور ایجنسیاں ان کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اوربیشتر مقدمات میں ایڈووکیٹ جنرل ،ان کے معاونین وکلاء اور وفاق کے قانونی افسران اس بارے میں لاعلمی کا اظہارکرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کارکنوں کی لاشیں شہرکے دور دراز علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر ان کارکنوں کے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں مگر ان کارکنوں کی گمشدگی کی طوالت سے ان کے خاندانوں کے مصائب بڑھتے جارہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج نے 65 مبینہ پولیس مقابلوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عورتیں اور بچے عدالتوں، جیلوں اور پریس کلب کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں۔لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں اور انھیں قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں مگر اس طرح لاپتہ ہونے سے نفرت اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔ پھر ایک ہزار سے زائد کارکنوں کے جیلوں میں مقید ہونے کا معاملہ بھی قابل تشویش ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے سابق استاد اور فلسفہ کے پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف،سابق طالب علم رہنما مومن خان اورحمید اﷲ بھی گزشتہ 6 ماہ سے سندھ کی جیلوں میں نظربند ہیں۔ ڈاکٹر ظفرعارف نے طالب علمی کے دور میں جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف بائیں بازوکی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکن کی حیثیت سے حصہ لیا تھا پھر وہ فلسفے کی اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے ۔
ڈاکٹر ظفر عارف جنرل ضیاء الحق کے دور میں علمی آزادی کے حق کے تحفظ کے لیے سرکرداں رہے۔ انھیں سندھ کے سابق مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل جہاں داد خان کے احکامات پر کراچی یونیورسٹی کے اسٹاف ٹاؤن سے گرفتارکر کے سندھ کی مختلف جیلوں میں نظربند رکھا گیا تھا۔ اس دور میں ڈاکٹر ظفر عارف جیل کے عملے کے تشدد کا نشانہ بنے اورگرمیوں کے موسم میں کئی دن تک بند وارڈ رہے تھے۔ حکومت سندھ ہائی کورٹ کے ریویوکمیشن کے سامنے ڈاکٹر ظفر عارف کے خلاف کسی قسم کا مواد پیش کرنے میں ناکام رہی جس پر سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نے ان کی نظربندی کی مدت میں توسیع سے انکار کردیا تھا۔ ظفرعارف کا بائی پاس ہوچکا ہے اور وہ مختلف نوعیت کی بیماریوں کا شکار ہیں ۔
اسی طرح سابق طالب علم رہنما مومن خان نے 80ء کی دھائی میں کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کو منظم کر کے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف تاریخی جدوجہد کی تھی۔ اس جدوجہد کی وجہ سے انھیں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی تھیں اورکراچی یونیورسٹی انتظامیہ نے انھیں یونیورسٹی سے نکال دیا تھا۔ مومن خان 2007ء میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی جدوجہد میں متحرک رہے تھے۔ انھوں نے کراچی اور حیدرآباد کی سول سوسائٹی کو اس تحریک کے لیے متحرک کیا تھا۔ مومن اس دوران پتے کے امراض کے شکار تھے اور ایس آئی یو ٹی میں زیرِ علاج تھے مگر وکلاء کی تحریک کی حمایت میں کراچی کی ہر ریلی میں ان کی شرکت لازمی تھی۔ اسی طرح حمید اﷲ اپنے مختصر سیاسی پس منظر کے باوجود ہمیشہ سینہ سپر رہے ہیں۔
ان تین کارکنوں کا تو پھر بھی ذکر ہوتا ہے مگر سیکڑوں کارکنوں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ یہ کارکن اپنے سیاسی آدرش کی سزا پارہے ہیں اورکچھ تو ایسے بھی ہیں جو اپنے قریبی عزیزوں کی سیاسی وابستگی یا کسی اور وجہ سے زیرِ عتاب ہوئے ہیں۔ کشور زہرا کا مؤقف یہ ہے کہ ہر شخص کو عدالت میں اپنے حق میں دفاع کا موقع ملنا چاہیے۔ یہ حق انھیں پاکستان کے آئین اورانسانی حقوق کے چارٹر نے دیا ہے۔
اس لیے وہ بار بارمطالبہ کرتی ہیں کہ لاپتہ افراد کو منظرعام پر لایا جائے، جیلوں میں بند کارکنوں کے خلاف کھلی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں اور جو بے گناہ ہیں انھیں رہا کیا جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار،کشور زہرا،خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری وغیرہ نے ایم کیو ایم کے قائد کے باغیانہ خیالات کو مسترد کیا ہے۔ یہ رہنما پاکستان اور جمہوریت کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ان رہنماؤں کو تنہا کرنے کے نتائج بہت برے ہوںگے۔ حکومت کوکراچی شہر کی ترقی کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ کوڑا، بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل اب حل ہونے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مل کر سندھ کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔