امن وامان ہوگا تو سرمایہ کاری ہوگی

امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور بڑھتے ہوئے جرائم نے لبوں سے ہنسی اور چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔


Editorial January 13, 2013
بم دھماکوں اور فائرنگ نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے. فوٹو: فائل

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ہفتے کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ ایکسپورٹ پراسینگ زونز میں صنعتی منصوبے شروع کریں۔ اس موقع پر انھوں نے صنعتکاروں کو بھرپور حکومتی تعاون، سہولتیں اور دوستانہ کاروباری ماحول فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستان تاریخ کے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ پورا ملک افراتفری' خلفشار اور بدامنی کا شکار ہے۔ کوئٹہ میں بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں۔ بم دھماکے اور فائرنگ نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں بم دھماکوں' خود کش حملوں اور فائرنگ نے امن اور محبت کے داعی رحمان بابا کی اس دھرتی کو لہو کے آنسو رلا دیے ہیں۔کراچی جو پاکستان کا صنعتی حب اور بڑی بندر گاہ کا حامل شہر ہے۔ آج وہاں اندھی گولیوں سے مارے جانے والوں کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔

امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور بڑھتے ہوئے جرائم نے لبوں سے ہنسی اور چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے۔ زندگی غیر یقینی اور مایوسی کا شکار ہو کر موت کے دیو کے پنجوں میں جکڑی آخری سانسیں لیتی معلوم ہوتی ہے۔ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور توانائی کے بحران نے معاشی ترقی کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ ملکی معیشت کا ایک افسوسناک منظر پیش کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 48 ارب ڈالر بھیجے لیکن اتنی بڑی رقم بھیجنے کے باوجود نہ تو زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی اور نہ پاکستانی کرنسی کی قدر مستحکم ہو سکی بلکہ اس میں مسلسل کمی آتی گئی۔

چار سال قبل ڈالر کی قیمت 62 روپے تھی جو آج پاکستان کی دگرگوں معاشی صورتحال کے باعث بڑھ کر 98 روپے ہوچکی ہے۔ یوں اس عرصے کے دوران ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں تقریباً اٹھاون فیصد تک کمی آئی ہے۔ اس طرح بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر بھیجی گئی رقوم بھی معاشی میدان میں کوئی انقلاب برپا نہ کر سکیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اس رقم سے فائدہ اٹھا کر بڑے بڑے منصوبے شروع کرتی اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتی مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ نہ ہو سکا۔ حکومت کی طرف سے صنعتی' زرعی اور دیگر شعبوں کی ترقی کے لیے کوئی بڑا اور دوررس نتائج کا حامل منصوبہ شروع نہ ہوسکا۔

حکمران ملکی ترقی اور خوشحالی کے دعوے تو کرتے نظر آئے مگر عملی طور پر صورتحال یہ رہی کہ جولائی 2011ء سے لے کر 4 جنوری 2013ء تک مرکزی بینک کے پاس موجود 14.775 بلین ڈالر کے ذخائر کم ہو کر 8.769 ڈالر تک جا پہنچے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اتنی بڑی کمی کے باوجود حکومت کی جانب سے ابھی تک معاشی ترقی کے کوئی ٹھوس اور نتیجہ خیز منصوبے سامنے نہیں آ رہے۔ گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران ہمارے معاشی مینجرز ترسیلات زر کے 48 ارب ڈالر کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے ملنے والے 8 ارب ڈالر سے زائد سرمائے کے باوجود 14 ارب ڈالر سے زائد ذخائر میں اضافہ تو درکنار اس کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہو گئے۔

افراط زر میں اضافہ ہوا جو اپنے ساتھ مہنگائی کا طوفان لے کر آیا۔ نتیجتاً غربت اور جرائم کے بڑھنے کی رفتار میں تیزی آ گئی۔ آج ہمارے حکمران ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے اور صنعتی منصوبے شروع کرنے کی دعوت دے رہے ہیں' انھیں اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ سرمایہ ہمیشہ امن کی جانب سفر کرتا اور جہاں امن نہ ہو وہاں سے بھاگ نکلتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے ملکی معیشت کو سنبھالنے کی اپنے تئیں کوششیں بھی کیں' وہ ملکی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنے کے لیے آئی ایم ایف سے 8 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ ملک میں لائی۔ اس نے ماند پڑتی ہوئی تجارتی صورتحال کو ترقی کی جانب مہمیز لگانے کے لیے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی طرف توجہ دی اور سرمایہ کاروں کے لیے بہت سی مراعات کا اعلان کیا۔

مگر امن و امان کی بگڑتی صورتحال' بم دھماکوں' خود کش حملوں اور توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو کامیابی کی شاہراہ سے ہٹا کر ناکامی کی راہ پر ڈال دیا۔ حکومت نے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے لیے مختلف اسکیمیں شروع کیں مگر سرمائے کی کمی نے ان منصوبوں کی افادیت کو ماند کر دیا۔ حکومت نے دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ سوات میں فوج کے تعاون سے امن بحال کرایا۔ مگر دہشت گردی کی وارداتیں نہ رک سکیں جس سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گرد کافی منظم' تربیت یافتہ اور فعال ہیں۔ وہ بڑی بے باکی سے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا کر انھیں نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یہ امر قابل تحسین ہے کہ دہشت گردی کی اتنے بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے باوجود حکومت دہشت گردوں کے سامنے جھکی نہیں بلکہ پہلے سے بھی زیادہ پر عزم ہو کر اس نے دہشت گردوں کے خلاف قدم اٹھایا یہاں تک کہ حکومت میں شریک کچھ افراد بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے مگر حکومت نے دہشت گردوں کے مقابل کہیں بھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ حکومت نے جمہوری علم بلند رکھا اور جمہوریت کو فروغ دیا۔ یہ امر حکومت کے حق میں جاتا ہے کہ اس نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور میں سیاسی مخالفین کو ہر طرح کی آزادی دی' انھیں کبھی ہراساں نہیں کیا۔ آج پورے ملک میں کوئی بھی سیاسی قیدی دکھائی نہیں دیتا۔

میڈیا بھی آزاد رہا اور حکومت پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتا رہا مگر حکومت نے جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے میڈیا کی ہر تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ان اقدامات کے باوجود حکومت معاشی ترقی اور امن قائم رکھنے کے میدان میں کامیاب نہ ہو سکی۔ آج ملکی سرمایہ کار موجودہ صورتحال سے پریشان ہو کر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے۔ ایسے میں غیر ملکی سرمایہ کار کیسے پاکستان کا رخ کرے گا۔ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی خواہاں ہے تو اسے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور توانائی کے بحران کو ختم کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔