سندھخیبرپختونخوامیںبھی حکومت بدلی جائےفضل الرحمن

کراچی میں گزشتہ سال11ہزاراورخیبرپختونخوامیں40ہزارسے زائدافرادمارے گئے


January 15, 2013
کراچی میں گزشتہ سال11 ہزاراورخیبرپختونخوا میں40ہزارسے زائدافرادمارے گئے فوٹو: پی پی آئی

لاہور: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ جمعیت نے بلوچستان میں ان ہاؤس تبدیلی کی تجویز دی لیکن حکمرانوں نے گورنر راج کو ناگزیر سمجھا۔

اگر 100 افراد کے قتل کی وجہ سے حکومت تبدیل ہوسکتی ہے تو سندھ اور خیبرپختونخوا کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے، لانگ مارچ فلاپ ہوچکا، ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، کہیں نہ کہیں کسی کی پشت پناہی ضرور ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کا راستہ الیکشن ہیں یا دھرنے، ہمیں پہلے اس کا انتخاب کرنا ہے اور وہ کرچکے ہیں۔ تبدیلی کا راستہ صرف انتخاب ہے جو آئینی اور جمہوری راستہ ہے۔ ہمیں ہزارہ برادری سے بھرپور ہمدردی ہے۔



جمعیت علمائے اسلام تعصبات سے پاک سیاست اور جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہں کہ 100 افراد کے قتل کو بنیاد بناکر اگر کسی صوبے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے تو کراچی میں روز 20 افراد قتل ہوتے ہیں اور گزشتہ سال 11 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں چند سالوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 40 ہزار سے زائد ہے۔ انھوں نے کہا خیبرپختونخوا میں تو سینئر وزیر اور ممبران اسمبلی تک کو قتل کردیا گیا جہاں عملاً سول مارشل لا کا نفاذ ہے اور کور کے پاس پورے صوبے کا کنٹرول ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان حالات کے باوجود صرف بلوچستان کو نشانہ بنانے کے کیا معنی ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ لانگ مارچ کی بات کررہے ہیں ان کا شو فلاپ ہو چکا ہے 40 لاکھ کی بات کرنے والے 40 ہزار بھی جمع نہ کرسکے۔