سابق اٹارنی جنرل قتل کیس کاملزم اسپتال سے فراراہلکارگرفتار

سیکیورٹی پرماموراسلام آباد،راولپنڈی پولیس کے اہلکاروںکیخلاف تھانہ گنج منڈی میں مقدمہ


Numainda Express July 30, 2012
سیکیورٹی پرماموراسلام آباد،راولپنڈی پولیس کے اہلکاروںکیخلاف تھانہ گنج منڈی میں مقدمہ۔ فائل فوٹو

KARACHI: سابق اٹارنی جنرل و پشاورہائیکورٹ کے سابق جج محمدسردارخان کے قتل کیس کا ملزم روح اللہ راولپنڈی بے نظیربھٹوشہیداسپتال سے فرارہوگیا۔ ملزم کوسپریم کورٹ کے سوموٹوایکشن پرانٹرپول کے ذریعے افغانستان سے گرفتارکرکے اسلام آباد میںتھانہ شالیمار پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

تھانہ گنج منڈی پولیس نے سیکیورٹی پرماموراسلام آباد اورراولپنڈی پولیس کے اہلکاروںکوگرفتارکر کے مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اشتہاری ملزم روح اللہ نے دوران تفتیش محمدسردارخان کے قتل کامبینہ اعتراف کیا جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ نمبر58 کا چالان مکمل کرکے عدالت میں جمع کروایاگیا، ملزم کو بعدازاں اڈیالہ جیل بھیج دیاگیاجہاںسے اس نے پولیس کے مبینہ تعاون سے اپنی بیماری کی آڑ لے کرخودکوراولپنڈی کے بینظیرشہیدبھٹواسپتال میں علاج کیلیے منتقل کروایا جہاں سے وہ اتوارکی صبح فرارہونے میں کامیاب ہوگیا۔

تھانہ شالیمار پولیس نے وقوعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اس پر پہرے کیلیے وفاقی پولیس اورتھانہ گنج منڈی پولیس کے سیکیورٹی اسکواڈ تعینات تھے جنھیں گرفتارکرکے ان کیخلاف روالپنڈی کے تھانہ گنج منڈی میںمقدمہ درج کرلیاگیا،اس کیس کے دیگردوملزم صفی اللہ اورافتخاراحمدپہلے ہی گرفتارہیںجبکہ اس کیس کی ایک ملزمہ روبینہ سلیمان کو ساتھی ملزموں نے ثبوت مٹانے کیلیے پہلے ہی قتل کر دیا تھا۔