انگریز کی شرافت
جانی نقصان تو کوئی نہیں ہوا لیکن ٹرک کا کام تمام ہو گیا
PARIS:
کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے ہم پاکستانیوں کو یہ ماننا پڑے گا، اڑوس پڑوس کے ''نہ مانوں'' لوگوں کو بھی ماننا چاہیے کہ انگریز بڑے شریف اور جنٹلمین لوگ تھے بلکہ ہیں کیونکہ ہماری عقیدت باوجود جدائی کے کم نہیں ہوئی بلکہ کچھ زیادہ ہو گئی ہے پہلے وہ آتے تھے اور اب ہم جا کر ان سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، اگر یہ شریف لوگ آکر ہمارے سر پر اپنا دست شفقت نہ رکھتے تو ہم آج بھی وہی ہوتے جو تھے اور جو ہیں اور جو رہیں گے احسانات تو ان کے ہم پر بے شمار ہیں اتنے کہ
دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار
لیکن شرافت اور عالی ظرفی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہم نے ان کو ''بڑا بے آبرو'' کر کے نکالا لیکن وہ ماتھے پر کوئی شکن لائے بغیر یوں چلے گئے بلکہ اپنا سب کچھ ہمارے سپرد کر کے ہاتھ جھاڑ کر چلے گئے، ہائے
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جنھیں اپنے غموں سے فرصت تھی
سب پوچھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا
یہاں تک کہ اپنی زبان معاشرت خو بو، پٹواری تھانیدار ''آفس کریسی'' سے فائل کریسی، بیوور کریسی، انگلش کریسی نہ جانے کتنی ''کریسیاں'' بھی یہاں چھوڑ کر چلے گئے بلکہ کہ وہ تو کہہ رہے تھے کہ
میرا گورا رنگ لئی لے
موہے شام رنگ دی دے
وہ تو اپنی طرف سے سخاوت کا یا اوپر والے ہاتھ کا مظاہرہ کر کے چلے گئے لیکن ایک طرح سے بندر کے ہاتھ ''استرا'' بلکہ استرے بلکہ پوری ''کسوت'' دے گئے، ظاہر ہے اندھے کے ہاتھ بٹیر ہے تو ''بٹیر'' کا حشر نشر ہونا تو طے ہے پر کچھ ایسا ہوا تھا جیسے ماڈرن لوگ اپنا مکان کسی اجڈ دیہاتی کو دے کر چلے جائیں اور وہ غسل خانے میں باورچی خانہ، باورچی خانے میں مرغی خانہ اور مرغی خانے کو سنگ خانہ بنا دیں، ڈرائنگ روم میں مویشی باندھ دے، ویٹنگ روم کو شو روم بنا دیں اور ڈائینگ ہال کو غلہ خانہ بنا دیں
کسی کے ''جاتے'' ہی ساقی کے ایسے ہوش گئے
شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں
یہاں تک تو پھر بھی ٹھیک تھا لیکن بعض چیزیں ایسی بھی تھیں جن کا استعمال صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ان کے ماہر ہوتے ہیں اب اگر کسی تانگے والے کو موٹر کار کی سیٹ پر بٹھا کر چلانے کو کہا جائے تو وہ انجن کو چابک مار کر کہے گا کہ ۔ چل میری دھنو ۔ اسٹرینگ کو اکھاڑ کر اس کی جگہ ''باگیں'' ڈالنے کی کوشش کرے گا، پٹرول کی جگہ انجن کے آگے گھاس ڈالے گا، گھٹنی بجانے کی کوشش میں ایکسیلریٹر پرپاؤں رکھ کر دبائے گا۔
فیرنی کو شوربا سمجھ کر روٹی سے کھائے گا، کاٹنے کو ناک میں اور چمچے کو آنکھ میں گھسائے گا اور پھر بیل گاڑی کی جگہ ٹرک چلائے گا تو ۔ ہمارے گاؤں کا ایک آدمی فوج میں کچھ عرصہ رہ کر بھاگ آیا تھا یا کسی وجہ نااہل پاکر نکال دیا گیا، لیکن مونچھوں پر تاؤ دینے کے لیے کہا کرتا تھا کہ کم از کم ڈرائیونگ سیکھ کر ہی تو آیا ہوں وہاں میں یہ بڑی گاڑی چلاتا تھا، باپ نے سوچا لڑکا ڈرائیونگ سیکھ کر آیا ہے تو اب اس کے لیے یہی پیشہ کافی ہے چنانچہ گھر میں بتائے بغیر ایک ٹرک خرید لیا اور گھر کے سامنے کھڑا کروا دیا، بیٹے سے بولا ۔ لے بیٹا چلا اب اس ٹرک کو ۔ بیٹے نے ڈرائیونگ وغیرہ تو کوئی نہیں سیکھی تھی بولا ۔
ابا میں تو وہاں جو گاڑی چلاتا تھا وہ کالی تھی اور یہ سفید ہے، باپ نے کہا کچھ بھی ہو اب تم ٹرک چلاؤ گے کل سے اس کی سیٹ پر بیٹھو ۔ باپ سے ڈرتا بھی تھا چنانچہ راتوں رات گاؤں کے ایک ڈرائیور کو منت سماجت کر کے لے آیا اور اس سے ڈرائیونگ سیکھنے لگا جس حد تک ممکن ہو سکتا تھا ڈرائیور نے سکھا دیا، صبح ہوتے ہی باپ نے کہا چل ٹرک کی سیٹ پر بیٹھ ۔ اور چل میں بھی ساتھ بیٹھ کر تمہاری ڈرائیونگ دیکھوں گا ایک دو اور آدمی بھی سیٹ پر ساتھ بیٹھے گئے، مرتا کیا نہ کرتا گاڑی چلا دی، رات کی سیکھی ہوئی ڈرائیونگ کا استعمال کر کے ٹرک کو سڑک پر لے آیا، اب سڑک پر جو چلے تھے تو ٹانگوں کی بھرمار دی ایک تانگے سے بچایا تو دوسرا سامنے تھا، دو تین ٹانگوں سے بچانے پر بولا ۔ پتہ نہیں یہ اتنے تانگے والے کہاں سے پیدا ہو گئے اور سارے ہی سارے آج سڑک پر نکل آئے ہیں اور پھر ایک تانگے سے بچاتے ہوئے گاڑی بے قابو ہوئی تو سیدھی کنارے کے ایک گڑھے میں جا کر الٹ گئی۔
جانی نقصان تو کوئی نہیں ہوا لیکن ٹرک کا کام تمام ہو گیا، سب بمشکل گاڑی سے نکلے تو باپ نے اپنی لاٹھی اس کے گرد گھمانا شروع کر دی تو چیخ کر بولا ۔ مجھے ہی مار رہے ہو اوران کم بخت تانگے والوں کو کچھ نہیں کہہ رہے ہو جو آج سارے سازش کر کے میرے خلاف سڑک پر آئے ہوئے ہیں، ویسے تو انگریزوں کے چھوڑے ہوئے سارے سامان کا تو ہم نے کباڑا کیا ہوا ہے لیکن زبان انگریزی کو ہم نے جس بھونڈے طریقے پر استعمال کیا اور کر رہے ہیں اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے پتہ نہیں کسی نے ان کے کان میں پھونکا ہے یا اس نے خود ہی مارے عقیدت کے ایسا سمجھ لیا ہے کہ ترقی اگر ہو سکتی ہے تو وہ صرف انگریزی میں ہو سکتی ہے۔
بے چارے کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو پایا ہے کہ ترقی انسان کرتا ہے زبان نہیں ۔ چینیوں اور جاپانیوں نے یہ ترقی انگریزی میں نہیں کی ہے، بچپن میں ہم جب کھیلتے تھے اور کہیں آندھی یا کسی اور وجہ سے کوئی پرندہ مردہ یا نیم مردہ مل جاتا تھا تو ہم اسے ٹوپی سے ڈھانپ کر اس کے گرد بیٹھ جاتے تھے اور جس کو جتنی بھی عربی آتی تھی چونکہ ''اللہ اکبر'' اذانوں کے ذریعے ہر کوئی سنایا ہوا ہوتا تھا تو سارے لڑکے ''اللہ اکبر، اللہ اکبر'' دہراتے اپنی مٹھی میں ''چف'' کرتے اور ٹوپی کے اوپر چھوڑتے ۔ لیکن اس عمل سے ہم کسی بھی پرندے کو زندہ نہیں کر پائے، انگریزی بے شک آج کی مقبول زبان ہے لیکن انگریزی میں صرف موٹر یا ہوائی جہاز یا کوئی بھی چیز صرف نام بولنے سے نہیں بنتی بل کہ پہلے وہ چیز بنانا پڑتی ہے اس کے بعد نام لکھنے کا مرحلہ آتا ہے، امریکیوں کے پاس ڈالر انگریزی بولنے سے نہیں آئے بلکہ ڈالر آنے کے بعد ڈالر کا نام رکھا گیا تھا،لہٰذا کچھ پانے کے لیے کچھ کرنا بھی پڑتا ہے۔