بھٹوکا فلسفہ

ذوالفقارعلی بھٹو کی سحرانگیز شخصیت 60ء کی دھائی سے نوجوانوں کے لیے کشش کا باعث تھی


Dr Tauseef Ahmed Khan April 04, 2017
[email protected]

4 اپریل 1979ء کو راولپنڈی جیل میں ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکو ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹوکی میت کو رات گئے چکلالہ ایئرپورٹ سے C-130 طیارے میں سکھر پہنچایا گیا اور فوجی پہرے میں گڑھی خدابخش قبرستان میں تدفین کردی گئی۔ان کی بیوہ نصرت بھٹو اور بیٹیوں بے نظیر اور صنم بھٹو اور قریبی رشتے داروں کو بھٹو کی میت کا دیدارکرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ بھٹوکی قبر پر 3 دن تک پہرہ لگا رہا مگر پھر بھٹوکا مزار قربانی اور سیاسی جدوجہد کی علامت بن گیا اور آج بھی یہ مزار سیاسی کارکنوں کے لیے تقویت کا باعث ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو کی سحرانگیز شخصیت 60ء کی دھائی سے نوجوانوں کے لیے کشش کا باعث تھی اورگزشتہ صدی کے اختتام تک یہ نوجوانوں کے لیے مشعل راہ رہی مگر اب بھٹو صاحب کا فلسفہ اور شخصیت مزدوروں، کسانوں اور مظلوم طبقات کے لیے کشش کا باعث ہے۔ بھٹوکی پارٹی خود اس بارے میں کنفیوژن اوردھرے رویے کا شکار ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو لاڑکانہ کے جاگیردار شاہ نواز بھٹوکے صاحبزادے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے برطانیہ اور امریکا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ تیسری دنیا کے اتحادکا نظریہ لے کر ملک میں آئے تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹوکو بیوروکریٹ میجر جنرل ریٹائرڈ اسکندر مرزا کی کابینہ میں جونیئر وزیرکی حیثیت سے شامل کیا گیا۔ پھر وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں پہلے وزیرصنعت اور پھر وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔ بھٹو نے خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ چین، انڈونیشیا، مصر، چیک و سلواکیہ اور فلسطین ان کی پالیسی کا بنیادی محور تھے۔

بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آپریشن جبرالٹر کے آرکیٹیکٹ تھے۔ آپریشن جبرالٹر کی بناء پر پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965ء کی جنگ ہوئی۔ سوویت یونین کے وزیر اعظم کوسیجن کی ڈپلومیسی کی بناء پر معاہدہ تاشقند ہوا۔ بھٹو نے معاہدہ تاشقند کی مخالفت کی، یوں وہ پنجاب میں مقبول ہوئے۔ چین کے حامی بائیں بازو کے رہنماؤں معراج محمد خان، شیخ رشید، ڈاکٹر مبشر حسن اور ملک معراج خالد وغیرہ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی قائم کی۔ روٹی،کپڑا اورمکان پیپلز پارٹی کی بنیادی منشور قراردیا گیا۔

انھوں نے 1970ء کے انتخابات میں اپنے منشور میں جاگیرداری کے خاتمے، مزدوروں، کسانوں، طالب علموں اورخواتین کے لیے بنیادی اصلاحات کا وعدہ کیا۔ دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا۔ سب سے پہلے متفقہ آئین کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور ایک متفقہ آئین تیار ہوا۔ اس آئین میں تمام مکاتبِ فکر کے سیاستدانوں نے اعتمادکا اظہارکیا۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات کیں۔ پاکستان کی ریاست نے پہلی دفعہ شہریوں کے تعلیم اور صحت کے حق کو تسلیم کیا۔

مزدوروں، کسانوں اور خواتین کے لیے بنیادی اصلاحات کی گئیں۔ بھٹو کا دور شہری آزادیوں اورطرزِ حکومت کے اعتبار سے کوئی اچھا دور نہیں تھا۔ بلوچستان کی منتخب حکومت کو توڑا گیا، بائیں بازو کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی گئی، نیپ اور بائیں بازو کے رہنماؤں کے خلاف جن میں بھٹو کے قریبی ساتھی معراج محمد خان بھی شامل تھے حیدرآباد سازش کیس کا مقدمہ چلایا گیا مگر بھٹو کی شخصیت اور ان کی حکومت کی بنیادی اصلاحات نے پیپلز پارٹی کو زندہ رکھا۔

جب 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا اور مارشل لاء نافذ کیا تو بھٹو نے فوجی آمریت کے خلاف سرنگوں ہونے سے انکار کیا تو پیپلزپارٹی اور بائیں بازو کے کارکنوں، مزدور، صحافیوں، دانشوروں، خواتین اورغیر مسلم پاکستانیوں کے ہیرو بن گئے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کو عوام نے کبھی قبول نہیں کیا۔ کئی کارکن بھٹو کی جان بچانے کے لیے زندہ جل گئے۔

ملک کے تمام حصوں سے ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے ان میں سے بہت سوں کو قیدوبند کے ساتھ کوڑوں کی سزائیں بھی برداشت کرنا پڑیں ۔1980ء میں بھٹو کی مخالف سیاسی جماعتوں اور پیپلز پارٹی نے بحالئ جمہوریت کے پلیٹ فارم سے تاریخی جدوجہد کی۔ اس جدوجہدکا مقصد 1973ء کے آئین کی بحالی اور شفاف انتخابات کا انعقاد تھا۔ بھٹوکے مخالف سیاستدانوں ولی خان، بیگم نسیم ولی خان، اصغر خان، نوابزادہ نصراﷲ خان، شیرباز مزاری، معراج محمد، فتحیاب علی خان اور غوث بخش بزنجو وغیرہ نے احتجاجی تحریک میں شرکت کی۔ایم آر ڈی کی تحریک میں اندرونِ سندھ احتجاج کرنے والے کارکنوں کے خلاف ملٹری آپریشن ہوئے اور پورے ملک سے ہزاروں افراد نے گرفتاریاں دیں۔

جنرل ضیاء الحق کو اس تحریک کے بین الاقوامی اثرات کو روکنے کے لیے انتخابات کرانے پڑے، غیر جماعتی انتخابات ہوئے۔ محمد خان جونیجو وزیر اعظم بن گئے۔ انھوں نے مارشل لاء ختم کیا اور 1973ء کا آئین بحال ہوا۔86 ء میں پیپلزپارٹی کی شریک چیئرپرسن بے نظیر بھٹو سیاسی جلاوطنی ختم کر کے لاہور پہنچیں تو لاکھوں لوگوں نے لاہور ایئرپورٹ پر ان کا انتخاب کیا۔ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانی کے باوجود 1988 ء کے انتخابات میں کامیاب ہوئی۔ پیپلز پارٹی کی شریک چیئرپرسن بے نظیر بھٹو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ اور قائم مقام صدر غلام اسحاق خان سے معاہدے کے نتیجے میں برسر اقتدار آگئیں۔ پیپلز پارٹی 1988ء سے 1996ء تک دو دفعہ اقتدار میں آئی مگر پیپلز پارٹی شفافیت کو نظراندز کرنے اور بھٹو کے بنیادی فلسفہ سے انحراف کی بناء پر اپنی مقبولیت برقرار نہ رکھ سکی۔ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری گرفتار ہوئے۔

بے نظیر بھٹو نے جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ انھوں نے 2005ء میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کے ساتھ لندن میں میثاق جمہوریت پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس میثاق میں کہا تھا کہ 1973ء کا آئین اس کی حقیقی شکل میں بحال کیا جائے گا اورصوبائی خودمختاری کو حقیقی طور پر آئین کی حصہ بنایا جائے گا۔ بے نظیر بھٹو نے سابق صدر پرویز مشرف سے محدود نوعیت کی مفاہمت کی جس کے نتیجے میں N.R.O ہوا مگر بے نظیر بھٹو سابق صدر پرویز مشرف کی ہدایت کے باوجود16 ستمبر 2007ء کو دبئی سے کراچی آئیں۔

کراچی ایئرپورٹ پر لاکھوں لوگوں نے ان کا خطاب سنا مگرکارسازکے قریب ان پر خودکش حملہ ہوا۔ بے نظیر اس دھماکے میں بال بال بچ گئیں مگر بے نظیر جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری دن جناح اور سول اسپتال اور لیاری پہنچ گئیں۔ بے نظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کی زوردار انتخابی مہم چلائی مگر 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ کے جلسہ میں ایک خودکش دھماکا میں شہید ہوگئیں، یوں آصف زرداری پہلے شریک چیئرپرسن بن گئے۔ پھر نواز شریف کے ساتھ مل کر پرویز مشرف کو ایوان صدر سے بے دخل کیا۔ زرداری نے ایک نیا طرزِ حکومت نافذ کیا۔ اس طرزِ حکومت میں حکومت اور پارٹی کو شدید نقصان پہنچا۔ ایک طرف سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور اسٹیبلشمنٹ کے حملوں نے پیپلز پارٹی کو پنجاب کے عوام سے دور کردیا۔

زرداری صاحب نے ہر معاملے پر مفاہمت کی پالیسی اختیار کی ۔ دوسری طرف کرپشن کی کہانیاں عام ہوگیئں، یوں سندھ کے شہر موئنجودڑوکا منظر پیش کرنے لگے۔ پیپلز پارٹی کی اساس مزدوروں، کسانوں، غیر مسلم شہریوں اور مظلوم طبقات کے لیے جدوجہد کے بجائے جوڑ توڑ کی پالیسی بن گئی۔ اس صورتحال میں پیپلزپارٹی اندرونِ سندھ کی حد تک محدود ہوگئی۔ زرداری اگلے عام انتخابات میں پنجاب سے کامیابی کی نوید دے رہے ہیں مگر جن لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جدوجہد کا مطالعہ کیا ہے ان کے نزدیک زرداری کے نئے دعوؤں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ بھٹو کے غریبوں کے فلسفے کو اپنا کر ہی پیپلز پارٹی دوبارہ مقبول ہوسکے گی۔