ذکر ایک سروے کا
آجکل آئیڈیا کے نام سے ایک تنظیم کے سروے کا بہت شور ہے
پاکستان میں عوام کیا سوچ رہے ہیں ۔ یہ جاننے کے لیے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو کسی عوامی سروے کی ضرورت نہیں ہو تی بلکہ ہر حکمران اور سیاستدان کو یہ زعم ہو تا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان میں مختلف موضوعات پر عوامی سروے کا رحجان پروان نہیں چڑھ سکا ہے۔ تا ہم جمہوری اور غیر جمہوری حکمران بلا امتیاز عوام کی رائے جاننے کے متلاشی رہتے ہیں۔ عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سیاسی جماعتیں اپنے من پسند سوالات کے تحت بھی عوامی سروے کراتی ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ اس طرح کے سروے سیاسی جماعتوں کے پکے اور مضبوط ووٹ بینک کو متاثر نہیں کر سکتے ۔ تا ہم یہ سروے نیوٹرل ووٹ بینک کو اپنی طرف مائل کرنے کا ایک بہترین ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔
آجکل آئیڈیا کے نام سے ایک تنظیم کے سروے کا بہت شور ہے۔ ویسے تو اس سروے کی ساکھ پر ابھی تک اس لیے اعتراض نہیں کیا جا سکا کہ اس کو لمز اور ہاروڈر یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی ادروں کے تعاون سے کیا گیا۔ بنیادی طور پر یہ سروے لاہور کے تین انتخابی حلقوں میں کیا گیا ہے۔لہذا اس سے لاہور اور وسطیٰ پنجاب کے شہروں کی سیاست کا تو اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ لیکن پورے پاکستان کی سیاست کا اندازہ نہیں لگا یا جا سکتا۔
اس سروے کو پاناما کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سیاست میں وسطیٰ پنجاب تک ہی اہم ہے۔ میں پہلے بھی اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ سندھ کی سیاست میں پاناما کاکوئی اثر نہیں۔ بلوچستان کی سیاست میں پاناما کا کوئی اثر نہیں۔ حتیٰ کے کے پی کے کی سیاست میں بھی پاناما کا بہت محدود اثر ہے۔کراچی کی سیاست میں بھی جو سیاسی جماعتیں اہم ہیں ان کا بھی پاناما ایشو نہیں ہے۔یوں پاناما نے صرف پنجاب اور وسطیٰ پنجاب کے بڑے شہروں کی سیاست پر اثر ڈالنا ہے۔ میاں نواز شریف کی مصیبت یہ ہے کہ یہی علاقہ ان کا مضبوط قلعہ ہے۔ اس طرح پاناما اگر لاہور اور وسطیٰ پنجاب کے دیگر شہروں میں اثر ڈالتا ہے تو یہ میاں نواز شریف کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے میں لاہور کے تین انتخابی حلقوں کا یہ سروے یقیناً لاہور اور وسطیٰ پنجاب کے ر سیاسی ماحول کا عکاس ہے۔
مجھے یہ سروے اس لیے بھی پسند آیا کہ اس میںجب یہ سوال کیا گیا ہے کہ ان کے خیال میں آیندہ الیکشن میں ووٹ دینے کے لیے کون سے تین ایشو سب سے اہم ہیں۔ 64 فیصد لوگوں نے یہ کہا ہے کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ قوت خرید ہے۔یعنی مہنگائی ہے۔آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن صرف اس نتیجہ کو دیکھ کر ہی مجھے اس سروے کے سچے ہونے کایقین ہو گیا ہے۔ پتہ نہیں کیوں ہمارے سیاستدان یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ عوام کے لیے سب سے اہم ان کے اپنے مسائل ہیں۔ پیپلزپارٹی آئین کی بحالی عوام کو بیچنے کی کوشش کرتی رہی۔ تحریک انصاف دھاندلی اور پاناما عوام کو بیچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب کہ عوام چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ مہنگائی ہے۔ اس لیے یہ سروے پاکستان کے سیاستدانوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اگر عوام سے ووٹ لینے ہیں تو مہنگائی کی بات کریں۔ دوسرے نمبر کرپشن یعنی 36.7 فیصد لوگوں نے اسے اہم مسئلہ قرار دیا اور تیسرے نمبر پر روزگار رہا ہے۔
اب جہاں تک کرپشن کی بات ہے تو تحریک انصاف کی قیادت نے کرپشن کے سمندر کو پاناما کے کوزے میں بند کر دیا ہے۔ وہ عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر پاناما کا فیصلہ تحریک انصاف کی امنگوں کے مطابق آگیا تو پاکستان میں کر پشن کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اگر ہم نے ایک وزیر اعظم کو الٹا ٹانگ دیا تو پھر کسی کو کرپشن کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔ یہ کوئی نئی دلیل نہیں ہے جب بھٹو کا عدالتی قتل کیا جا رہا تھا تب بھی بھٹو کے عدالتی قتل کے حامی یہی دلیل دے رہے تھے کہ ایک دفعہ ایک بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تو پھر کوئی کسی کے قتل کا حکم دینے کی جرات نہیں کرے گا۔ یہ وڈیرے قتل و غار ت چھوڑ دیں گے۔ اس لیے صرف کسی ایک کو نشان عبرت بنانے سے مسائل حل نہیں ہو ںگے۔
انصاف پر مبنی فیصلوں پر ہی معاشرہ میں انصاف قائم ہو سکتا ہے۔ جہاں تک کرپشن کی بات ہے تو اس سروے کے مطابق 41 فیصد پاناما کے اس ہنگامہ کے باوجود میاں نواز شریف کو ایماندر سمجھتے ہیں۔ یہ سروے پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں یہ سوال گھوم رہا ہے کہ جب عوام کے نزدیک پاناما سب سے ا ہم مسئلہ بھی نہیں ہے اور اب بھی عمران خان کے مقابلے میں ایک بڑی شرح میاں نواز شریف کو ایماندر سمجھتی ہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب بھی اس سروے میں نمایاں نظر آرہے ہیں۔ 49.3 فیصد لوگ میاں شہباز شریف کو ایماندار سمجھتے ہیں۔ اس طرح یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف کی نسبت زیادہ لوگ میاں شہباز شریف کو ایماندار سمجھتے ہیں۔
میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے درمیان مقابلہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ دونوں بھائیوں کے درمیان گڈ گورننس کا بھی مقابلہ ہے۔ یہ درست ہے کہ میاں شہباز شریف کی نیک نامی کا فائدہ بھی نواز شریف کو ہی ہوتا ہے۔ اور نواز شریف کی نیک نامی کا فائدہ شہباز شریف کو ہو تا ہے۔ اسی طرح دونوں کی کمی کوتا ہیو ں کا نقصان بھی بالواسطہ براہ راست ایک دوسرے کو ہی ہوتا ہے۔
اس لیے دونوں میں سے کون زیادہ ایماندار اور کون کم ایماندار یہ اہم بھی ہے اور غیر اہم بھی۔ اہم اس طرح کسی ان ہونی کے نتیجے میں شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو سنبھالنے کے لیے موجود ہوںگے۔جہاں تک بد دیانت سمجھنے کا سوال ہے تو 25.1 فیصد لوگ میاں نواز شریف کو 9.1 فیصد لوگ عمران خان کو 19.5 لوگ میاں شہباز شریف کو 78.6 فیصد آصف زرداری کو اور 20.1 فیصد بلاول بھٹو کو بد د یا نت سمجھتے ہیں۔ یہ شرح عمران خان کے لیے حوصلہ افز ا ہے۔ لیکن اس سروے نے یہ بگل بجایا ہے کہ لاہور اور وسطیٰ پنجاب ابھی تک ن لیگ کے ساتھ ہے اور لاہور کا ووٹر ابھی کسی بڑی تبدیلی کے موڈ میں نہیں ہے۔