جے یو آئی تاریخی اجتماع اور خواتین
مولانا فضل الرحمن اس زمانے میں ملتان کے مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے تھے
کسی فرقے کا نہیں اسلام کا نمایندہ ہوں۔ جنگوں کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ بات چیت ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔ ہم ووٹ کی طاقت کے ذریعے اﷲ کے نظام کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ اجتماع کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس اجتماع میں بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک سے آئے مندوبین نے شرکت کی، مگر کوئی خاتون اس اجتماع میں موجود نہیں تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے اس اجتماع سے قبل کہا تھا کہ اجتماع میں شرکت کرنے والے لاکھوں مرد ہی خواتین کی نمایندگی کر رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام نے صد سالہ جشن منایا اور ان سو برسوں میں جمعیت علمائے ہند کو بھی شامل کرلیا۔ یہ اس ملک میں ایک نئی روایت ہے۔
جمعیت علمائے ہند گزشتہ صدی کے اوائل میں قائم ہوئی ۔ جمعیت کے بانیوں میں شیخ الہند محمود الحسن، امیر مالٹا مولانا عزیز گل، سید حسین احمد مدنی، مولانا تاج محمود امروٹی، مولانا محمد میاں، مولانا عبدالکلام آزاد اور مولانا عبیداﷲ سندھی شامل تھے۔ شیخ الہند محمود الحسن برسوں مالٹا میں نظربند رہے۔ باقی علما نے اپنی زندگی کے طویل سال ہندوستان کی جیلوں میں گزارے۔ جمعیت اہلسنت والجماعت وہابی مکتبہ فکر کے علما پر مشتمل تھی اور دارالعلوم دیوبند اس کا مرکز تھا۔ جمعیت علمائے ہند نے انگریز حکومت کے خاتمے کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ جمعیت علمائے ہند کانگریس کی اتحادی تھی۔ اس کے اکابرین کا کہنا تھا کہ متحدہ بھارت مسلمانوں کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
40 کی دہائی میں مولانا شبیر عثمانی کی قیادت میں ایک گروہ جمعیت سے علیحدہ ہوا اور تحریک پاکستان میں شامل ہوا مگر مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود، مولانا محمود حسن مدنی کے ساتھ تھے۔ مولانا مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے جمعیت علمائے اسلام قائم کی، مگر ان علماء کے دارالعلوم دیوبند سے روابط قائم رہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما دیوبند جاتے رہے اور بھارتی علما جمعیت کی کانفرنس میں شرکت کے لیے آتے رہتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت سے کوئی مندوب اس اجتماع میں شریک نہیں ہوا۔
مولانا مفتی محمود نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایوب خان کے مخالف اتحاد میں شامل تھے مگر جب متحدہ حزب اختلاف نے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے مقابلہ میں محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار نامزد کیا تو مفتی محمود نے خاتون ہونے کی بنا پر فاطمہ جناح کی حمایت سے انکار کیا۔ 1970 کے انتخابات میں جمعیت علمائے اسلام نے سرحد اور بلوچستان سے خاطرخواہ کامیابی حاصل کی۔ مفتی محمود نے 1971 کے تنازعہ میں عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔
1972 میں جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی نے اتحاد قائم کیا اور صدر بھٹو سے معاہدے کے بعد سرحد اور بلوچستان میں نیپ اور جمعیت علمائے اسلام نے مشترکہ حکومتیں قائم کیں اور مفتی محمود سرحد کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ جب بھٹو حکومت نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کے وزیراعلیٰ سردار عطاء اﷲ مینگل کی حکومت کو برطرف کیا تو مفتی محمود اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مارچ 1977 میں عام انتخابات کا اعلان کیا تو مفتی محمود کی قیادت میں پاکستان قومی اتحاد قائم ہوا جس نے بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلائی۔
جون 1977 میں پی این اے اور بھٹو حکومت میں مذاکرات ہوئے۔ پی این اے کے وفد کی قیادت مفتی محمود نے کی۔ جب 4 اور 5 جولائی 1977 کی رات کو مفتی محمود اور ان کے ساتھی پروفیسر غفور اور نوابزادہ نصر اﷲ خان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن ذوالفقار علی بھٹو، مولانا کوثر نیازی اور عبدالحفیظ پیرزادہ ایک معاہدے پر متفق ہوئے تو جنرل ضیاء الحق نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ پی این اے نے کچھ عرصہ تک جنرل ضیاء الحق سے تعاون کیا مگر جب جنرل ضیاء الحق نے انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیے تو مفتی محمود، نصیر اﷲ خان، شیر باز خان مزاری اور اصغر خان پیپلز پارٹی کے ساتھ تحریک بحالی جمہوریت کے قیام پر متفق ہوگئے، مگر مفتی محمود اچانک انتقال کرگئے۔
مولانا فضل الرحمن اس زمانے میں ملتان کے مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔ انھوں نے جمعیت علمائے اسلام کی قیادت سنبھال لی مگر اس وقت جمعیت دو حصوں میں بٹ گئی۔ مولانا سمیع الحق نے الگ جماعت بنالی اور جنرل ضیاء الحق کی حمایت کی جب کہ مولانا فضل الرحمن نے جنرل ضیاء الحق کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا اور طویل عرصے تک ہری پور ہزارہ کی جیل سمیت سرحد کی مختلف جیلوں میں نظر بند رہے مگر ان کی جماعت افغان جہاد میں شریک رہی۔ پھر مولانا فضل الرحمن عسکری مقتدرہ کے قریب ہوگئے۔ 1988 سے مولانا فضل الرحمن کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی مسلم لیگ کے اتحادی رہے، بے نظیر بھٹوکے وزیراعظم بننے کی حمایت کی۔ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت نے ان کی حمایت کی۔ جب جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں عام انتخابات منعقد کیے تو مولانا فضل الرحمن نے مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل (M.M.A) قائم کی۔ کہا جاتا ہے کہ عسکری مقتدرہ نے اس اتحاد کو منظم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا تھا۔
جے یو آئی کے اکرم درانی سرحدکے وزیراعلیٰ بن گئے۔ مولانا نے اس موقعے پر پیپلز پارٹی سے مدد مانگی تھی مگر بقول مولانا فضل الرحمن پیپلز پارٹی کی حمایت نہ ہونے کی بنا پر وہ وزیراعظم نہ بن سکے، مگر 2007 میں جب چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک شروع ہوئی تو جے یو آئی کی اتحادی جماعت جماعت اسلامی نے اس تحریک میں حصہ لیا، مگر جے یو آئی اس تحریک سے علیحدہ رہی۔ صدر پرویز مشرف نے اسمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے صدارتی انتخابات کرائے تو سرحد اسمبلی نے صدر پرویز مشرف کو ووٹ دیے حالانکہ صدر پرویز مشرف نے ایم ایم اے سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف آف اسٹاف کا عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ حکومتوں میں قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے۔ ان کا عہدہ مرکزی وزیر کے برابر ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی کی حکومت سے ایک معاہدہ کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ حاصل کی۔ مولانا غفور حیدری کونسل کے سربراہ ہوئے۔ میاں نواز شریف نے بھی یہ معاہدہ برقرار رکھا۔ مولانا غفور حیدری نے اسلامی نظریاتی کونسل میں خواتین کی بہبود کے لیے تیار کیے گئے قوانین کو غیر اسلامی قرار دیا۔ جے یو آئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح بالواسطہ منتخب ہوئے والے نمایندے براہ راست منتخب ہونے والے نمایندے کے برابر نہیں ہوسکتے مگر ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جے یو آئی کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی رکن کی کارکردگی تمام منتخب اراکین سے زیادہ بہتر قرار دی گئی ہے۔
ان خاتون رکن نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سب سے زیادہ شرکت کی اور سب سے زیادہ بحث میں حصہ لیا۔ مولانا فضل الرحمن فرقہ واریت کے خلاف ہیں اور انھوں نے تمام مسلمانوں کی نمایندگی کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی طرح مولانا نے اپنے خطاب میں انتہاپسندی کی مذمت کی ہے اور انتہاپسندی کا ذمے دار یورپ کو قرار دیا ہے، مگر انھوں نے طالبان کی انتہاپسند پالیسیوں کی مذمت نہیں کی۔مولانا نے اپنے خطاب میں سب سے اہم بات یہ کی ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذ پر یقین رکھتے ہیں ، اس طرح انھوں نے 1973 کے آئین کی بالادستی پر یقین کا اظہار کیا ہے مگر انھیں تشدد کے ذریعے اسلام نافذ کرنے والے گروہوں کی مذمت بھی کرنا چاہیے تھا۔
ناقدین کہتے ہیں کہ علما شہروں میں ہونے والے اجتماعات میں جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں مگر جب دیہی علاقوں میں جاتے ہیں تو ان کا موقف تبدیل ہوجاتا ہے۔ وہ طالبان کی حکومت کو اسلامی قرار دیتے ہیںجس کا مذہبی انتہاپسندوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس عظیم اجتماع میں خواتین کی شرکت نہیں ہوئی۔ خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت کے بغیر جمہوری نظام مستحکم نہیں ہوسکتا۔ وہ خواتین کے بارے میں ہم مسلک جماعت اسلامی کی پیروی کے لیے تیار نہیں جن کے ہر اجتماع میں خواتین شرکت کرتی ہیں۔ جے یو آئی کے اکابرین نے بہت سے فرسودہ خیالات کو ترک کیا ہے اور عوام کے ووٹ کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ خواتین کے بارے میں ان کے موقف میں تبدیلی آئے گی۔