سمندر میں کنٹینر ٹرمینل کی تعمیر کے خلاف درخواست دائر

جاپانی ماہرین بھی کنٹینرٹرمینل کےمقام کوغیرمناسب قراردےچکے ہیں،قدرتی آفات کےامکانات میں اضافہ ہو جائیگا، درخواست گزار.


Staff Reporter January 19, 2013
کراچی کے سمندر میں کنٹینرز ٹرمینل کی تعمیر سے شہر کیلیے قدرتی آفات کے امکانات میں اضافہ ہوجائے گا۔ فوٹو: فائل

ABU DHABI: سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی گئی ہے کہ کراچی کے سمندر میں کنٹینرز ٹرمینل کی تعمیر سے شہر کیلیے قدرتی آفات کے امکانات میں اضافہ ہوجائے گا۔

جاپانی ماہرین بھی کنٹینرٹرمینل کے مقام کو غیر مناسب قرار دے چکے ہیں، اس لیے کے پی ٹی اور وزارت پورٹ وشپنگ کو کنٹینر ٹرمینل کی تعمیر سے روکا جائے ، سی راک اپارٹمنٹس کلفٹن کے رہائشی عبدالجبار خان نے وزارت جہاز رانی و بندرگاہ ،وزارت ماحولیات ، وزارت سیاحت ، کے پی ٹی ،کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنرکراچی جنوبی کو فریق بنا تے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ کلفٹن کے ساحل پر تجاوزات قائم کرکے ڈیپ سی کنٹینرز پراجیکٹ تعمیرکرکے شہریوں بالخصوص کراچی کے شہریوں کے بنیادی حق کو پامال کیا جارہا ہے، کیونکہ کلفٹن ہی واحد ساحل ہے جہاں شہریوں کو تفریح کے مواقع میسر ہیں۔

یہاں بلاک ون اور ٹوکے سامنے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر قدرت کے تحفہ مونگے کی چٹانوںکی صورت میں موجود ہیں جن سے انسانوں اور آبی حیات کو تحفظ حاصل ہے ،درخواست گزار کے مطابق کراچی افقی طور پر زلزلے کی پٹی پر واقع ہے، چٹانیں زلزلے کے موقع پر اہم حفاظتی کردار ادا کرتی ہیں ،درخواست گزار نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کنٹینرٹرمینل کی تعمیر کیلیے کھدائی کے دوران ان چٹانوں کو نقصان پہنچا توکسی بھی قدرتی آفت کے موقع پرکراچی کے لاکھوں شہریوںکو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا ، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سجادعلی شاہ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو افسر تابش گوہرکی گرفتاری کے خلاف حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

4

جمعہ کو سندھ بارکونسل کی جانب سے سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی اور کراچی میں ہڑتال کے موقع پر وکلاعدالت میں پیش نہیں ہوئے، فاضل بینچ نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے حکم امتناع میں آئندہ سماعت تک توسیع کردی ، قبل ازیںاسپیشل سیکریٹری سینٹ نے عدالت کوبتایا تھاکہ کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹیو افسر تابش گوہر کو بھی بعض اہم معاملات کی پوچھ گچھ کیلیے طلب کیا گیا تھا مگر انھوں نے آنے سے انکار کیا جس پر ان کاوارنٹ جاری کیا گیا،درخواست بدنیتی پر مبنی ہے خارج کی جائے، تابش گوہر کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے 8نومبر کو کمیٹی کے روبرو پیش نہ ہونے پر سینیٹ کے رولز آف پروسیجر اور کنڈکٹ آف بزنس2012 کی دفعات 166(4)اور187(4)کے تحت ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں،یہ دفعات آئین سے متصادم ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ایڈیشنل آئی جی ( لیگل )علی شیر جکھرانی کو اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے کے خلاف دائردرخواست منظورکرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ علی شیرجکھرانی کو پی ایس پی کیڈر میں فوری طور پر اگلے گریڈ میں ترقی دی جائے،دریں اثناء فاضل عدالت نے ایس ایس پی شوکت کھٹیان اور ایس ایس پی عبدالقیوم پتافی سمیت15پولیس افسران کی دائر کردہ درخواست پر بھی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو نوٹس جاری کردیا ہے،پولیس افسران کی جانب سے دائر درخواست میں پی ایس پی کیڈر میں اگلے گریڈ میں ترقی دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ایس پی کیڈر میں جو پوسٹیں خالی ہیں ان پر درخواست گزاروںکو ترقی دی جائے۔