سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے زخمی 2 ڈاکو اسپتال سے گرفتار

مقابلے کے دوران ڈاکوؤں کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان منیب ہلاک ہوگیا تھا۔


Staff Reporter January 20, 2013
ملزمان نے علاج کیلیے لوٹ مارمیں زخمی ہونے کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی۔ فوٹو: فائل

فیروز آباد میں دو روز قبل سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 2 مبینہ ڈاکوؤں کو پولیس نے 2 نجی اسپتالوں سے گرفتار کرلیا۔

مقابلے کے دوران ڈاکوؤں کی مبینہ فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا تھا ،ایس ایچ او فیروز آباد انسپکٹر جہانزیب خان کے مطابق جمعرات کو پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 طیبہ مسجد کے قریب انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج سید ذاکر حسین کے بنگلے پر تعینات پولیس گارڈ نے گلی میں لوٹ مار کے دوران ڈاکوؤں پر فائرنگ کی تھی جس پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے راہگیر 22 سالہ منیب ولد سہیل سر پر گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا تھا جبکہ گارڈ کی فائرنگ سے ایک ملزم زخمی ہوگیا تھا جسے اس کا ساتھی موقع سے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

جہانزیب خان نے بتایا کہ ڈاکو موٹر سائیکل اور اسلحہ پھینک کر فرار ہوگئے تھے جسے پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیاتھا ، مقتول منیب خدا داد کالونی میں واقع کیتھولک چرچ میں رہائش پذیر جبکہ وہ بلدیہ ٹاؤن نمبر 2 کا رہائشی تھا ، مقتول اپنی مذہبی تعلیم حاصل کر کے شارع قائدین کی جانب آرہا تھا کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے سر پر گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ، جہانزیب خان نے بتایا کہ ملزمان کی چھوڑی ہوئی موٹر سائیکل نمبر سے پتہ چلایا تو اس کا پتہ گلشن حدید کا آیا۔

 

6

تاہم بعدازاں پولیس کومعلوم ہواکہ ڈاکوؤں کی چھوڑی ہوئی موٹرسائیکل کے چھیننے اور اس دوران مزاحمت پر فائرنگ سے زخمی ہونے کی انٹری شاہ فیصل کالونی تھانے میں کرائی گئی ہے جس پر انھوں نے تحقیقات کی تو انکشاف ہوا کہ گارڈ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے مبینہ ڈاکو محمد علی اور عظیم گلشن حدید کے رہائشی ہیں جبکہ محمد علی نے واردات میں زخمی ہونے کے بعد اہلخانہ کو بتایا کہ اس سے شاہ فیصل کالونی میں ملزمان نے موٹر سائیکل چھین لی اور فائرنگ کر کے ہمیں زخمی کر دیا ، جہانزیب خان نے بتایا کہ ڈاکوؤں کے فرار ہونے کے بعد چھیپا ایمبولنس کو اطلاع دی گئی کہ شاہ فیصل کالونی میں امینا سوئٹ کے قریب فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوئے ہیں جس پر ایس ایچ او شاہ فیصل کالونی نسیم فاروقی کو پتہ چلا تو انھوں نے ایسے کسی بھی واقعے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تو خود امینا سوئٹ پر کئی گھنٹوں سے موجود ہیں اور یہاں پر فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

اس سلسلے میں ایس ایچ او شاہ فیصل کالونی نسیم فاروقی نے بتایا کہ زخمیوں کے جناح اسپتال لانے والے شخص نے اپنا نام زوہیب بتایا تھا اور جو فون نمبر دیا تھا وہ شیر شاہ کے علاقے کا تھا اور مسلسل بند جا رہا تھا جبکہ انھوں نے چھیپا ایمبولینس کے ڈرائیور علی شیر سے جب زخمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو اس نے بتایا کہ زخمیوں کی اطلاع امینا سوئٹ کے قریب دی گئی تھی تاہم جب وہ وہاں پہنچا تو کوئی نہیں ملا جس پر وہ واپس جا رہا تھا کہ کچھ فاصلے پر موٹر سائیکل سوار افراد آئے اور کہا کہ زخمی آگے موجود ہیں اور کچھ دور جا کر ایک کار آئی جس میں 2 زخمی موجود تھے انھیں لے کر وہ جناح اسپتال آگیا۔

ایم ایل او کی جانب سے زخمیوں کے حوالے سے کرائی جانے والی انٹری پر جب پولیس جناح اسپتال پہنچی تو زخمیوں کے اہلخانہ نے بیانات لینے سے منع کر دیا ،نسیم فاروقی نے بتایا کہ دونوں مشکوک زخمیوں کے بعد انھوں نے اس دن شہر میں ہونے والے پولیس مقابلوں کے حوالے سے معلومات کرائیں، پتہ چلا کہ فیروز آباد میں بھی ایک مقابلہ ہوا تھا جس پر انھوں نے ایس ایچ او فیروز آباد سے رابطہ کیا اور زخمیوں کے بارے میں بتایا جس پر تمام واقعے کی کڑیاں آپس میں ملائی گئیں تو زخمی ہونے والے دونوں افراد مبینہ طور پر ڈاکو نکلے جس پر فیروز آباد انویسٹی گیشن پولیس نے اسٹیڈیم روڈ اور گلشن اقبال راشد منہاس روڈ پر واقع نجی اسپتالوں سے محمد علی اور عظیم کو اپنی حراست میں لے لیا ہے ، پولیس کا کہنا ہے کہ ان پر مختلف بااثر شخصیات کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاہم پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔