عدلیہ کیخلاف مظاہرے پر4 سرکاری وکلا کے لائسنس معطل

کسی عدالت میں پیش ہونے کی صورت میں سزا کا سامنا کرنا پڑیگا،سندھ بارکونسل


Staff Reporter January 20, 2013
کسی عدالت میں پیش ہونے کی صورت میں سزا کا سامنا کرنا پڑیگا،سندھ بارکونسل. فوٹوـ آن لائن

سندھ بارکونسل نے 4 سرکاری جوڈیشل افسران کے لائسنس معطل کرتے ہوئے انہیں اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

جن سرکاری وکلا کے لائسنس معطل کیے گئے ہیں ان میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ظفر احمد صدیقی ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نفیس احمد عثمانی ،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل قاضی محمد بشیر اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی عبدالصمد بلوچ ایڈووکیٹ شامل ہیں، ان سرکاری وکلا پر الزام ہے کہ انھوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے رینٹل پاور کیس میں وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی گرفتاری کے حکم کے خلاف 16جنوری کو سٹی کورٹ میں مظاہرہ کیا تھا، جس میں عدلیہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیخلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی تھی۔

سندھ بارکونسل کے وائس چیئرمین غلام محمد عباسی کی جانب سے جاری کیے گئے اظہار وجوہ نوٹس میں کہا گیاہے مذکورہ بالا وکلا نے پیپلز لائرز فورم کے بینر تلے مظاہرے میں ملزم وزیراعظم کی حمایت اور عدلیہ کے خلاف نعرے بازی کی ،اس لیے وضاحت کریں کہ کیوں نہ آپ کے خلاف سرکاری ملازم ہوتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف نازیبا نعرے بازی کے الزام میں تادیبی کارروائی کی جائے۔

7

بارکونسل نے ان وکلا کوکسی بھی عدالت میں پیش ہونے سے فوری طورپر روکتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ اگر وہ اس نوٹس کے اجرا کے بعد کسی عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے خلاف لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بارکونسل ایکٹ 1973کی دفعہ 58(2)کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سزا دی جائے گی ، واضح رہے کہ پیپلزلائرز فورم نے اسی روز ان افسران کے رویے سے لاتعلقی کا اظہا رکرتے ہوئے اسے سرکاری ملازمین کی جانب سے عدلیہ اور حکومت میں تصادم کرانے کی سازش قراردیا تھا۔