کرپشن سیاست اور اقتدار کا ملاپ
پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی کرپشن میں اضافہ ہوا
URI:
''دولت کے ہر ذخیرے کے پیچھے جرم کی ایک داستان ہوتی ہے''۔ اطالوی ناول گاڈ فادر سے یہ ماخوذ جملہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاناما کیس میں اختلافی نوٹ کے آغاز پر لکھ کر ملک میں کرپشن اور سیاست کے ملاپ کو عریاں کردیا۔ سپریم کورٹ کے تین ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار نہ دے کر پارلیمنٹ کا وزیراعظم پر عدم اعتماد کا استحقاق برقرار رکھا مگر سول اور عسکری اداروں پر مشتمل افسران کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (J.I.T) کے حوالے کرکے وزیراعظم کے غیر شفاف ہونے کا فیصلہ دے دیا۔ وزیراعظم نواز شریف کی پاناما لیکس کے تناظر میں مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔
عمران خان تو پاناما لیکس کے حوالے سے ہمیشہ میاں نواز شریف کے استعفیٰ کے متمنی تھے اور اب سابق صدر آصف علی زرداری بھی پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دوڑ میں شامل ہوگئے۔ یہ اور بات ہے کہ پاناما لیکس میں ان کی مرحوم اہلیہ بے نظیر بھٹو اور قریبی معاون رحمن ملک کے نام بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین کے خلاف الزامات کو اہم قرار دیتے ہوئے ان کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا، عمران خان اور آصف علی زرداری یہ بات بار بار دہرا رہے ہیں کہ اب میاں نواز شریف گریڈ 19 کے افسروں کے سامنے صفائی دینے پر مجبور ہوں گے۔
پاکستان میں حکیم سعید قتل کیس، امجد صابری قتل کیس، بلدیہ ٹاؤن کیس اور عزیر بلوچ کیس وغیرہ کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں بنائی جاتی رہی ہیں مگر ملک کے کسی وزیراعظم اور ان کے صاحبزادوں کو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم بے مثال ہے۔ میاں نواز شریف کی حمایت میں پیش کیے جانے والے قطر کے شہزادے کے مؤقف کو تسلیم نہ کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم ترین ہے ۔یہ سوال اہم ترین ہے کہ میاں نواز شریف کو اپنے دفاع کے لیے بہت مضبوط ثبوت لانے ہوں گے۔ اگر یہ ثبوت کمزور ہوئے تو معاملہ بگڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی کرپشن میں اضافہ ہوا۔ جناح صاحب نے اپنی 11 اگست 1947 کی بنیادی تقریر میں کرپشن سے خبردار کیا مگر سوائے سویلین سیاستدانوں اور سرکاری افسروں کے دیگر فیصلہ ساز گروہوں کا احتساب نہیں ہوا۔ احتساب کے طریقے موثر نہ ہونے کی بنا پر کرپشن بڑھتی چلی گئی۔ سیاستدانوں نے کرپشن کے لیے نچلے درجے کے طریقے استعمال کیے اور دیگر بااختیار گروہوں نے محفوظ طریقوں کو استعمال کیا۔ پہلے اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا کا بیانیہ یہ بنا کہ سیاستدان مکمل طور پر بدعنوان ہوتے ہیں، اس نے عوام کی اکثریت کے ذہنوں کو تبدیل کردیا۔ وہ ہر برائی کے پیچھے سیاستدانوں کو دیکھنے لگے۔ 1988 سے 1999 تک بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کی حکومتیں بدعنوانی کے الزامات کی بنا پر برطرف ہوئیں اور یہ حکومتیں اپنی آئینی مدتیں پوری نہیں کرپائیں۔ مگر مخالف حکومتیں ان حکومتوں پر لگائے جانے والے الزامات کو عدالتوں میں ثابت نہ کرسکیں۔
عدالتوں نے ہمیشہ مسلم لیگ اور میاں نواز شریف کے ساتھ خصوصی سلوک کیا۔ ان کے خلاف مقدمات کے فیصلے نہیں ہوئے اور پھر جن الزامات کی بنا پر بے نظیر حکومت کی برطرفی کو جائز قرار دیا گیا، ان ہی الزامات کے باوجود میاں صاحب کی حکومت کے بحال کیا گیا۔ نواز شریف کی دوسری حکومت میں اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس سجاد علی شاہ نے میاں نواز شریف کے خلاف سخت موقف اختیارکیا تو باقی ججوں نے انھیں معزول کردیا ۔ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے دو ججوں نے واضح طور پر لکھ دیا کہ میاں نواز شریف پر مالیاتی بدعنوانی کے الزامات درست ہیں اور انھیں نااہل ہوجانا چاہیے۔ تین معزز ججوں نے میاں نواز شریف کی بیٹی مریم کو بدعنوانی کے الزامات سے بری قرار دیا، مگر میاں نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے بارے میں مزید تحقیقات کا حکم دیا اور جے آئی ٹی کو 60 دن میں رپورٹ دینے کا پابند کیا۔ یوں ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی میں ایف آئی اے، نیب، ایس ای سی پی اور عسکری خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ارکان کو شامل کیا۔ ایف آئی اے، نیب اور ایس ای سی پی کے عملے کو وائٹ کارلر جرائم کی تحقیقات کا وسیع تجربہ ہے۔ ان اداروں میں اکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ اور قانونی ماہرین موجود ہیں، مگر آئی ایس آئی اور ایم آئی کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے۔
کچھ ناقدین کہتے ہیں کہ سول افسروں کے سامنے میاں نواز شریف کی پیشی کے حقیقت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ ہمارے ہاں بیوروکریسی اتنی زیادہ طاقتور نہیں ہوئی کہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کا احتساب کرسکے۔ اس بنا پر عسکری تنظیموں کے نمائندوں کی اس جے آئی ٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوج سے تعلق رکھنے والے افسروں کی بنا پر باقی افسران آزادی سے اپنے فرائض دے سکیں گے اور اس جے آئی ٹی پر دباؤ ڈالنا مشکل ہوگا۔ مگر کچھ ناقدین یہ کہتے ہیں کہ ان عسکری ایجنسیوں کا دائرہ کار مختلف ہے، مگر بیرسٹر اعتزاز احسن جے آئی ٹی کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے بجائے عدالتی کمیشن بنایا جاتا تو وہ بہت زیادہ مفید ثابت ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی کمیشن میں وکلا جا کر میاں نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں سے جرح کرسکتے تھے، یوں بہت سے وہ حقائق سامنے آتے جو اب تک چھپے ہوئے ہیں۔
مگر وزیراعظم کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ نہ ملنے پر حزب اختلاف کو وزیراعظم کے خلاف تحریک چلانے کا موقع مل گیا۔ اب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مستعفی نہ ہونے پر وزیراعظم کے خلاف تحریک کے اعلان کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی بھی اپنی مجلس عاملہ سے اسی طرح کی قرارداد منظور کرانے کی کوشش کریں گے۔ عمران خان کسی صورت آصف زرداری کو کرپٹ سیاستدانوں کی فہرست سے نکالنے کو تیار نہیں۔ آصف زرداری انھیں ناتجربہ کار سیاست دان قرا ر دے رہے ہیں۔ اس صورت میں کوئی مشترکہ تحریک کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ چکوال کے علاقے تلہ کنگ سے تعلق رکھنے والے سابق فوجی افسر، دانشور اور نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملک کہتے ہیں کہ پانچووں ججوں کا یہ تاریخی فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے مستقبل پر فرق پڑے گا اور جمہوری ادارے مستحکم ہونگے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیتا تو جمہوری وزیراعظم کو عدالت کے فیصلے سے ہٹانے کی بری روایت مضبوط ہوتی اور اس کے ایسے ہی منفی نتائج برآمد ہوتے جیسے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے سے ہوئے تھے۔ اس بنا پر سپریم کورٹ کا فیصلہ مناسب ہے۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ گزشتہ حکومت کے دور میں میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کے ذریعے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دلوا کے ایک بری مثال قائم کی تھی۔ ایوب ملک کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچوں ججوں نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے جمہوریت مستحکم ہوگی اور عدالت اور پارلیمنٹ کا تمام اداروں پر بالادستی کا تصور مستحکم ہوگا۔ جسٹس کھوسہ نے سیاستدانوں کے تناظر میں گاڈ فادر کا حوالہ دیا ہے۔ گاڈ فادر اور دولت کا تصور سول اور عسکری بیوروکریسی یا ہر شعبے میں ہے۔ کاش جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے بارے میں بھی عدالت ایسے فیصلے دے۔ اسی طرح کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوگا۔