سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ شہریوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

ممتاز دلدار کے آئی بی کی تحویل میں ہونے کا علم ہوا ہے، درخواست...


Staff Reporter July 31, 2012
ممتاز دلدار کے آئی بی کی تحویل میں ہونے کا علم ہوا ہے، درخواست گزارفوٹو ایکسپریس

KARACHI: سندھ ہائیکورٹ نے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی تحویل میں شہری سے متعلق حکومت سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ طلب کرلی ہے، درخواست گزار مسماۃ نصرت دلدار نے آئینی درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ اس کا بھائی ممتاز دلدار گزشتہ سال 22 اپریل کو قریبی مسجد میںنماز کی ادائیگی کیلیے گیا تھا لیکن واپس نہیں آیا،

درخواست گزارکے مطابق اس کے علم میں آیا ہے کہ اسے سی آئی ڈی نے کسی معاملے میں تفتیش کیلیے حراست میں لیا تھا لیکن بعد میں انٹلی جنس بیورو کے حوالے کردیا، درخواست گزار نے اپنے بھائی کی زندگی کو خطرے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ اس کے بھائی کا کسی سیاسی و مذہبی تنظیم یا ان کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا،مدعا علیہان کو ہدایت کی جائے کہ وہ درخواست گزار کے بھائی کو اس عدالت میںپیش کریں تاکہ کسی مقدمے میں ملوث نہ ہونے کی صورت میں اسے رہا کیا جاسکے ،

اس سے قبل سی آئی ڈی نے عدالت میں درخواست گزار کے بھائی کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ،جبکہ ہوم ڈپارٹمنٹ نے بھی موقف اختیار کیا کہ تمام صوبائی قانون نافذ کرنیوالے اداروںکو نظربند کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے اور اس سلسلے میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے،فاضل بینچ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ 6 اگست تک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ عدالت میں پیش کردے ،

اسی عدالت نے وہاج احمد کی بازیابی سے متعلق اس کی والدہ کی درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ ، ایس ایچ او بریگیڈ اور دیگر کو نوٹس جاری کردیے ہیں ، لائنز ایریا کی رہائشی درخواست گزار حمنہ کے مطابق اس کا بیٹا وہاج احمد 8جولائی کو آرمی انجینئرنگ ورکشاپ میں کام کرنیوالے محمد اصغر کے ہمراہ گیاتھا لیکن واپس نہیں آیا ، درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسکے بیٹے کو محمد اصغر نے اغوا کیا ہے لیکن رابطہ کرنے کے باوجود پولیس اس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مدعا علیہان کو ہدایت کی جائے کہ اسکے بیٹے کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔