قرضہ ادائیگی کا حل
صرف ’’سود‘‘ … اصل زر تو ویسے کا ویسا تلوار کی طرح سر پر لٹک رہا ہے
مبارک ہو یہ مژدہ جان فزا سن کر آپ کو اس سے زیادہ خوشی ہو گی جتنی حلوائیوں کو پانامہ کا فیصلہ آنے پر ہوئی کہ ہماری کمپنی نے اپنی پہلی پراڈکٹ یا پراجیکٹ ''تحقیق'' کی بے پناہ کامیابی پر ایک اور نئے پراڈکٹ کو بازار میں لانچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہماری تحقیق کی کامیابی کا اندازہ آپ اس سے لگایئے کہ اب راہ چلتے لوگ بھی ہمیں کسی نہ کسی ''تحقیق'' کے لیے ہائر کرنے لگے ہیں خاص طور پر جب سے ہم نے عمران خان کے سب سے ''بڑے دشمن'' اور میاں نواز شریف کے سب سے بڑے ''دوست'' کاپتہ لگایا ہے تب سے تو ہمیں توقع ہونے لگی ہے کہ اب وہ منزل دور نہیں جب لوگ ہمیں ڈاکٹر پروفیسر علامہ محقق کا خطاب دے ڈالیں گے، ہم نہ سہی مگر ہماری تحقیق کا ''ٹٹو'' تو اس خطاب کو ''ڈیزرو'' کرتا ہے۔
اس پراجیکٹ کی کامیابی پر ہم نے جس دوسرے پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے وہ ''مشورہ بازی''ہے، مشورہ بازی کا کام اگرچہ ہم ''بے قاعدہ'' طور پر ایک عرصے سے کر رہے ہیں بلکہ پاکستان میں ''مشورہ بازی'' ایک قومی پراڈکٹ کا درجہ رکھتا ہے کیوں کہ پاکستان کے انیس یا بیس کروڑ عوام میں سے کم از کم پچیس یا چھبیس کروڑ عوام یہی کر رہے ہیں لیکن بے قاعدہ اور غیر سائنسی بنیادوں پر ہونے کی وجہ سے اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے اور یہی اس واحد پاکستانی انڈسٹری کی ناکامیابی کی وجہ ہے۔
چنانچہ ہم نے اب اسے ایک باقاعدہ سائنسی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ صرف ''کرنے والا'' چاہیے ورنہ پاکستان کی مٹی اتنی ''زرخیز''ہے اور ''مواقع'' اتنے وافر ہیں کہ اگر کوئی چاہیے تو ''جیب تراشی'' کو بھی باقاعدہ انڈسٹری کی صورت دے سکتا ہے بلکہ دے چکے ہیں لیکن دوسرے ناموں اور ٹائٹلوں سے ... سو ہم نے تحقیق کی بے پناہ کامیابی کے بعد اب مشورہ بازی کا دھندہ چالو کر دیا ہے۔
آپ سے کیا پردہ، اس دھندے میں آگے ''زرخیزی'' کا وہ مقام بھی آتا ہے جب بندے کو ''مشیر'' کا سرکاری ٹائٹل مل جاتا ہے جو تقریباً تمام ''زرخیزیوں'' کی ماں ہے ہم بھی اس ''شجر'' سے پیوستہ رہ کر یہ ''امید بہار'' رکھ سکتے ہیں کہ کسی دن کسی صدر کسی وزیراعظم یا کسی وزیراعلیٰ وغیرہ کے مشیر بن جائیں حالانکہ ان مشیروں کے بارے میں ہمیں پتہ ہے ... وہ ایک فلم کا منظر یاد آیا ایک شوہر بیوی سے کہتا ہے میری بات سنو، اس پر بیوی کہتی ہے اس سے پہلے میں نے کبھی تیری کوئی بات سنی ہے؟ شوہر کہتا ہے نہیں؟ ... تو بیوی کہتی ہے تو پھر کیوں فضول میں اپنی زبان تھکا رہے ہو۔
خیر تمہیدی باتیں بہت ہو گئی ہیں اب سیدھے پوائنٹ پر آتے ہیں اور اس سب سے بڑے مسئلے پر اپنا زرین مشورہ لانچ کر رہے ہیں جو اس وقت سوائے لیڈروں، وزیروں اور سرکاری افسروں کے سب کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہے، خاص طور پر انیس کروڑ عوام تو دن میں انتیس بار سوچتے ہیں کہ تیرا کیا بنے گا کالیا ... یہ مسئلہ اس قرضے کا ہے جو اس وقت پاکستان کے اوپر چڑھا ہوا ہے غالباً کچھ لگ بھگ ساڑھے تیس کھرب کا قرضہ ہو گا جو پاکستان کے گینگسٹر لے چکے ہیں اور ''نیک کاموں'' پر خرچ کر چکے ہیں اور جس کا سود انتیس کروڑ عوام اپنی چمڑی حکومت سے بلوں، ٹیکسوں اور دیگر چھریوں سے ادھڑوا کر ادا کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ صرف ''سود'' ... اصل زر تو ویسے کا ویسا تلوار کی طرح سر پر لٹک رہا ہے، اخبارات میں کچھ ماہرین ریاضیات نے حساب لگایا کہ اس وقت یہ ''انیس کروڑ'' کالانعام فی ''راس'' ایک لاکھ پندرہ یا تیس ہزار روپے کے مقروض ہیں، ہمارے گاؤں کے ایک سادہ دل بیوی گزیدہ شخص کو جب پتہ چلا کہ میرے سر پر ایک لاکھ تیس ہزار کا قرضہ چڑھا ہوا ہے تو وہ پتے کی طرح کانپنے لگا بولا اگر اس بات کا پتہ میری بیوی کو چل گیا کہ میں اتنے روپے کا مقروض ہوں تو وہ سیدھے سیدھے چھترول پر اتر آئے گی کہ بتا اتنا قرضہ لے کر کس کلموہی پر خرچ کر چکے ہو۔
ہم نے اسے کافی دیر میں سمجھایا کہ یہ قرضہ صرف میرے اوپر نہیں بلکہ اس چھترول والی کے اوپر بھی ہے اور اس نامعلوم کلموہی کے اوپر ہے، یہ چیچک کے دانے ہیں ... پرانے زمانے میں مشہور تھا کہ چیچک ہر کسی کو نکلے گی اگر کسی کو اس زندگی میں نہیں نکلی تو قبر میں اس کی ہڈیوں کو چیچک نکلے گی، اب آپ بتائیں اس قرضے کا کوئی حل آپ کے پاس ہے کہ جن کو ایک وقت کی روٹی میسر نہیں وہ ایک لاکھ تیس ہزار روپے کہاں سے لائے گا۔
اگر آپ ان کی توقع پر ہیں جو یہ قرضے لے کر اس سرنگ میں ڈال چکے ہیں جس کا منہ سیدھا سوئٹزر لینڈ اور دبئی میں جا کھلتا ہے تو خاصر جمع رکھئے ... وہ صرف مسائل پیدا کنے کے ماہر ہیں حل کرنے کے نہیں، اب ایسے حالات میں سوائے ہمارے کون ہے جو اس گھمبیر صورتحال میں آپ کی دستگیری کرے اور صحیح مشورہ دے، لیکن ہم آپ خود پکار اٹھیں گے کہ ایں کاراز تو آئیدو مردان چنیں کنند ... سو حل حاضر ہے، ھوالشافی... یہ تو طے ہے کہ قرضہ معاف ہونے والا نہیں ہے یعنی ہمیں ہر حال میں ادا کرنا ضرور ہے اب اس کا صرف ایک اپائے ہے کہ قرضہ کم کیا جائے اور کم کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ قرضہ دار بڑھا دیے جائیں مثلاً اب راس قرضہ ایک لاکھ۔
چلیے ایک لاکھ بیس ہزار فرض کریں لیکن اگر افراد دگنے ہو جائیں تو فی راس ساٹھ ہزار پڑے گا اور اگر چوگنے ہو جائیں تو تیس بتیس ہزار اور اگر آٹھ گنا ہو گئے تو؟ تو مطلب یہ کہ مسئلہ حل ویسے بھی حکومت نے لوڈ شیڈنگ کا وقفہ بڑھایا ہوا ہے اس لیے خاندانی منصوبہ بندی کی ایسی کی تیسی کر کے منا بھائی بن جایئے چند ہی سال میں آپ دیکھ لیں گے کہ قرضہ فی راس ایک لاکھ بیس ہزار سے دس پندرہ ہزار رہ گیا ہے، سیدھا سادا حل ہے لگ پڑیئے۔