اساتذہ کی بھرتیاں تحریری ٹیسٹ افسران کی کمائی کا ذریعہ بن گئے

افسران کی مداخلت جاری، تحریری ٹیسٹ کیلیے آنے والے خواتین اورمرد امیدواروں سے شرکت کے عوض 5ہزار روپے لیے جانے لگے.


Staff Reporter January 21, 2013
رقم نہ دینے پرشرکت سے روک دیاجاتاہے، محکمہ تعلیم نے ٹیسٹ کے موقع پر عملے کو امتحانی مراکز سے دور رکھنے کا اعلان کیاتھا. فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ محکمہ کے افسران کی کمائی کاذریعہ بن گئے۔

محکمہ تعلیم کے واضح اعلانات کے باوجوداسکول اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس کی جانب سے جاری تحریری ٹیسٹ میں محکمہ کے افسران کی مداخلت کاسلسلہ جاری ہے اور بعض امتحانی مراکز پرمحکمہ تعلیم کے افسران نے ٹیسٹ دینے کیلیے آنے والے خواتین اورمرد امیدواروں سے ان کی شرکت کے عوض رقم لینا شروع کردی ہے،رقم دینے سے انکار کرنے والے امیدواروں کوان کے ایڈمٹ کارڈز پرمختلف طرح کے اعتراضات لگاکر شرکت سے روک دیاجاتا ہے جبکہ این ٹی ایس کے نمائندے بھی اس صورتحال سے واقف ہونے کے باوجود بے بس نظرآتے ہیں۔

یاد رہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم نے اسکول اساتذہ کی بھرتیوں کے سلسلے میں تحریری ٹیسٹ کے موقع پر اپنے عملے کوامتحانی مراکز سے دوررکھنے کااعلان کیاتھاتاہم صوبائی محکمہ تعلیم کے ذیلی ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ کے ڈپٹی پروگرام منیجر ضمیرکھوسونے تحریری ٹیسٹ میں این جے وی اسکول میں قائم امتحانی مرکزپرڈیڑے ڈال لیے ہیں ، امیدواروں کاایڈمٹ کارڈ ،شناختی کارڈ،پی آرسی ،ڈومیسائل اوردیگردستاویزات کی جانچ کابہانہ کرکے انھیں روکاجاتاہے جس کے بعد امیدواروں کے ایڈمٹ کارڈ اور دیگر دستاویزات میںبے جااعتراضات لگاکران سے رقم طلب کی جاتی ہے۔

3

ضمیر کھوسوکھلے عام خواتین اور مرد امیدواروں سے 5 ہزار روپے طلب کرتے ہیں اور مطلوبہ رقم میں کمی بیشی کرنے کے بعدنذرانہ لے کرامیدواروں کوٹیسٹ میں شرکت کی اجازت دیدی جاتی ہے، ایک امیدوارنے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ضمیر کھوسوکاکہناہے کہ یہ رقم وہ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنیاعلیٰ افسران کے لیے لے رہے ہیں اورانھیں خوش رکھنے اورخود کوتبادلے سے بچانے کے لیے افسران کورقم پہنچانی ہوتی ہے جس کے لیے ایساکرناپڑرہاہے، امیدواروں نے صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوسے مطالبہ کیاہے کہ محکمہ تعلیم میں موجود ان کرپٹ افسران سے ان کی جان چھڑائی جائے، ان سے لی گئی رقم واپس کروائی جائے اورضمیرکھوسوکے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے،''ایکسپریس''نے اس سلسلے میں ریفارم سپورٹ یونٹ کے افسرضمیرکھوسوسے بھی رابطہ کیاتاہم انھوں نے متعلقہ معاملہ پربات کرنے کے بجائے فون بند کردیا۔