سیاسی حمام

جمہوریت میں کسی کو تخت تو دیا جاتا ہے لیکن تخت دینے سے پہلے اس کے تمام ناخن کاٹ دئے جاتے ہیں۔


مزمل سہروردی April 29, 2017
[email protected]

پاکستان الزام تراشیوں کی سیاست کی جنت ہے۔ یہاں سیاسی حریفوں کا ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا اور پھر انھیں ثابت نہ کرنا عام ہے ، اس کی کوئی سزا نہیں ہے، بلکہ پذیرآئی ملتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان کوئی پہلے سیاستدان ہیں جنہوں نے پاکستان کی سیاست میں الزام تراشیوں کا سہارا لیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو گندا کرنے کے لیے اکثر جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔

خود میاں نواز شریف اور ان کی جماعت بھی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے۔ دینی جماعتیں بھی اس حمام میں ننگی ہیں۔ اور وہ کوئی ایسی مثال نہیں ہیں کہ کہا جا سکے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں انھوں نے خود کو صاف رکھا ہوا ہے۔ سیاسی گند کے چھینٹے کافی حد تک ان کے دامن پر بھی نظر آتے ہیں۔

قطع نظر اس کے کہ عمران خان کا الزام سچا ہے یا جھوٹا۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ عمران خان یہ الزام کیسے لگارہے ہیں حالانکہ انھیں اس کا ثبوت پیش کرنا چاہیے' ویسے بھی ان کی اپنی جماعت میں اسے ہی برتری حاصل ہے جس کے پاس پیسہ ہے۔میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ عمران خان کوئی برے اور میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی مثالی شخصیات ہیں۔ دونوں ہی اس حمام میں ننگے ہیں۔ اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن عمران خان نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان آج بھی چھوٹی اور بڑی برائی کا مقابلہ ہے۔ کوئی بھی آئیڈیل نہیں ہے۔ سب ہی ننگے ہیں۔ یہ اپنے اپنے دیکھنے کا کمال ہے کسی کوکوئی کم اور کسی کو کوئی زیادہ ننگا نظرآتا ہے۔مجھے ایک کم ننگا اور آپ کو دوسرا زیادہ ننگا نظر آتا ہے۔

آپ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ عمران خان نے ملک کے نئے سیاسی رحجانات میں الزام تراشی اور بدتمیزی کی سیاست کو مزید ہوا دی' گو مسلم لیگ ن بھی اس معاملے میں کم نہیں لیکن تحریک انصاف اس سے بھی آگے نکل گئے۔ عمران خان کے مخالفین کو ان کے لہجہ اور الفاظ کے چناؤ پر اعتراض رہتا ہے۔

عمران خان کی اس جارحانہ حکمت عملی نے اب تک ان کو بہترین نتائج دیے ہیں۔ وہ اوے توئے کی سیاست میں کامیاب ہو ئے ہیں۔ انھوں نے بلا شبہ اپنا ایک رعب جما لیا ہے۔ یہ رعب دبدبہ کتنا جعلی اور اصلی ہے وہ الگ بات ہے لیکن عمران خان کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔

عمران خان کی سیاست کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو انھوں نے اب تک بہت سے الزامات لگائے ہیں۔ جن کے لیے انھیں بعد میں ثابت کرنا مشکل ہو گیا۔ دھاندلی والے ڈرامہ میں 35 پنکچر اور افتخار چوہدری پر الزامات ایسے تھے جن کو بعد میں عمران خان ثابت نہیں کر سکے۔ اس ملک میں الزام لگانا کوئی جرم نہیں ہے۔ ہمارے نظام انصاف میں الزام لگانے والوں کو پکڑنے کی طاقت نہیں ہے۔

یہاں تو لوگ عدالتوں میں جھوٹے دعویٰ کرتے ہیں۔ مخالفین پر جھوٹے پرچہ درج کراتے ہیں لیکن ان کی کوئی پکڑ نہیںہے۔ اگر پاکستان کی عدالتیں جھوٹ بولنے پر سخت سزائیں دینا شروع کر دیں تو نہ صرف عدالتوں سے جھوٹے مقدمات کی بھر مار ختم ہو جائے۔

یہ درست ہے کہ عمران خان صرف جھوٹ بولنے پر میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دلوانا چاہتے تھے۔ ان کا سارا مقدمہ ہی یہ تھا کہ وزیر اعظم نے یا تو پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا ہے۔ یا عدالت میں جھوٹ بولا ہے۔ لیکن عمران خان دوسری طرف خود بھی سیاسی برتری اور پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پانامہ کیس سے پیچھے ہٹنے کے لیے جہاں تک الزامات کی حقیقت کا تعلق ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ عمران خان اور نواز شریف کے درمیان تخت اور تختہ کی لڑائی ہے۔ اس میں مفاہمت کی کوئی گنجائش نہیں۔ سب کو پتہ ہے وزارت عظمیٰ سے کم تو عمران خان کو بہت دفعہ پیشکش ہو چکی ہے۔ لیکن وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ اس لیے ان میں اور میاں نواز شریف کے درمیان مفاہمت نہیں ہو سکتی۔

عمران خان کا حالیہ الزام ایک سوچی سمجھی سیاسی چال لگتی ہے تا کہ عوامی رائے عامہ یہ بنائی جا سکے کہ جو بھی میاں نواز شریف کے ساتھ جائے گا۔ اس کو پیسے ملے ہونگے۔ یہ وہی کام ہے جو خود میاں نواز شریف نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے ساتھ کیا تھا۔ اور آصف زرداری نے بھی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ میاں نواز شریف نے آصف زرداری کو ٹین پرسنٹ کا خطاب دیا تھا۔ جواب میں آصف زرداری کچھ نہ کر سکے۔ عمران خان صرف میاں نواز شریف کو ہی نہیں بلکہ ان کے ہر حمائتی کو بھی نشانہ پر رکھ رہے ہیں۔

میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ جمہوریت اور آمریت میں ایک ہی فرق ہے۔ جمہوریت میں کسی کو تخت تو دیا جاتا ہے لیکن تخت دینے سے پہلے اس کے تمام ناخن کاٹ دئے جاتے ہیں۔ وہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔وہ اپنے اوپر حملہ کرنیو الوں کو بھی جواب نہیں دے سکتا۔ جب کہ آمریت میں حاکم کے ناخن ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کو نہ صرف بھر پور جواب دے سکتا ہے بلکہ بوقت ضرورت اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ویسے بھی حملہ کر دیتا ہے۔ تاہم جمہوریت میں تو اپنی جان بچانے کے لیے حملہ کیا دفاع کرنے کی بھی اجازت نہیں ہو تی۔

اسی لیے جمہوری حکمرانوں پر ترس ہی آتا ہے۔ جہاں جہاں جمہوریت مضبوط ہو گئی ہے جمہوری حکمرانوں نے اپنی جان بچانے کے لیے استعفیٰ دینے کا گن سیکھ لیا ہے۔ لیکن پاکستان میں ابھی یہ سمجھ نہیں آئی ہے۔ اسی لیے سیاسی جماعتوں میں آمریت نظر آتی ہے۔

مقبول خبریں