کچرا ٹھکانےلگانے کا نظام تجربات کی بھینٹ چڑھایا گیا سجن یونین

کچرے سے بجلی پیدا کرنے کی یاداشت پرملازمین کو اعتماد میں لیے بغیر دستخط ہوئے.


Staff Reporter January 21, 2013
کچرے سے بجلی پیدا کرنے کی یاداشت پرملازمین کو اعتماد میں لیے بغیر دستخط ہوئے. فوٹو: فائل

سجن یونین(سی بی اے ) کے ایم سی کے مرکزی صدر سید ذوالفقار شاہ نے کہا ہے کہ 1988 سے مسلسل شہرکا کچرہ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے نظام کو تجربات کی نظر کیا جارہا ہے۔

آج تک ہونے والے ٹھیکوں پر کروڑوں روپے ضائع کرکے اداروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، کراچی کے پرائیویٹ گاربیج کنٹریکٹرز، چائنا کی شنگھائی کمپنی، ملائشیا کی ابا بین کمپنی اور اب برطانوی کک کمپنی سے کچرے کو سائنسی بنیادوں پر اٹھاکر بجلی پیدا کرنے کی یاداشت پر ملازمین کو اعتماد میں لیے بغیرگورنر ہائوس میں ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کی موجودگی میں دستخط کردیے گئے ہیں، وہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ایم سی اور مختلف ٹائونز گاربیج کلیکشن اسٹاف سے بات چیت کررہے تھے۔

8

انھوں نے کہا کہ آج تک شہر میں پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکا، مختلف سروے کے مطابق شہر میں 7800ٹن سے 12ہزار ٹن تک کچرہ پیدا ہورہا ہے اور اگر شہر کے دونوں ڈمپنگ گرائونڈز میں پہنچائے جانے والے کچرے کا وزن کیا جائے تو بمشکل 6500 ٹن کچرہ وہاں پہنچتا ہے، بقایا کچرہ کہا ں جاتا ہے کسی کو علم نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ گاربیج لفٹنگ ڈرائیوروں کو ڈمپنگ گرائونڈ تک کچرہ پہنچانے کے لیے مطلوبہ ڈیزل فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔