من وگرز و میدان و افراسیاب

ہمیں تو کچھ ایسا لگا ہے اور لگ رہا ہے کہ یہ پانامے کا پاجامہ کچھ کچھ ’’شاہنامہ‘‘ سا بنتا جارہا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq May 05, 2017
[email protected]

ہمیں تو کچھ ایسا لگا ہے اور لگ رہا ہے کہ یہ پانامے کا پاجامہ کچھ کچھ ''شاہنامہ'' سا بنتا جارہا ہے، وہ شاہنامہ نہیں جو حفیظ جالندھری نے لکھا تھا بلکہ مشہور عالم شاہنامہ جو فردوسی نے لکھا تھا اور محمود غزنوی کو پیش کیا تھا۔ ادبی شعری اور تاریخی طور پر تو یہ پانامے کا شاہنامہ ... شاہنامے زیادہ پاجامے سے مشابہت رکھتا ہے کیوں کہ بزرگوں کا خیال تھا کہ ''بیکار'' یعنی فارغ آدمی شیطان کا بھائی ہوتا ہے، یہ قول زرین پشتو کا ہے کہ

وزگار سڑے د شیطان رور وی

اس لیے بزرگوں نے اپنی اولادوں کو شیطان کے بھائی چارے سے بچانے کی خاطر تجویز کیا تھا کہ

بیکار مباش کچھ کیا کر

پجامہ ادھیڑ کر سیا کر

لیکن بے چارے یہ وضاحت بھول گئے کہ پجامے کا یہ ادھیڑ پن کا شغل جس پاجامے کے ساتھ کیا جائے وہ کس کا ہو یا ہونا چاہیے، اپنا پہنا ہوا پاجامہ اگر کوئی ادھیڑنے اور سینے لگے تو یہ کوئی معقول بات تو ہے ہی ... بلکہ شرافت اور صحیح الدماغی کا کام بھی نہیں ہے اس لیے لوگوں نے خود بخود یہ نتیجہ نکال لیا کہ بیکاری کو باکار بنانے اور شیطان کے بھائی چارے سے بچنے کے لیے ''پاجامہ'' کسی اور کا ہونا چاہیے اور سیاسی لیڈروں کو تو آپ جانتے ہیں کہ بیکار بیٹھنا تو ان کو آتا ہی نہیں اور خاص طور پر جب بیٹھنے کے لیے ''کرسی'' بھی نہ ہو، چنانچہ پانامے کے اس پاجامے پر مصروف ہوئے۔

بزرگوں کا کہا تو انھوں نے مان لیا ہے لیکن بزرگ یہ وضاحت کرنا بھی بھول گئے کہ آخر ایک پاجامے کو کتنا سیا اور کتنا ادھیڑا جائے، اس لیے پانامے کا پاجامہ بہت زیادہ ادھیڑنے سینے کی وجہ سے فردوسی کے شاہنامے جیسا بنتا جارہا ہے، ویسے تو فردوسی کے شاہنامے میں بہت کچھ ہے لیکن دو باتیں اس میں ایسی ہیں جو اس پانامے کے پاجامے یا شاہنامے پر منطبق ہوتی ہیں، ایک تو وہ مشہور و معروف شعر تو جیسے ہمارے لیے ہی کہا گیا

پئے مشورہ مجلس آراستند

نشستند و گفتند و برخواستند

مشورے کے لیے ''مجلس'' بنائی، بیٹھے، بولے اور اٹھ گئے۔ لیکن اس زمانے میں معاملات کچھ مختصر ہوتے ہوں گے اس لیے ''نشستند و گفتند و برخواستند'' میں بات ختم ہو جاتی تھی جب کہ یہاں اکثر معاملات طویل ہو جاتے ہیں اس لیے ان میں ایک اور آئٹم کا اضافہ خودبخود ہو گیا ہے کہ

نشستند و گفتند و خوردند و برخواستند

یعنی بیٹھے بولے کھایا پیا اور اٹھ گئے اور جب کھانے پینے یا خوردند پر اپنا کچھ خرچ بھی نہ ہو رہا ہو، کالانعام ہیں نا، بجلی، گیس یا پٹرولیم میں یہ خرچہ بھی ڈال دیں گے اونٹ پر چھلنی کے اضافے سے فرق بھی کیا پڑتا ہے، اور اس میں تو ''خوردند'' کا مرحلہ ایک اور بھی آگیا کہ دونوں فریقوں نے خوب خوب مٹھائیاں کھائیں اور کھلوائیں،کم از کم حلوائیوں کو تو کہنا چاہیے کہ پانامے کا پاجامہ زندہ باد، لیکن پانامہ تو اب پاجامے کے بجائے شاہنامہ ہے اس لیے اس کا دوسرا اور خاص الخاص شعر بھی لاگو ہونا ضروری ہے۔

یہ خاص الخاص شعر اصل میں ''رستم''کا ایک مکالمہ ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارے اس پانامے کے شاہنامے کا ''رستم'' کون ہے؟ اگر نہیں جانتے تو ہم بات کو ذرا آگے بڑھاتے ہیں پھر سب کو پتہ چل جائے گا کہ ''رستم'' کون ہے اور افراسیاب کون ہے۔ سچوئیشن یوں ہے کہ رستم نے افراسیاب سے لڑائی چھیڑ رکھی ہے اس دوران کچھ لوگوں نے ''صلح'' کا ڈول ڈالا اور رستم نے اپنی شرائط ایک وفد کے ذریعے افراسیاب شاہ توران کو بھیج دیں۔ اس درمیانی وقت میں بات چیت کے دوران کسی نے رستم سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں افراسیاب کا جواب کیا ہو گا؟ یہیں پر فردوسی نے ''رستم'' کے منہ سے وہ مشہور و معروف مکالمہ نکلوایا ہے کہ

وگرنہ بکام من آمد جواب

من و گرز و میدان و افراسیاب

یعنی اگر میری مرضی کا جواب نہیں آیا تو پھر میں ہوں گا، میرا ''گرز'' ہو گا میدان جنگ ہو گا اور افراسیاب ہو گا، لیکن پانامے کے شاہنامے میں تھوڑی تبدیلی آگئی ۔ افراسیاب کی طرف سے جو جواب آیا ... اس پر پہلے تو رستم نے خوب خوب خوشی منائی مٹھائیاں کھائیں کھلوائیں اور بٹوائیں، گویا ''جواب'' اس کے ''کام'' کا آیا تھا لیکن بعد میں جب ''پئے مشورہ'' مجلس آراستہ ہوئی اور نشستند و گفتند و برخواستندکا مرحلہ تمام ہوا تو ''رستم'' کو ہوش آیا کہ وہ ''بکام من'' جواب تو آیا ہی نہیں جو افراسیاب کے تخت چھوڑنے کا تھا، تب پھر اس نے

''من وگرز و میدان و افراسیاب''

کا سلسلہ شروع کر دیا اور پہلے سے بھی کچھ زیادہ زور شور سے پانامے کا پاجامہ ادھیڑنے اور سینے کا شغل شروع کر دیا ہے، اس سارے معاملے میں کوئی ہماری بات پر کان دھرے لیکن مشکل ہے کہ ''افراسیاب'' کے مشیروں میں ہم شامل نہیں ہیں کیوں کہ اس پوسٹ کے لیے کوالی فائی کی شرائط بڑی سخت ہیں، لیکن پھر بھی ہم اپنی عادت سے مجبور ہیں اور ''افراسیاب'' کو مشورہ دیے بغیر نہیں رہیں گے چاہے وہ مانے یا نہ مانے، اور وہ مشورہ یہ ہے کہ ذرا رستم کی یہ آرزو بھی پوری کر دو جسے وہ ''بکام من'' کی شکل میں ایک زمانے سے پال رہا ہے نہ صرف اس کی ''بکام من'' پوری ہو جائے گی اور تمہیں بھی یہ ہر وقت ۔۔۔ ''من وگرز و میدان و افراسیاب'' سے چھٹکارا مل جائے گا اور اب تو یہ بات ثابت بھی ہو گئی ہے کہ رستم چاہے کچھ بھی ہو جائے نہ تو کبھی گرز رکھیں گے نہ میدان سے ہٹیں گے ۔

ابھی یہ جو تازہ ترین جواب از جانب افراسیاب آیا ہے اس پر تو وہ بار بار کہہ بھی چکے ہیں کہ ہمیں جو فیصلہ ہوا منظور ہو گا اور پھر اس پر صاد کرتے ہوئے مٹھائیاں بھی بانٹیں لیکن پھر سب نے دیکھا کہ ''میدان'' میں کیا ہوا ۔۔۔۔ اور من گرز و میدان و افراسیاب کے نعرے کتنے اونچے پر لگے، ٹھیک ہے میدان میں ''گرز'' نہیں چلا لیکن اب ''بڑے میدان'' میں کیا کرو گے؟ کیا اس سے بہتر نہیں کہ بچے کی یہ چھوٹی سی آرزو پوری کی جائے اور افراسیاب کی طرف سے ''بکام من'' جواب آجائے، ایک آدھ سال کی تو بات ہے آپ کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور ''رستم'' خوش ہو کر ''گرز'' پھینک دے گا۔