انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے

جب سے انتہاپسندی اور جنونیت طاقتور ہوئی ہے، ہر سال کئی بے گناہ اس جنونیت کا شکار ہوجاتے ہیں


Dr Tauseef Ahmed Khan May 06, 2017
[email protected]

راشد رحمن ایڈووکیٹ 7 مئی 2014ء کو ملتان میں انسانی حقوق کمیشن کے دفتر میں موجود تھے۔ یہ ان کا معمول تھا۔ وہ اس وقت دفتر میں غریبوں کو مفت میں قانونی مدد فراہم کرتے تھے۔ اس شام بھی معمول کی صورتحال تھی۔ ملتان میں مئی کی گرمیاں قیامت کی ہوتی ہیں۔ اس دن بھی شدید گرمی تھی۔ راشد ان دنوں پریشان تھے۔

انسانی حقوق کمیشن (H.R.C.P) کے مرکزی ہیڈ کوارٹر نے انھیں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کے اعانتی استاد کا مقدمہ سپرد کیا تھا۔ اس لیکچرار کے خلاف سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد وائرل کرنے کا مقدمہ درج تھا۔ یہ لیکچرار جیل میں بند تھے اور مقدمہ جیل میں چل رہا تھا۔ ایک ایماندار اور پروفیشنل وکیل کی حیثیت سے وہ اس مقدمے کی پیروی کررہے تھے۔ مختلف گروہوں نے راشدپر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ مقدمے سے علیحدہ ہوجائیں۔ جیل میں معزز جج کے سامنے مخالف وکلا اور ان کے حامیوں نے راشد رحمن کو دھمکیاں دی تھیں۔

راشد نے ضلعی پولیس افسر کو ان دھمکیوں کے بارے میں تحریری اطلاع دی تھی۔ راشد کا کہنا تھا کہ فیصلہ عدالت کوکرنا ہے، وہ قانونی نکات پر وکالت کررہے ہیں، مگر بعض عناصر کے لیے راشد کی وضاحت اطمینان بخش نہیں تھی۔ اس طرح کہیں راشد کی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ دو نامعلوم افراد کلاشنکوف سے مسلح دفتر میں داخل ہوئے اور راشد کے سر اور سینے کو نشانہ بنایا اور اطمینان سے فرار ہوگئے۔ راشد کو نشتر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

جب سے انتہاپسندی اور جنونیت طاقتور ہوئی ہے، ہر سال کئی بے گناہ اس جنونیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کراچی کے ڈاکٹر شکیل اوج، ڈاکٹر یاسر رضوی، پروین رحمن، سبین محمود، گجرات کے شیر شاہ، سوات کے ڈاکٹر فاروق، آرمی پبلک اسکول پشاور کے طالب علم، کوئٹہ کے وکلا سمیت کئی ہزار افراد اس مذہبی جنونیت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس جنونیت کا تازہ شکار مشال خان ہوئے، جنھیں ان کے ساتھیوں، ولی خان یونیورسٹی مردان کے ملازمین پر مشتمل ہجوم نے قتل کیا۔

راشد رحمن اور دیگر شہید ہونے والے سب بے گناہ تھے، ان کے خلاف کوئی الزام کبھی ثابت نہیں ہوسکا۔ راشد رحمن کے قتل کی ملک میں اور دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ صدر، وزیراعظم، پنجاب کے وزیراعلیٰ، پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری اور امریکی وزارت خارجہ سمیت بہت سے اداروں نے مذمت کی۔ راشد بنیادی طورپر غریبوں کے لیے کام کرتے تھے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں لوگ آئے۔ یہ سب راشد کی بے گناہی کی دلیل ہے۔ پنجاب کا صوبہ طرز حکومت اور ترقی کے حوالے سے دیگر صوبوں سے بہتر ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف 2008ء سے برسر اقتدار ہیں۔ وہ مسلم لیگ ن کے دوسرے دور میں بھی اس عہدے پر فائز تھے۔ شہباز شریف فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ پنجاب پولیس سیاسی مداخلت سے آزاد ہے اور پولیس افسران میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں۔ راشد رحمٰن کے قتل کے بعد دستیاب دستاویزات کے مطالعہ سے ظاہر ہوا کہ راشد نے خطرے کی بو سونگھ لی تھی اور ملنے والی دھمکیوں کی تحریری اطلاع خصوصی عدالت کے جج اور متعلقہ ڈی پی او کو دی تھی۔ متعلقہ افراد نے اس معاملہ کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔ راشد کے قتل کے بعد پولیس افسروں نے اس کیس کو سلجھانے کے لیے مختلف نوعیت کے دعوے کیے۔

سینیٹ کی انسانی حقوق کمیشن نے راشد کے قتل کا نوٹس لیا اور متعلقہ پولیس افسروں کو طلب کیا گیا۔ متعلقہ افسروں نے ایک طے شدہ بیان کمیٹی کے سامنے پڑھا جس میں ملتان کے مضافات میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے شخص کو راشد کا قاتل قرار دے دیا اور ایک اور ملزم کو مفرور بتایا گیا۔ یوں پولیس فائل خاموش ہوگئی۔

پنجاب کی حکومت پولیس اور دیگر اداروں کو اس قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے اور قتل کی سازش میں ملوث افراد کا پتہ لگانے کے لیے متحرک کرنے میں ناکام رہی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کبھی راشد رحمن کے قتل کے معاملے میں تحقیقات میں دلچسپی نہیں لی اور نہ ہی کبھی میڈیا کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ راشد کے قتل سے ان کے اہل خانہ، رشتہ داروں اور دوستوں کو ہی نقصان نہیں ہوا بلکہ سیکڑوں مظلومین بھی اپنے مخلص وکیل سے محروم ہوگئے۔

راشد کے خاندان نے پنجاب میں ترقی پسند تحریک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ متحدہ پنجاب میں ان کے دادا عبدالرحمن ایڈووکیٹ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما مطلبی فرید آبادی کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ مطلبی فرید آبادی عبدالرحمن صاحب کے پلول کے گھر میں انڈرگراؤنڈ رہتے تھے۔ عبدالرحمن مولانا عبدالکلام آزاد کے چاہنے والوں میں سے تھے۔ راشد نے والد اشفاق احمد خان ایڈووکیٹ اپنے چچا عبدالرحمن ایڈووکیٹ سے متاثر تھے۔ ان کی تربیت میں اختر رحمن (آئی اے رحمن) کا خاصا حصہ تھا۔

اشفاق احمد خان نے آزاد پاکستان پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور پھر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے جنوبی پنجاب میں مزدور، کسان اور سیاسی کارکنوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ان سیاسی کارکنوں میں شامل تھے جنھوں نے جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء ادوار میں طویل عرصے تک قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ راشد ذہنی طور پر اپنے دادا عبدالرحمن اور اختر رحمن سے متاثر تھے۔ راشد رحمن شروع سے ہی مظلوموں کی داد رسی کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ ان کے ساتھی وکیل کا کہنا ہے کہ راشد صرف غریبوں کے مقدمات مفت میں ہی نہیں لڑتے بلکہ انھیں اپنی جیب سے کرایہ بھی دیتے ہیں۔

ایک صحافی نے اس موقع پر کہا تھا کہ راشد کے قتل سے جنوبی پنجاب میں مظلوموں کے لیے اٹھنے والی آواز خاموش ہوگئی مگر معاملہ راشد کی موت تک تھما نہیں بلکہ مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کے قتل کا سلسلہ جاری ہے۔

بعض سماجی ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی انتہاپسندی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کے کئی مقاصد ہیں۔ ان مقاصد میں ایک مقصد یہ ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کی سطح معاشرے میں کم نہیں ہونی چاہیے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس ہتھیار کو ہر اس شخص کے خلاف استعمال کیا جائے جو سماجی تبدیلی پر یقین رکھتا ہے اور سماجی تبدیلی کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔ ان عناصر کو یہ خوف ہے کہ ترقی پسندانہ خیالات کی ترویج سماجی تبدیلی کے عمل کو تیز تر کرنے والے عناصر کے زندہ رہنے سے ان کے عزائم خاک میں مل جائیں گے۔

یہ عناصر معاشرے کو پتھر کے زمانے میں لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر معاشرے کو فرقہ وارانہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے سماجی تبدیلی کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔ ترقی پسندانہ نظریات اور سماجی تبدیلی سے غربت و افلاس کا خاتمہ ہوگااور ملک ترقی کرے گا۔ راشد کے چاہنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ راشد کے قاتلوں کو سزائیں نہیں ملیں گی۔ ریاستی ادارے اس انتہاپسندی کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ان کے مفاد میں انتہاپسندی کا خاتمہ اور سماجی کارکنوں کے قاتلوں کو سزا دلوانہ نہیں ہے مگر راشد کے چاہنے والے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ذہنوں کی تبدیلی سے ہی انتہاپسندی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

ذہنوں کی تبدیلی کا عمل ریاست کی اعلیٰ سطح سے خاندان تک ضروری ہے۔ ذہنوں کی تبدیلی کے لیے ہر سمت کوشش کرنی چاہیے۔ سنیٹر فرحت اﷲ بابر نے سینیٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ راشد رحمن کو اعلیٰ ترین ریاستی ایوارڈ دیا جائے۔ مسلم لیگ کی اس حکومت میں یہ ممکن نہیں ہے، مگر ذہنوں کی تبدیلی کا عمل سب کچھ تبدیل کرسکتا ہے۔7 مئی کی صبح ایک نئی امید کے ساتھ طلوع ہوگی۔ آئیے اس دن سے انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد تیز کردیں۔