کارل مارکس اور سگمنڈ فرائیڈ
دراصل کارل مارکس فلسفی دانشور ہونے کے باوجود ایک بڑے مغالطے کا شکار ہوئے تھے
ہم اکثر کالموں میں سرمایہ داری اور سرمایہ دارانہ نظام کی بات کرتے ہیں لیکن یہ وہ سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہے جس کے مقابل سوشلزم اور کمیونزم کا نام لیا جاتا بلکہ جس سرمایہ دارانہ نظام کی بات ہم کرتے ہیں، اس میں سوشلزم یا کمیونزم اسی کا ایک روپ اور بدلی ہوئی شکل ہے۔
دراصل کارل مارکس فلسفی دانشور ہونے کے باوجود ایک بڑے مغالطے کا شکار ہوئے تھے۔ ان کی ''داس کیپٹل'' اچھی طرح پڑھنے اور سمجھنے کے بعد صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کو صرف ایک جسم سمجھتے ہیں اور اس کی جسمانی اور مادی ضروریات، تقاضوں اور مشکلات پر بات کرتے ہیں لیکن روحانیت اور مابعد الطبیعات کو بھی بیچ سے نکالا جائے تو بھی انسان صرف ایک جسم نہیں ہے، اس کے پاس ذہن ایک ایسی چیز ہے جو اس جسم سے قطعی الگ ہے، اس کی اپنی ایک دنیا ہے، اپنے مسائل ہیں اور تقاضے ہیں۔
کارل مارکس ہی کے ہم عصر سگمنڈ فرائیڈ نے اسی دوسری چیز پر توجہ دی اور جسم کو اس کے مقابل صفر کر کے ثابت کیا ہے یا کرنے کی کوشش کی ہے، یوں سمجھیے کہ یہ دونوں عالم انسان کو پورا نہیں بلکہ آدھا سمجھتے ہیں اور اس آدھے کو پورا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، سگمنڈ فرائیڈ کے نزدیک انسان کا جسم، اس کے افعال و اشغال رجحانات و میلانات سب کچھ ''ذہن'' کے تابع اور بیکار محض ہیں جب کہ مارکس انسان کو عین ایک جانور کی طرح صرف جسم اور جسمانی ضروریات سمجھتے ہیں۔
ایک نے ایک پہلو کو انتہاء تک پہنچا دیا ہے اور دوسرے نے دوسرے پہلو کو ۔ یا یوں کہیے دونوں نے انسان کو آدھا آدھا کر کے دیکھا ہے یا جزو کو کل سمجھ بیٹھے ہیں لیکن اصل حقیقت اور مکمل انسان کچھ اور ہے، اس کا ذہن اور جسم دونوں مل کر انسان بنتے ہیں۔
ایک کے بغیر دوسرا اور دوسرے کے بغیر بیکار محض ہے ، یہاں ہم روحانیات اور مابعد الطبیعات یعنی روح کو چھوڑ کر اور مذہبی اصطلاحات کو ترک کر کے بات کر رہے ہیں، کارل مارکس کے مطابق تو سب کچھ مادہ ہے اور صرف وہی حقیقت ہے جو مادے کی ہے اور انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے اسی مادے سے اخذ کیا ہوا ہے ۔ یہ خیالات اور تصورات بھی مادی چیزوں کو دیکھ کر پیدا ہوتے ہیں، ان کا الگ کوئی سرچشمہ یا منبع نہیں ہے۔
کارل مارکس کے نظریے یا فلسفے کی یورپ میں کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ یورپ میں تو کلیسا کرپشن، لوٹ مار اور استحصال کرنے والوں کا اتحادی بن گیا تھا۔ اس لیے کارکن مارکس کے فلسفے کی پذیرائی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا ردعمل ہونا لازم ہے لیکن ردعمل انتہاء تک پہنچ کر عمل سے زیادہ طاقتور ہو جائے، اگرچہ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے لیکن غلط ہوتا آیا ہے کہ بات ایک انتہاء کو پہنچتی ہے تو ردعمل کے طور پر دوسری انتہاء تک جا پہنچتی ہے، ہم اس وقت صرف یہ بات کر رہے ہیں کہ کیا انسان صرف جسم ہے اور اس کی ضروریات اور تقاضے صرف مادی ہیں؟
لیکن ہم اگر مابعد الطبیعاتی پہلو بھی لے لیں تو کائنات میں صرف مادہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ توانائی بھی ہوتی، مادہ اور توانائی کی یہ مجبوری ہے کہ ایک کے بغیر دوسرا بے کار محض ہوتا ہے یعنی منفی کے بغیر مثبت اور مثبت کے بغیر منفی کچھ بھی نہیں ہے، کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی کام کوئی تخلیق کوئی حرکت ہوتی ہے تو مادہ اور توانائی کے باہم ملنے کے بغیر ممکن نہیں، انسان چلتا ہے پھرتا ہے کام کرتا ہے باتیں کرتا ہے اس لیے کہ اس کے اندر توانائی ہوتی ہے۔
اب اس توانائی کو روح کہئے، ذہن کہئے کچھ بھی کہئے اپنا وجود تو یقیناً رکھتی ہے کیوں کہ اس کے الگ ہونے یا نہ ہونے کے باعث وہی جسم کچھ بھی کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے وہی ہاتھ پیر وہی آنکھیں کان اور زبان غیر فعال غیر متحرک ہو جاتے ہیں اب وہ چیز جو پہلے اس کے اندر تھی اور اب نہیں رہی ہے اسے نہ تو دیکھا جا سکتا ہے نہ ناپا جا سکتا ہے نہ ہی کسی بھی اور ذریعے سے ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن تھی تو ضرور اور ہے بھی ضرور، آنکھوں کانوں ہاتھوں وغیرہ سے نہ سہی لیکن افعال سے تو اپنا وجود ثابت کرتی ہے آخر وہ چیز کیا ہے اور کیا تھی؟
یا ہو سکتی ہے انکار کرنے کا تو ہمارے پاس آپشن ہی نہیں ہے اس چیز کو طبیعات والے انرجی یا توانائی کہتے ہیں جو بے جان مادے کو جاندار میں بدلتی ہے، تاریکی سے روشنی بناتی ہے اور مابعد الطبیعات والے اسے روح کہتے ہیں، مادے اور توانائی کا یہ سنگم صرف انسان یا جانداروں ہی میں نہیں بلکہ بے جان چیزوں میں بھی ہوتی ہے بجلی کا بلب، کوئی مشین، کوئی آلہ اس وقت تک بیکار ہوتا ہے جب تک اس میں مادہ اور توانائی یا منفی اور مثبت یکجا نہیں ہوتے، بجلی کے دو تار ساتھ ساتھ چلتے ہیں ایک منفی اور ایک مثبت، کھول کر دیکھیے ان میں کوئی کرنٹ نہیں دکھائی یا سنائی نہیں دیتا نہ یہ روشن ہوتے ہیں نہ متحرک ۔۔۔۔ لیکن یہی کرنٹ جب کسی محدود مادی الے میں مصروف طریقے پر یکجا ہوتے ہیں توہزاروں کام کر دیتے ہیں۔
یہ بھی ہے کہ یہی ''کرنٹ'' مادی تار کے بغیر چل بھی نہیں پاتا، انسان کے اندر بھی مادے اور توانائی کا یہی ملن ہی سب کچھ ہوتا ہے اور انسان کو زندہ اور متحرک رکھنے کے ان دونوں کا موجود ہونا بھی ضرورت ہے اور معروف پر یکجا ہونا بھی ضروری ہے، کارل مارکس اور سگمنڈ فرائیڈ دونوں غلطی پر ہیں کہ وہ ان دونوں کو جان تو گئے لیکن ان دونوں کے باہمی ملن اور ایک دوسرے پر انحصار اور تعلق کا راز نہیں پا سکے یعنی انسان کو آدھا آدھا تو دیکھ سکے مگر مکمل انسان تک نہیں پہنچ پائے۔