ایف بی آر نے ٹیکس ہدف کا حصول یقینی بنانے کیلیے ایمرجنسی لگا دی

فیلڈفارمشنزکوٹیکس نادہندگان سے ریکوری کیلیے کھاتے منجمد کرکے رقوم نکلوالنے ودیگرسخت ترین اقدامات کی ہدایت


Irshad Ansari May 10, 2017
گزشتہ سال کے مقابل کم ادائیگیوں پر 3 ہزار افراد کی فہرستیں بھی ٹیکس دفاترکو فراہم، چھان بین اور چوروں سے واجبات جرمانے سمیت لینے کاحکم فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2016-17 کیلیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف کا حصول یقینی بنانے کیلیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے جس کے تحت 13 مئی سے ملک بھر میں ایف بی آر کے ماتحت اداروں میں ہفتہ کی تعطیل ختم کردی گئی ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے ملک بھر میں تمام لارج ٹیکس پیئر یونٹس اور ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز)کو خصوصی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی کیلیے مقرر کردہ بجٹری ریونیو ٹارگٹ کے حصول کو یقینی بنانے کیلیے کوششیں تیزکی جائیں اور اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں۔ دستاویز میں تمام ماتحت اداروں کے سربراہاں سے کہا گیا ہے کہ 13 مئی سے 30 جون 2017 تک ہفتہ کے روز بھی تمام ماتحت ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اوران دفاتر میں معمول کے مطابق کام ہوگا۔

اس بارے میں جب ایف بی آر کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے ریونیو ٹارگٹ کے حصول کو یقینی بنانے کیلیے ایمرجنسی لاگو کی ہے کیونکہ اس مربہ رمضان المبارک اور عیدالفطر جون میں آرہے ہیں اورریونیو کے لحاظ سے یہ ماہ ایف بی آر کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے پاس چونکہ ورکنگ ڈے کم ہیں اس لیے یہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے فیلڈ فارمشنز سے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں جن 3 ہزار سے زائد ٹیکس دہندگان نے کم ٹیکس جمع کرایا ہے ان کیخلاف بھی کارروائی کو تیز کیا جائے اور جہاں جہاں ٹیکس کی ڈیمانڈ کی گئی ہے ۔

اس کی ریکوری کو یقینی بنایا جائے، جو لوگ ٹیکس واجبات ادا نہیں کررہے ان کے نہ صرف بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے بلکہ ان کیخلاف قانون کے مطابق آرڈر پاس کر کے ان کے بینک اکاؤنٹس سے ٹیکس واجبات کی رقوم بھی نکلوائی جائیں گی، اس کے علاوہ بھی مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز رحمت اللہ وزیر نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی جارحانہ حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کررکھا ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں بہتر ہوئی ہیں مگر ریونیو شارٹ فال زیادہ ہونے کی وجہ سے مزید ہنگامی اقدامات کی ضرورت تھی جس کے تحت ماتحت اداروں میں ہفتہ کی تعطیل ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ممبر آپریشنز نے اپریل تا جون میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولیوں کو یقینی بنانے کیلیے ود ہولڈنگ ٹیکس کی موثر مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ کو زیادہ سخت بنانے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں، ایف بی آر ماہانہ بنیادوں پر ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کا تجزیہ بھی کر رہا ہے، گزشتہ ماہ یا گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس دینے والوں کی نگرانی کی جارہی ہے، اسی موازنے کے تناظر میں 3 ہزار سے زائد ایسے ٹیکس دہندگان کی فہرست مرتب کی گئی ہے جنہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس ادا کیا ہے۔

ایف بی آر نے ان ٹیکس دہندگان کی فہرستیں فیلڈ فارمشنز کو بھجوا دی ہیں اور انہیں ہدایت کی ہے کہ کم ٹیکس ادا کرنیوالے ٹیکس دہندگان کے بارے میں چھان بین کی جائے، ٹیکس چوری میں ملوث لوگوں کیخلاف کارروائی کی جائے اور ٹیکس واجبات جرمانے کے ساتھ وصول کیے جائیں۔ یاد رہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں جولائی سے مارچ تک ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد کا ریونیو شارٹ فال آیا جسے ممکنہ حد تک کم کرنے کیلیے سرتوڑکوششیں کی جا رہی ہیں، اس سلسلے میں جارحانہ اسٹریٹجی کے تحت اقدامات سے 50ارب روپے کااضافی ریونیو ملنے کا امکان ہے۔