کیا میتھی کے ان فوائد سے آپ واقف ہیں

میتھی کے پتوں اور بیجوں کا استعمال آپ کو ایک دو نہیں بلکہ درجنوں بیماریوں سے بچاتا ہے


ویب ڈیسک May 11, 2017
میتھی کے پتوں اور بیجوں کا استعمال آپ کو ایک دو نہیں بلکہ درجنوں بیماریوں سے بچاتا ہے، فوٹو؛ فائل

میتھی کے پتے اور بیج صدیوں سے ہمارے کھانوں کو ذائقے دار بنارہے ہیں لیکن جدید تحقیق سے میتھی کے ایسے حیران کن پہلو سامنے آئے ہیں جو جگر سے لے کر کھال تک کےلیے بہت مفید ہیں۔

طب مشرق میں میتھی کو بہت پہلے سے ایک اہم پودے کا مقام حاصل ہے مثلاً چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کے لیے میتھی کے بیج پیس کر پیسٹ کی شکل میں جلد پر لگائے جاتے ہیں جب کہ پسا ہوا میتھی دانہ تھوڑے سے پانی میں ملا کر ہفتے میں 2 سے 3 مرتبہ ایک گھنٹے کے لیے سر پر لگایا جائے تو اس سے نہ صرف بال گرنا بند ہوجاتے ہیں بلکہ وہ گھنے اور لمبے بھی ہونے لگتے ہیں۔

اطباء کا کہنا ہے کہ میتھی پیٹ كے کیڑے مارتی ہے، ہاضمہ درست كرتی ہے اور بلغمی مزاج ركھنے والوں کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ قبض کی صورت میں میتھی کا سفوف گڑ میں ملا کر صبح اور شام 5 گرام کی مقدار میں کھایا جائے تو آنتوں کی کارکردگی بحال ہوجاتی ہے اور قبض بھی ختم ہوجاتا ہے جب کہ جگر کو بھی تقویت پہنچتی ہے۔



اس کے علاوہ ذیابیطس (شوگر) اور گٹھیا کے مریض اگر روزانہ ایک گلاس پانی میں میتھی کے پتوں کا 10 گرام پیسٹ حل کرکے استعمال کرتے رہیں تو اس سے یہ دونوں بیماریاں خاصی حد تک کم ہوجائیں گی۔



چہرے پر کیلوں اور مہاسوں کا خاتمہ کرنے کے لیے 4 کپ پانی میں 4 کھانے کے چمچے میتھی دانہ شامل کرکے رات بھر کے لیے رکھ دیں، صبح اس پانی کو چھان کر 15 منٹ تک اُبالنے کے بعد ٹھنڈا کرلیں، یہ پانی روزانہ دن میں 2 مرتبہ چہرے کی جلد پر لگانے سے کیل مہاسے ختم ہوجائیں گے۔



خراب اور بے جان بالوں کے لیے میتھی دانے کی تھوڑی سی مقدار کھوپرے کے تیل میں ڈال کر 2 سے 3 ہفتوں کےلیے چھوڑ دیں لیکن خیال رہے کہ تیل کی یہ بوتل بند ہو اور ایسی جگہ رکھی ہو جہاں دھوپ کا گزر نہ ہو۔ اس کے بعد یہ تیل ہفتے میں 3 بار سر میں لگانے پر بالوں کی قدرتی خوبصورتی، موٹائی اور چمک دمک بحال ہوجائے گی جب کہ وہ زیادہ تیزی سے بڑھنے بھی لگیں گے۔



وہ افراد جنہیں دل کے دورے کا خطرہ ہو، اگر وہ بھی صحت بخش غذا کے ساتھ میتھی دانے کا استعمال جاری رکھیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑی حد تک ٹل جاتا ہے اور خدانخواستہ اگر کبھی دل کا دورہ پڑ بھی گیا تو اس سے دل کو پہنچنے والا نقصان کم سے کم رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ میتھی کا استعمال خون کی رگوں میں نرمی بحال کرتا ہے اور ان کی قدرتی لچک واپس لاتا ہے۔



جگر کے لیے بھی میتھی کی حیثیت اکسیر سے کم نہیں کیونکہ یہ جسم سے زہریلے مادوں کی صفائی میں جگر کی مدد کرتی ہے اور یوں ہمارے جسم میں فاسد مادے جمع ہونے نہیں پاتے۔ اس طرح ہم ایسی درجنوں بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں جو جسم میں فاسد مادوں کی موجودگی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔



موٹاپے اور زائد وزنی کے شکار (اوورویٹ) افراد بھی اگر روزانہ 3 مرتبہ صرف 350 ملی گرام میتھی دانہ 2 سے 6 ہفتوں تک روزانہ استعمال کرتے رہیں تو اس سے جسمانی چربی کم ہونے لگے گی جب کہ میتھی کے باعث بھوک جلدی ختم ہوجاتی ہے اور کم کھانے کے نتیجے میں بھی آپ کا وزن قابو میں رہتا ہے۔

ویسے تو کینسر سے بچاؤ اور کولیسٹرول کم کرنے میں بھی میتھی کے فوائد بیان کیے جاتے ہیں لیکن جدید تحقیقات سے اس بات کی واضح تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔