اسکول پر قبضہ لینڈ مافیا کیخلاف رپورٹ درج کرانے والا آفسرکام سے فارغ

پولیس سے رابطہ کیوں کیا،اعلیٰ شخصیت کی احمد نیازی سے ناراضگی،پولیس نے اساتذہ و طلبا کو روک لیا.


Staff Reporter January 24, 2013
اسکول کی فروخت کے مرکزی کردار اکبر علی شیخ کی اعلیٰ شخصیت کی ایما پر اے ڈی او کا چارج سنبھالنے کی کوشش، عملے نے تعاون نہ کیا۔ فوٹو: فائل

KARACHI: منیبہ گورنمنٹ سکینڈری اسکول کی عمارت پرقبضہ کرنے والی نجی پارٹی کے خلاف ایف آئی آردرج کروانے کی کوشش کرنیوالے افسرکوعملی طورپرکام سے روک دیا گیا ہے۔

صوبے کی ایک اعلیٰ شخصیت نے ایف آئی آرکے لیے پولیس سے رابطہ کرنے پر ڈی او ہیڈ کوارٹر احمد نیاز نیازی سے ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے انھیں دفترجانے سے روک دیاہے جس کے سبب وہ دو روز سے سوک سینٹرمیں قائم اپنے دفترنہیں گئے،اعلیٰ شخصیت نے ڈی او ہیڈکوارٹر کو فون کرکے کہاکہ وہ کس کے احکامات پرایف آئی آر کے لیے پولیس کے پاس گئے ہیں اب وہ اس عہدے سے خود کو فارغ سمجھیں ڈی او ہیڈکوارٹر نے انھیں کام سے روکے جانے اورایک اعلیٰ شخصیت کی جانب سے اس گفتگوکی تصدیق کی۔

واضح رہے کہ ڈی او ہیڈکوارٹرکوایف آئی آردرج کرنے کے احکامات صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے دیے تھے دوسری جانب گلبرگ پولیس کی جانب سے اسکول کی عمارت محکمہ تعلیم کوحوالے نہ کیے جانے کے سبب منیبہ گورنمنٹ اسکول میں آٹھویں روز بھی تدریسی عمل شروع نہیں ہوسکا، بدھ کو بھی گلبرگ پولیس نے طلبا اور اساتذہ کو اسکول کی عمارت کے اندرجانے سے روک دیا اور اسکول میں تالے ڈالے رکھے منیبہ اسکول کے طلبا نے اپنی تعلیم کی بحالی کے لیے مسلسل تیسرے روز بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔



ان کا کہنا تھا کہ ان کو پولیس اسکول جانے نہیں دے رہی دروازے پر تالے ڈال رکھے ہیں، ادھر منیبہ میموریل اسکول کی عمارت لینڈمافیا کے حوالے کرنے کے مرکزی کردار اور دادو کے سرکاری اسکول کے سابق ہیڈ ماسٹر اکبر علی شیخ نے محکمہ کی ایک اعلیٰ شخصیت کے احکامات کی روشنی میں بدھ کو اے ڈی او گلبرگ کے عہدے کاچارج دوبارہ سنبھالنے کی کوشش کی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیجوہو نے علی اکبر شیخ کو اسکول لینڈ مافیا کے حوالے کرنے اور ایف آئی درج نہ کروانے پر عہدے سے ہٹادیا تھا مگر بدھ کو وہ ایک وزیر کے حکم پر دفتر آئے تاہم عملے نے ان سے تعاون نہیں کیا عملے کا موقف تھا کہ سیکریٹری تعلیم نے انھیں ہٹاکر عبدالطیف مغل کو اے ڈی او گلبرگ مقرر کردیا ہے لہٰذا وہ کسی فائل کو ہاتھ نہ لگائیں۔